• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

56سالہ شاندار خدمات کے باوجود مجھے قومی اعزاز سے محروم رکھا گیا، نثارعادل کا شکوہ

پشاور (جنگ نیوز) سینئر ترین فنکار نثار عادل نے کہا ہےکہ افسوس کا مقام ہے کہ ان سے بہت جونیئر فنکاروں کو صدارتی ایوارڈ برائے حسنِ کارکردگی اور تمغہ امتیاز سے نوازا جا چکا ہے، مگر 56سالہ شاندار خدمات کے باوجود مجھے آج تک کسی بڑے قومی اعزاز سے محروم رکھا گیا۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا، گورنر خیبر پختونخوا، چیف سیکرٹری اور صدر پاکستان سےمطالبہ کیا ہے کہ میرے ساتھ انصاف کیا جائے۔ آج وہ ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں اور سرکاری ٹیلی ویژن کے سکرین سے بھی غائب ہیں۔ انھوں نے کہا کہ2010میں مجھے بہترین اداکار کے ایوارڈ سے نوازا گیا، جو بحیثیت اداکار میری خدمات کا اعتراف تھا۔ اس سب کے باوجود، مجھے تاحال پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ سے نہیں نوازا گیا۔ اس رویے نے مجھے شدید مایوس، دل برداشتہ اور افسردہ کر دیا ہے۔ میری صرف اتنی درخواست ہے کہ میری خدمات کو فراموش یا نظر انداز نہ کیا جائے۔ عوامی حلقوں کےمطابق پشاور کو فن اور ثقافت کا گہوارہ کہا جاتا ہے اور اسی شہر نے ایک ایسا فنکار پیدا کیا جسے لوگ محبت سے "پشاور کا دلیپ کمار" کہتے ہیں۔ میں بات کر رہا ہوں سینئر ترین فنکار نثار عادل کی۔ نثار دل نے 56سال تک سرکاری ریڈیو اور ٹیلی ویژن میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ان کا دور بلاشبہ ایک سنہری دور تھا۔ وہ صرف ایک فنکار ہی نہیں بلکہ ایک استاد بھی تھے۔ بحیثیت سکول ٹیچر ان کے ہزاروں شاگرد آج ڈاکٹر، انجینئر، وکیل اور اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں۔ وہ نہ صرف پشتو بلکہ اردو کے کئی درجن ڈراموں میں بطور ہیرو نظر آئے۔
پشاور سے مزید