سکھر، ملتان (ایجنسیاں، نمائندہ جنگ) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت راستے بند کرکے عوام کو اسلام آباد پہنچنے سے نہیں روک سکتی، عوام سے بھاری ٹیکس وصول کرکے حکومت اپنی کرپشن، نااہلی اور شاہانہ اخراجات کا بوجھ غریبوں پر منتقل کررہی ہے ، پٹرولیم لیوی فوری طور پر ختم کی جائے،ایک لیٹر پٹرول پر 135 روپے ٹیکس وصول کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں، مہنگائی سے پسے عوام کا پیسہ حکمرانوں کی عیاشیوں پر خرچ کیا جا رہا ہے، ٹرین کو جان بوجھ کر تاخیر کا شکار کیا گیا، عوامی مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں سکھر میں پریس کانفرنس اور بہاولپور ریلوے اسٹیشن پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ قبل ازیں سپر ٹرین مارچ کے شرکاء کا حیدرآباد، ٹنڈوآدم، روہڑی اور بہاولپور کے ریلوے اسٹیشنوں پر والہانہ استقبال کیا گیا۔ اسکے بعد جب وہ ملتان پہنچے، تو ہزاروں کارکنوں اور عوام نے ان کا استقبال کیا اور نعرے لگائے۔ امیر جماعت اسلامی نے حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کنٹینر نہ لگاؤ، عوام کو ریلیف دو۔ شہروں کو بند نہ کرو، انسانوں کی شاہراہیں، معیشت کی شاہراہیں، تعلیم اور روزگار کی شاہراہیں کھولو۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پٹرولیم لیوی عوام پر بھتہ ٹیکس ہے۔ عالمی منڈی میں پٹرول کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کا اثر پوری دنیا پر پڑتا ہے، مگر پاکستان میں حکومت اضافی ٹیکسوں کے ذریعے سارا بوجھ عوام پر ڈال دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کا عالمی مارکیٹ کی قیمت سے کوئی تعلق نہیں، اس لیے حکومت اسے ختم کرے تاکہ کرائے اور روزمرہ استعمال کی اشیا سستی ہوسکیں۔ جماعت اسلامی کی تحریک کا واحد مطالبہ پٹرولیم لیوی کا خاتمہ اور عوام کو حقیقی ریلیف دینا ہے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ایف بی آر کے عملے کی کرپشن 1,300 ارب روپے تک پہنچ چکی ہے، جبکہ حکومتی اخراجات بھی کم ہونے کا نام نہیں لے رہے۔