تحریر: نعمان علی دنیا میں جب ایندھن کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو صرف پٹرول ہی مہنگا نہیں ہوتا۔ روٹی، سبزی، دودھ، کرایہ، کاروبار اور روزمرہ زندگی کی ہر چیز اس کی زد میں آتی ہے۔ لیکن سب سے زیادہ دباؤ اس شخص پر پڑتا ہے جس کی آمدن پہلے ہی محدود ہو۔مشرقِ وسطیٰ کی تشویش ناک صورتِ حال اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے نے پاکستان جیسے تیل درآمد کرنے والے ملک کے لیے ایک نئی معاشی مشکل پیدا کی ہے۔ اس مشکل کا پہلا اور براہِ راست اثر اس مزدور، ڈیلیوری رائیڈر، رکشہ ڈرائیور، چھوٹے دکاندار اور کم تنخواہ دار ملازم پر پڑتا ہے جو روزگار کے لیے موٹر سائیکل، رکشہ، چنگ چی یا چھوٹی گاڑی استعمال کرتا ہے۔ان لوگوں کے لیے یہ سواری آسائش نہیں، روزگار کا پہیہ ہے۔پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو اس پہیے کی رفتار کم ہوتی ہے۔ پھر آدمی کو گھر کے بجٹ میں فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ پٹرول پورا کرے، بچوں کی فیس دے، راشن خریدے یا علاج کا خرچ نکالے۔ یہی وہ طبقہ ہے جو اپنی محنت، ہنر، چھوٹے کاروبار، ٹیکس اور روزمرہ خریداری سے ملکی معیشت کا پہیہ چلاتا ہے، مگر ہر معاشی بحران کا بوجھ سب سے پہلے اسی پر پڑتا ہے۔ایسے وقت میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے وزیراعظم خصوصی پیٹرول ریلیف سکیم کا آغاز محض ایک مالی پیکیج نہیں بلکہ اس بات کا اظہار ہے کہ عالمی حالات خواہ کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، حکومت اپنے عام شہری کو نظرانداز نہیں کرسکتی۔پاکستان عالمی تیل کی قیمت طے نہیں کرتا۔ مشرقِ وسطیٰ کے حالات بھی ہمارے اختیار میں نہیں۔ لیکن یہ ضرور ہمارے اختیار میں ہے کہ عالمی بحران کا سارا بوجھ اپنے کم آمدن والے شہری کے کندھوں پر نہ ڈالیں۔اسی لیے اس سکیم کو ٹارگٹڈ انداز میں ان شہریوں تک پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے جن کی روزمرہ آمدن اور سفر پٹرول سے براہِ راست جڑے ہیں۔ موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگ چی استعمال کرنے والے اہل شہریوں کو ہفتہ وار 500 روپے کا ریلیف دیا جارہا ہے، جبکہ 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے لیے ماہانہ 30 لیٹر تک رعایت کا انتظام ہے۔لیکن اس سکیم کی اصل اہمیت صرف 500 روپے نہیں۔اصل اہمیت یہ ہے کہ حکومت نے عوامی فیڈبیک کو سننے اور اس کی بنیاد پر فیصلے تبدیل کرنے کا راستہ اختیار کیا۔ابتدائی طور پر موٹر سائیکل، رکشہ اور چنگ چی کے لیے پانچ لیٹر پٹرول خریدنے کی شرط رکھی گئی تھی۔ عوام نے بتایا کہ کم آمدن والا شخص ہر بار پانچ لیٹر خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ وزیراعظم نے اس فیڈبیک کا نوٹس لیا اور یہ شرط ختم کردی۔ اب پانچ لیٹر سے کم پٹرول خریدنے والا اہل محنت کش بھی ریلیف حاصل کرسکتا ہے۔ذرا سوچئے، جس شخص کی جیب میں ایک وقت میں پانچ لیٹر پٹرول کے پیسے نہیں، اس کے لیے یہ تبدیلی کتنی بڑی ہے۔پھر رجسٹریشن فیس کا مسئلہ آیا۔ وزیراعظم کی ہدایت پر 9771 پر رجسٹریشن SMS مکمل طور پر مفت کردیا گیا، تاکہ ریلیف لینے کے لیے بھی کسی غریب شہری کو اپنی جیب سے رقم نہ دینا پڑے۔اسی طرح ملک بھر سے موصول ہونے والے فیڈبیک کی بنیاد پر 20 سال پرانی موٹر سائیکلوں، رکشوں اور چنگ چی کو بھی سکیم میں شامل کیا گیا۔ اب یکم جنوری 2006 یا اس کے بعد رجسٹرڈ سواری بھی اہل ہے۔یہ بھی ایک اہم حقیقت کو تسلیم کرنا ہے کہ غریب آدمی کی پرانی گاڑی اس کی پسند نہیں، اکثر اس کی مجبوری ہوتی ہے۔اس سکیم کا ایک اور اہم پہلو اس کا ڈیجیٹل نظام ہے۔ شناختی کارڈ، رجسٹرڈ موبائل سم، گاڑی کی معلومات اور منفرد ٹوکن کو باہم منسلک کرکے دہری رجسٹریشن، جعلی دعووں اور غلط استعمال کے امکانات کم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ وزارتِ آئی ٹی کا 24 گھنٹے فعال کنٹرول روم رجسٹریشن، ٹوکن، تصدیق اور شکایات کی نگرانی کررہا ہے۔یہ نظام صرف آج کے ریلیف تک محدود نہیں۔ اگر ذاتی معلومات کے تحفظ کے ساتھ یہ ڈیجیٹل ریکارڈ درست اور محفوظ انداز میں برقرار رہتا ہے تو مستقبل میں حکومت کو معاشی بحران سے متاثرہ شہریوں کی بروقت شناخت اور انہیں براہِ راست، ٹارگٹڈ اور شفاف مدد فراہم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔وزارتِ اطلاعات و نشریات نے بھی ٹی وی، ریڈیو، اخبارات اور ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے ملک گیر آگاہی مہم شروع کی ہے، جبکہ متعلقہ ٹیموں کو پٹرول پمپس پر بھیج کر زمینی سطح پر عوام اور پمپ مالکان سے فیڈبیک حاصل کیا جارہا ہے۔ وزارتِ خزانہ، پٹرولیم ڈویژن، اوگرا، پی ٹی اے، نادرا، این آئی ٹی بی، اسٹیٹ بینک، ضلعی انتظامیہ اور ٹیلی کام آپریٹرز سمیت متعدد اداروں کا تعاون اس نظام کو عملی شکل دے رہا ہے۔آخر میں بات پھر اسی عام آدمی کی ہے۔وہ مزدور جو صبح اپنی پرانی موٹر سائیکل پر کام کے لیے نکلتا ہے۔ وہ رکشہ ڈرائیور جو دن بھر سڑک پر محنت کرتا ہے۔ وہ ڈیلیوری رائیڈر جو ہر آرڈر کے ساتھ اپنا پٹرول بھی جلاتا ہے۔ وہ کم تنخواہ دار ملازم جو مہینے کے آخری دنوں میں ہر روپے کا حساب رکھتا ہے۔عالمی تیل کی قیمت اس کے اختیار میں نہیں۔ عالمی بحران بھی اس کے اختیار میں نہیں۔مگر اس مشکل وقت میں ریاست اس کے ساتھ کھڑی ہے یا نہیں—یہ ضرور اس کی ذمہ داری ہے۔500 روپے کسی امیر آدمی کے لیے شاید معمولی رقم ہو، لیکن جس گھر میں ہر سو روپے کا حساب ہوتا ہے وہاں یہی 500 روپے اگلے دن کام پر جانے کا پٹرول بھی ہوسکتے ہیں اور بچوں کے لیے گھر کا راشن بھی۔اسی لیے وزیراعظم خصوصی پیٹرول ریلیف سکیم کی اصل کہانی 500 روپے کی نہیں، احساس کی ہے۔یہ اس بات کا پیغام ہے کہ عالمی بحران چاہے جتنا بڑا ہو، حکومت کی نظر اس شخص پر ہونی چاہیے جو سب سے کمزور ہے۔بحران ہمارے اختیار میں نہیں، لیکن مشکل وقت میں اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہمارے اختیار میں ضرور ہے۔