پشاور(جنگ نیوز)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاونِ خصوصی برائے داخلہ و قبائلی امور، طارق سعید مروت نے بڈھ بیر کے علاقے میں پولیس ٹیم پر مسلح افراد کی فائرنگ کے واقعے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حملہ آوروں کی فوری گرفتاری کے لیے مؤثر کارروائی کی ہدایت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیس ٹیم پر حملہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے فرائض کی انجام دہی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش ہے، جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پولیس اہلکار عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے فرائض انجام دے رہے ہیں، ان کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔طارق سعید مروت نے ہدایت کی کہ واقعے میں ملوث مسلح افراد کی شناخت اور گرفتاری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں اور سرچ آپریشن کو مؤثر بنایا جائے۔پولیس کے مطابق تھانہ بڈھ بیر کی ٹیم زیرِ حراست ملزم کو شیخان قبرستان میں جائے وقوعہ کی نشاندہی کے لیے لے جا رہی تھی کہ تین موٹر سائیکلوں پر سوار چھ نامعلوم مسلح افراد نے پولیس ٹیم پر فائرنگ کردی۔ فائرنگ کے نتیجے میں زیرِ حراست ملزم شدید زخمی ہوا اور ہسپتال منتقل کیے جانے کے دوران دم توڑ گیا، جبکہ حملہ آور فرار ہوگئے۔ پولیس نے حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ معاونِ خصوصی نے کہا کہ قبرستانوں اور قبروں کا تقدس برقرار رکھنا ریاستی اداروں اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے، جبکہ ایسے جرائم میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی یقینی بنائی جائے گی۔