ٹوکیو(نصر اقبال، نمائندہ خصوصی) ایشین گیمز میں پاکستانی دستے کے حوالے سے شکایات کے بعد بین الصوبائی رابطے کی وزارت نے پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن اور پاکستان اسپورٹس بورڈ سے فیڈ بیک لینے کا فیصلہ کیا ہے، حکومتی سطح پر ہدایت جاری کردی گئی، اگلے ہفتے اہم اجلاس طلب کیا جائے گا۔ دستے میں من پسند کھلاڑیوں اور بعض ٹیموں میں کھلاڑیوں سے بھاری رقوم لے کر انہیں شامل کرنے کی شکایت پر منتخب نمائندوں نے بھی اعتراضات اٹھاتے ہوئے حکومت سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ بین الصوبائی رابطے کی قائمہ کمیٹی کے ایک رکن نے جنگ کو بتایا کہ اب وقت آگیا ہے کہ کھیلوں کی تباہی کے ذمے داروں کو احتساب کے کٹہرے میں لایا جائے، عالمی اور ایشیائی مقابلوں میں شرکت محض رسمی کارروائی اور سیر سپاٹے سے زیادہ کچھ نہیں، ایک کھیل میں باپ بیٹی کی کھلاڑی اور آفیشل کے طور پر شرکت، عمر رسیدہ کھلاڑیوں کی شمولیت اور ایک فیڈریشن کے عہدے دار کا بطور کھلاڑی ٹیم میں شامل ہونا اس کی واضح مثالیں ہیں۔ پاکستان اسپورٹس بورڈ کے ڈی جی ٹیکنیکل امور سعید احمد نے کہا کہ خراب کارکردگی کی ذمے دار فیڈریشنیں ہیں، پی ایس بی نہ کھلاڑیوں کا انتخاب کرتا ہے نہ ٹیموں کے انتخاب میں مداخلت کرتا ہے، فیڈریشنز کی درخواست پر صرف سہولت اور غیر ملکی کوچز فراہم کرتا ہے، دستے کو حتمی شکل دینے کی ذمے داری فیڈریشنوں اور اولمپکس ایسوسی ایشن کی ہے۔