کراچی ، لندن ، بغداد(نیوز ڈیسک، اے ایف پی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حوثیوں کیخلاف فوجی امداد کیلئے یمنی صدر شاد العلیمی کی درخواست پر معذرت کرلی ہے،برطانوی نیوزا یجنسی کے مطابق دونوں صدور کے درمیان ٹیلی فون پر گفتگو میں یمنی صدر نے فوجی امداد کی درخواست کی تھی،دوسری جانب نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر امریکی و ایرانی صدور کی متوقع ملاقات کے پیش نظر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر گئیں،خام تیل برینٹ کی قیمت 4.0 فیصد گر کر 99.69 ڈالر پر آ گئی، جبکہ امریکی تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 5.0 فیصد کی کمی کے ساتھ 95.22 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔ پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے کہا ہے کہ اگر امریکا نے اس کے خلاف نیا حملہ کیا تو ایران نئے ہتھیار استعمال کرے گا اور ان مقامات کو نشانہ بنائے گا جن پر پہلے حملہ نہیں کیا گیا تھا۔برطانوی بحری سکیورٹی ایجنسی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں دو آئل ٹینکرز کو یا تو کسی نامعلوم میزائل یا اس کے ملبے نے نشانہ بنایا ہے۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتیرس نے کہا ہے کہ وہ ایران جنگ کے خاتمے کیلئے پاکستان سے رابطے میں ہیں، ان کے ترجمان نے بتایا کہ انتونیو گوتیرس نے جون میں ہونے والےجنگ بندی معاہدے میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے اسے ایک "عظیم کامیابی" قرار دیا۔امریکی وزیر خزانہ سکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ منگل سے دنیا بھر کی فضائیں تمام ایرانی ایئر لائنز کے لئےبند کر دی جائیں گی۔اس اعلان کے بعد عراق نے کہا ہے کہ وہ آج سےملک بھر میں ایرانی ایئر لائنز کی پروازیں معطل کر دے گا۔ایران کی سرکاری فضائی کمپنی ایران ایئر نے امریکی پابندیوں کی دھمکی کے باوجود عراق کے شہر نجف کے لئےپروازیں جاری رکھنے کا اعلان کردیا۔ایران ایئر کے شعبہ تعلقات عامہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ تہران، مشہد اور اصفہان سے عراق کے شہر نجف جانے والی پروازیں پہلے سے طے شدہ شیڈول کے مطابق چلتی رہیں گی۔یمنی حکومتی فورسز کا کہنا ہے کہ انہوں نے باب المندب کے قریب اور دارالحکومت صنعاء کے جنوب میں واقع البیضاء کے علاقے میں حوثی جنگجوؤں اور ان کی سپلائی لائنوں پر حملے کئے ہیں۔ایران کے آرمی کمانڈر میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا ہے کہ ان کی افواج امریکا یا اسرائیل کے کسی بھی نئے حملے کا مقابلہ کرنے کے لئے "مکمل طور پر تیار، بیدار اور چوکنا" ہیں۔تفصیلات کے مطابق برطانوی نیوز ایجنسی نے چار مختلف ذرائع کے حوالےسے بتایا ہے کہ ٹرمپ نے یمنی صدرسے ٹیلی فون پر بات چیت کی، جس میں ایک اہم عالمی بحری گزرگاہ کے ارد گرد ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی پیش قدمی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔علیمی نے اپنی حکومت کے لئے حوثیوں کے خلاف جنگ میں امریکی امداد کی درخواست کی۔دو ذرائع (جن میں سے ایک یمنی اور ایک مغربی ہے) نے بتایا کہ ٹرمپ نے کال کے دوران فوجی امداد کی کوئی براہ راست ضمانت نہیں دی۔وائٹ ہاؤس اور یمن کے وزیر اطلاعات نے تبصرے کی درخواستوں کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔