کراچی (اسٹاف رپورٹر) متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے چیئرمین و وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے واضح کیا ہے کہ ہم دھمکی نہیں! بلکہ عقل و منطق پر مبنی دلیل دے رہے ہیں کہ بااختیار انتظامی یونٹس کا قیام اب پاکستان کی بقاء کے لئے ناگزیر ہے، ایوان کے اندر اپنی تمام سیاسی و قانونی حجت تمام کر چکے، اب عوامی فیصلے کی گھڑی آ پہنچی ہے، جس کا تعین سڑکیں کریں گی۔ وہ پیر کو یہاں متحدہ کے مرکز بہادر آباد سے متصل پارک میں سینئر مرکزی رہنماؤں ڈاکٹر محمد فاروق ستار، نسرین جلیل، وسیم اختر، اراکینِ مرکزی کمیٹی اور دیگر راہنماؤں کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کررہے تھے۔اس موقع پر قائد حزبِ اختلاف سندھ اسمبلی علی خورشیدی، حق پرست ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی بھی موجود تھے۔ ایم کیو ایم کے چیئرمین نے کہا کہ گزشتہ روز کراچی کے بیدار و با شعور عوام نے تمام تر جبر اور رکاوٹیں پاش پاش کر کے اپنا فیصلہ سنا دیا، کل کا تاریخی عوامی سمندر مصنوعی اکثریت اور غصب شدہ حقوق کے خلاف ایک ناقابلِ تردید ریفرنڈم تھا، ایم کیو ایم مظلوم اور باالخصوص شہری سندھ کے عوام کی امیدوں کا آخری محور ثابت ہو رہی ہے، ہم نے ہمیشہ شخصیات اور جماعت پر ریاست و مملکت کی سالمیت کو ترجیح دی مگر افسوس کہ ہماری اس سیاسی رواداری اور حب الوطنی کو بھی ہمارے خلاف جرم بنا دیا گیا، 1970ء کے بعد سے شہری سندھ کو مسلسل ناانصافیوں اور استحصال کی چکی میں پیسا جا رہا ہے، لیکن اب شہری علاقوں کو طاقت کے زور پر غلام بنانے کا یہ سلسلہ ہر صورت بند ہونا چاہیئے۔