• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سندھ، کاروکاری قرار دے کر 128 افراد قتل، 103 خواتین شامل

کراچی( ثاقب صغیر )سندھ میں غیرت کے نام پر قتل کے واقعات نہ تھم سکے، رواں برس صوبے میں کاروکاری قرار دیکر128افراد کو قتل کر دیا گیا، قتل ہونیوالوں میں103خواتین شامل ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سندھ بھر میں سال 2026کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران کاروکاری کے120کیسز میں128 افراد کو قتل کر دیا گیا۔قتل ہونے والوں میں103 خواتین اور25مرد شامل ہیں۔ کاروکاری قرار دے کر قتل کرنیوالے ملزمان میں 40مقتولین کے شوہر، 13 والد،22بھائی، ایک بیٹی،37دیگر رشتہ دار اور 7پڑوسی ، دوست اور دیگر ملزمان شامل ہیں۔ کاروکاری قرار دے کر قتل کرنے کے واقعات میں مختلف اقسام کے ہتھیار استعمال کیے گئے جن میں3کلاشنکوف/ اسٹین گن، 8شارٹ گن، ایک چھری،22ریوالور /پستول اور دیگر اقسام کے ہتھیار شامل ہیں۔ کاروکاری کے سب سے زیادہ واقعات لاڑکانہ رینج میں رپورٹ ہوئے جن کی تعداد 46 ہے۔کراچی رینج میں 3، سکھر رینج میں 44 ، حیدرآباد رینج میں 11 ، میرپور خاص رینج میں 6 جبکہ شہید بے نظیر آباد رینج میں کاروکاری کے 17 واقعات رپورٹ ہوئے ۔واضح رہے کہ سال 2025 میں ماہ اگست تک سندھ بھر میں کاروکاری کے 124 کیسز میں 105 خواتین سمیت 142 افراد کو قتل کیا گیا تھا۔

اہم خبریں سے مزید