اسلام آباد(مہتاب حیدر )آئی ایم ایف کے 7 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت پروگرام (EFF) کے تحت عائد شرائط پر عمل درآمد کے لیے وزارت خزانہ نے فیصلہ کیا ہے کہ پارلیمنٹ سے منظور شدہ بجٹ کی حد سے زائد کسی بھی غیر بجٹ شدہ اضافی اخراجات کے لیے سپلیمنٹری گرانٹ پر غور نہیں کیا جائے گا، سوائے شدید قدرتی آفات کی صورت میں۔وزارت خزانہ کے بجٹ ونگ نے رواں مالی سال کے دوران فنڈز کی دوبارہ تخصیص (Re-appropriation) اور اضافی فنڈز کی فراہمی کے لیے حکمت عملی وضع کردی ہے۔ اس کے تحت جہاں مطلوبہ فنڈز دوبارہ تخصیص یا ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ (TSG) کے ذریعے فراہم نہیں کیے جاسکتے، وہاں متعلقہ پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسر (PAO) کو سپلیمنٹری گرانٹ کے حصول کے لیے ٹھوس جواز اور قابل قبول وجوہات فراہم کرنا ہوں گی۔یہ ہدایات اور رہنما اصول رواں اور آئندہ مالی سالوں میں تمام پرنسپل اکاؤنٹنگ افسران، محکموں، اداروں، ماتحت دفاتر اور اکاؤنٹنگ تنظیموں و دفاتر پر لاگو ہوں گے۔