• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جامعہ کراچی کے قائم مقام وی سی طفیل جوکھیو نے فیل طلبہ کو پاس کرنے منظوری دی

کراچی(اسٹاف رپورٹر) جامعہ کراچی کے لاء کالجوں کے ڈیڑھ سو فیل طلبہ کو خلاف ضابطہ پاس کرنے کا اسکینڈل منظر عام پر آگیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ این ای ڈی کے وائس چانسلر ڈاکٹر طفیل جوکھیو جنھیں جامعہ کراچی کا قائم مقام وائس چانسلر مقرر کیا گیا تھا اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے فیل طلبہ کو اسکروٹنی کے نام پر پاس کرنے منظوری دیدی جب کہ اس سے قبل سبکدوش ہونے والے مستقل وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی نے اسکروٹنی کی سمری مسترد کردی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ جامعہ کراچی کے شعبہ امتحانات نے رئیس کلیہ قانون کی جانب سے اسکروٹنی کی تحریری سفارش اور قائم مقام وائس چانسلر کی منظوری لے کر لاء کالجوں کے ڈیڑھ سو کے قریب فیل طلبہ کو کم از کم دو مضامین میں پاس کردیا ہے ایس ایم لاء کالج اور اسلامیہ لاء کالج کے متعلقہ ڈیڑھ سو سے زائد طلبہ امتحانی کاپیوں اور جاری کردہ نتائج میں فیل تھے۔ بڑی تعداد میں ان فیل طلبہ کو فرضی اسکروٹنی کمیٹی بناکر بی اے ایل ایل بی میں پاس کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے بتایا کہ " طلبہ کی جانب سے ایک اجتماعی درخواست آئی تھی جبکہ یونیورسٹی اسکروٹنی کے لیے انفرادی درخواست پر کارروائی کرتی ہے جبکہ سالانہ نظام امتحانات میں اسکروٹنی کے قواعد میں صرف ری کائونٹنگ ہوتی ہے کاپیوں کی ری چیکنگ نہیں کی جاتی اس لیے مذکورہ درخواست روک دی تھی۔ فرضی اسکروٹنی کمیٹی کے اجلاس کی روداد اور قائم مقام وائس چانسلر کی منظوری کی شیٹس باعث 150 فیل شدہ طلبہ کو پاس کرنے کے اسکینڈل نے نئے مستقل وائس چانسلر ڈاکٹر وسیم قاضی کے لیے بھی چیلنجز کھڑے کردیے ہیں۔ نئے وائس چانسلر اگر موجودہ ناظم امتحانات کو برقرار رکھتے ہیں تو مزید اسی طرح کے نئے کیسز سامنے آسکتے ہیں۔ ادھر معلوم ہوا ہے کہ ایل ایل بی میں بڑی تعداد میں طلبہ ایسے ہیں جو اوبلیگیشن obligations اور مطالعہ پاکستان کے پرچوں میں صفر یا کم مارکس کے ساتھ فیل تھے۔ بتایا جارہا ہے کہ فرضی اسکروٹنی کراکے انھیں 50 سے 65 کے درمیان مارکس دے کر پاس کیا گیا۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایل ایل بی کے نتائج کے اجراء کے بعد شعبہ امتحانات نے طلبہ کو پہلے فیل جبکہ اسکروٹنی کے بعد پاس کی مارک شیٹس جاری کیں۔معلوم ہوا ہے کہ رئیس کلیہ قانون بیرسٹر سرفراز میتلو، متعلقہ دونوں لاء کالجوں اور ناظم امتحانات پر مشتمل ایک اسکروٹنی کمیٹی از خود ہی قائم ہوگئی اس اسکروٹنی کمیٹی کا اجلاس 5 اگست کو رئیس کلیہ قانون کی صدارت میں ہوا اجلاس میں ایل ایل بی پارٹ ٹو کے پیپر 5 کی جوابی کاپیوں کی دوبارہ جانچ کا فیصلہ کیا گیا۔ جبکہ یونیورسٹی قانون میں امتحانی کاپیوں کی دوبارہ جانچ کی بظاہر گنجائش نہیں۔ مزید براں 6 اگست کو فرضی اسکروٹنی کمیٹی کی سفارشات کی منظوری ناظم امتحانات نے قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر طفیل احمد سے لی گئی۔ وائس چانسلر سے منظوری میں other related cases کی اصطلاح شامل کرکے مطالعہ پاکستان کے پرچوں میں بھی فیل طلبہ کو پاس کیا گیا۔ وائس چانسلر سے منظوری ملتے ہی 6 اگست کو ہی ایس ایم لاء کالج کے پرنسپل کی جانب سے طلبہ کو اسکروٹنی اپلائی کرنے کو کہا گیا۔ ایس ایم لاء کالج کے پرنسپل پروفیسر فرید ڈایو کے مطابق 180 طلبہ کو اسلامیہ کالج کے ٹیچر نے فیل کیا ہم نے اسکروٹنی کمیٹی میں لے جا کر ان طلبہ کو پاس کیا جن کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی۔ یاد رہے کہ جامعہ کراچی میں ڈین آف لاء بیرسٹر سرفراز میتلو کو جامعہ کراچی کے ایکٹ کے برخلاف تعینات کیا گیا تھا جامعہ کراچی کے اس وقت وائس چانسلر ڈاکٹر خالد عراقی نے ڈین آف لاء کے لیے جو ناموں کا پینل بھیجا تھا اس میں سرفراز میلتو کا نام شامل نہیں تھا تاہم محکمہ بورڈز و جامعات نے وائس چانسلر کے بھجے گئے ناموں کو مسترد کرکے از خود سرفراز میتلو کے نام کا نوٹفکیشن نکال دیا تھا جب کہ وہ ڈین کے عہدے کے لیے اہل بھی نہیں تھے۔
اہم خبریں سے مزید