پشاور (خصوصی نامہ نگار) انسٹی ٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز (آئی آر ایس) پشاور کے زیر اہتمام ’’وفاقیت کا ارتقاء: آئینی ترامیم اور پاکستان میں نئے صوبوں کی ضرورت‘‘ کے موضوع پر مباحثے کا انعقاد کیا گیا، جس میں ماہرین نے وفاقی نظام، آئینی ترامیم، نئے صوبوں کے قیام اور این ایف سی ایوارڈ کے مختلف پہلوؤں پر اظہار خیال کیا۔ مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان سٹڈی سنٹر جامعہ پشاور کے سابق ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر فخر الاسلام پروفیسر لاکت خان اور دیگر نے کہا کہ وفاقی نظام دنیا کے کئی بڑے ممالک روس، امریکہ، کینیڈا، بھارت اور نائیجیریا میں رائج ہے پاکستان میں بھی روز اول سے وفاقی طرز حکومت قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین میں اب تک 27 ترامیم کی جاچکی ہیں، تاہم آئینی ترامیم اور نئے صوبوں کے قیام کے معاملات پر سنجیدہ سیاسی اور قومی بحث کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ نئے صوبے بنانا کوئی جرم نہیں، دنیا کے کئی ممالک میں انتظامی ضروریات کے تحت صوبوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق افغانستان میں 34، چین میں 23، ترکی میں 81 ، بھارت میں 28 جبکہ ایران میں 31 صوبے ہیں۔ ڈاکٹر فخر الاسلام نے کہا کہ نئے صوبوں کا قیام کسی ایک فرد یا ادارے کی خواہش پر نہیں ہونا چاہئے بلکہ سیاسی جماعتوں کو اس معاملے پر باقاعدہ بحث اور مشاورت کرنی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر احتیاط سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔