ملتان(سٹاف رپورٹر)ایمرسن یونیورسٹی ملتان میں ڈاکٹر قراۃ العین کا راستہ مقفل کرنے پر اساتذہ و سول سوسائٹی میں اضطراب، صوبائی محتسب نے بھی راستہ کھولنے کی ہدایت کر دی،تفصیل کے مطابق خاتون محتسب پنجاب ملتان کے دفتر میں ہونے والی حالیہ تفصیلی سماعت کے بعد اساتذہ برادری، تعلیمی حلقوں اور سول سوسائٹی نے یونیورسٹی کے تعلیمی ماحول کوخراب کرنے‘ طالبات اور خاتون اساتذہ کیلئے غیر محفوظ فضا قائم کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے،اس سے قبل متاثرہ خاتون استاد قرۃالعین نے خاتون محتسب پنجاب کے سامنے پیش ہو کر اپنا موقف پیش کیا، جہاں تقریباً 30 سے 45منٹ تک کیس کی تفصیلی سماعت ہوئی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حسان خالق قریشی، رجسٹرار ڈاکٹر محمد فاروق اور مرزا مراد بیگ کو بذاتِ خود ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا تھا،سماعت کے دوران یونیورسٹی انتظامیہ کے وکلاء نے یہ موقت اپنایا کہ "یہ جنس کی بنیاد پر ہراسانی کا کیس نہیں بنتا" اس پر محتسب کے نمائندے نے واضح کیا کہ پروٹیکشن اگینسٹ ہراسمنٹ آف وومن ایٹ ورک پلیس ایکٹ (2022 ترمیم) کے تحت ہراسانی کی حدود وسیع ہو چکی ہیں۔