اسلام آباد(طاہرخلیل /نیوزڈیسک )پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے تصدیق کی ہےکہپاکستانی فوجی اہلکارزمین پر مختلف آپریشنل صلاحیتوں اور شعبوں کے تحت سعودی عرب میں موجود ہیں‘دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات عشروں پرانے ہیں جبکہ پاکستان کے فوجی دستے کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں خدمات انجام دے رہے ہیں تاہم موجودہ فوجی نفری کی تعداد‘ خصوصی صلاحیتوں‘مزید تعیناتیوں کے امکانات یا یمن میں حوثی جنگجوؤں سے متعلق ممکنہ آپریشنل کردار کی تفصیلات کو سختی سے خفیہ رکھا گیا ہے۔علاوہ ازیں حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کو ترکیہ کی فوجی وتکنیکی معاونت شروع ہوگئی ہے ‘ ترک حکام نے بتایا کہ ریاض کو فوجی سازو سامان‘ ہتھیاروں کا نظام‘انٹیلی جنس شیئرنگ اور تکنیکی معاونت فراہم کی جارہی ہے تاہم کسی بڑی فوجی تعیناتی کا فیصلہ نہیں کیا گیا‘ادھرپاکستانی و علاقائی حکام کا کہنا ہے پاکستان اور ترکیہ ریاض کو فوجی سازوسامان فراہم کرچکےجسے سعودی حکومت یمن میں استعمال کررہی ہے‘ برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق ترکیہ سعودی عرب کو ایران نواز حوثیوں کے خلاف مقابلے کے لیے بنیادی طور پر دفاعی اور تکنیکی فوجی معاونت فراہم کررہا ہے جبکہ مکہ دفاعی معاہدے پر عمل درآمد بھی تیز کردیا گیا ہے۔ ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ترکیہ کی جانب سے فراہم کی جانے والی صلاحیتیں اب تک وسیع پیمانے پر دفاعی نوعیت کی ہیں، جن میں اسٹریٹجک منصوبہ بندی، لاجسٹک معاونت، ڈرون آپریٹرز، انٹیلی جنس، نگرانی اور دفاعی اقدامات کو بہتر بنانے میں مدد شامل ہے‘ترک وزیر خارجہ حاکان فیدان نے کہا کہ ریاض اجلاس میں سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت بڑھانے کے لیے مطلوبہ معاونت پر بات ہوئی۔ تفصیلات کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سعودی عرب میں پاکستانی فوجیوںکی موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے کہاہے کہ سعودی عرب میں پاکستانی دستے کئی دہائیوں سے موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ مکہ معاہدے کے تحت سعودی عرب میں موجود پاکستانی دستے مختلف امور کے لیے ہیں۔