• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

حکومت، اپوزیشن مذاکرات میں ڈیڈ لاک، انسداد دہشت گردی میں عدم تعاون رکاوٹ کا سبب بنا

اسلام آباد ،کراچی (طاہر خلیل/ نیوز ڈیسک) حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات میں ڈیڈ لاک ،مذاکرات کا دوسرا دور بھی بے نتیجہ رہا ، ذرائع کے مطابق انسداد دہشت گردی میں عدم تعاون رکاوٹ کا سبب بن گیا،حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف دہشتگردی کیخلاف حکمت عملی میں وفاقی حکومت کے مطالبے سے پیچھے ہٹ گئی،اس کے بغیر بات چیت آگے نہیں بڑھ سکتی، 12گھنٹے کے مذاکرات کے بعد رات گئے میڈیا نمائندوں کو گھر بھیج دیا گیا،دن بھر بات چیت میں اتار چڑھائو، حکومتی نمائندوں کے صدر اور وزیراعظم سے بھی مشاورت جاری رہی،اپوزیشن رہنما ، محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی سے اپوزیشن رہنمائوں کی ملاقات تک احتجاج موخر نہیں ہوگا جبکہ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ بانی کی ملاقات سمیت سب کچھ قانون کے مطابق ہوگا،حکومتی ذرائع کے مطابق معاملات جلد طے پاجائیں گے، اپوزیشن رہنما راجہ ناصر عباس نے کہا کہ مذاکرات آج پھر ہوں گے،قبل ازیں مذاکرات کے دوسرے روز فریقین اپنےاپنے موقف پر ڈٹے رہے ، ،رات گئے تک حکومت اور تحریک انصاف کے نمائندے بات چیت میں مصروف رہے تاہم ڈیڈ لاک ختم نہ ہو سکا، حکومت کی جانب سے تیار کئے گئے مسودے پر تحریک انصاف کے شدید اعتراضات تھے اور اپوزیشن کے نمائندوں نے اپنے مطالبات کیلئے حکومت سے دو ٹوک جواب مانگا تھا، حکومت کی جانب سے جو ڈرافٹ تیار کیا گیا تھا اس پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے وزیر اعظم اور صدر مملکت سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں ،ایک لمحہ پر میڈیا کے نمائندوں کو جو پارلیمنٹ ہائوس میں مذاکرات کی کوریج کر رہے تھے بتایا گیا تھا کہ ڈرافٹ اتفاق رائے کے قریب ہے اور مذاکرات کے اختتام پر کوئی میڈیا ٹاک نہیں ہو گی اور قومی اسمبلی کی طرف سے اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔ تاہم بعد میں وقت گزرنے کے ساتھ صورتحال واضح نہ ہو سکی کیونکہ اپوزیشن ذرائع کی جانب سے صحافیوں کو بتایا گیا تھا کہ ڈرافٹ پر اپوزیشن کے اعتراضات دور نہیں ہوئے ، اس لئے معاہدہ ابھی ڈیڈ لاک کا شکار ہے ،حکومت کی طرف سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ تحریک انصاف نے حکومت کے تمام مطالبات مان لئے ہیں ، حکومت کا دعویٰ تھا کہ تحریک انصاف دہشت گردی کے معاملات پر پوری طرح تعاون کرنے پر رضامند ہو گئی ہے ، یہ بھی دعویٰ ہوا تھا کہ مجوزہ ڈرافٹ میں یہ طے کر لیا گیا ہے کہ بانی کی رہائی اور ملاقاتوں کے تمام معاملات قانون کے مطابق چلائے جائیں گے، تحریک انصاف ابھی اور نہ اس کے بعد کبھی لانگ مارچ یا کوئی انتشاری طریقہ اختیار کرے گی ،دہشت گردی سےنمٹنے کے لئے ریاست کی تمام انتظامی ضروریات کو بھی پورا کیا جائے گا، اس سے پہلے حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات دوسرے دور کا آغاز گلے شکوؤں کے ساتھ ہوا وفاقی وزرا ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور امیر مقام نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کے ٹوئٹ کا معاملہ اٹھا دیا، جبکہ حکومت نے مذاکرات آگے بڑھانے کیلئے اپوزیشن سے لانگ مارچ ختم کرنے کا مطالبہ کردیا،ذرائع کا کہنا تھا کہ امیر مقام نے کہا ہم نے کل اپوزیشن سے آگے بڑھنے کے لئے لانگ مارچ منسوخ کرنے کی بات کی تھی، سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کا ٹوئٹ کردیا، حکومتی وفد نے پی ٹی آئی سے شکوہ کیا کہ سینئر حکومتی اکابرین سے متعلق نازیبا زبان بھی استعمال کی گئی، ایسے میں ہم کیا سمجھیں کہ اپوزیشن وفد کتنا با اختیار ہے؟اپوزیشن نے حکومت کو جواب دیا کہ آپ وزیر دفاع خواجہ آصف کے ٹوئٹ کے بارے میں کیا کہیں گے، کیا وہ درست ہے؟ اگر آگے بڑھنا ہے تو اعتماد بحال کرنا ہوگا ،حکومتی وفد نے اپوزیشن کے سامنے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم کھلے دل سے آئے ہیں اور مکمل با اختیار ہیں، پیپلز پارٹی نے کہا کہ لانگ مارچ غیر مشروط طور پر ختم کریں تاکہ مذاکرات آگے بڑھیں حکومت اور اپوزیشن کے مذاکرات میں وقفہ ہوا ، جس کے بعد دونوں وفود کی الگ الگ مشاورت جاری رہی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ محسن نقوی اور رانا ثناءاللہ نے وزیر اعظم شہباز سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے انہیں مذاکرات میں پیش رفت سے آگاہ کیا ذرائع کے مطابق اپوزیشن ارکان بھی اپنی دیگر قیادت کو ٹیلی فون پر اعتماد میں لیتے رہے ، حکومت نے مذاکرات آگے بڑھانے کیلئے اپوزیشن سے لانگ مارچ ختم کرنے کا مطالبہ کردیا ۔ حکومت اور اپوزیشن کے مذاکراتی عمل کی صدارت اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کر رہے تھے ، حکومتی وفد میں محسن نقوی، امیر مقام ،طلال چوہدری، رانا ثنا اللہ شامل تھے ، نوید قمر، شیری رحمان، اعجاز جاکھرانی بھی حکومتی وفد کا حصہ تھے جبکہ اپوزیشن وفد میں علامہ ناصر عباس، بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، سلمان اکرم، عامر ڈوگر، حلیم عادل شیخ شامل تھے ۔ ذرائع کے مطابق اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے اپوزیشن قائدین سے ٹیلی فونک رابطہ کیا، محمود خان اچکزئی نے ٹیلی فون پر بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر سےگفتگو کی۔ ذرائع کے مطابق محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پہلے بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوگی، پھر کوئی فیصلہ ہوگا، بانی سے ملاقات کے بغیرکوئی اعلان یا فیصلہ ممکن نہیں، اس بات تک محدود رہو کہ بانی سےملاقات ہوگی تو ہی فیصلہ ہوگا، حکومت کو کہیں بانی سے پوچھ کر آپ کو اس کا فیصلہ بتائیں گے۔

اہم خبریں سے مزید