• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

KP میں ایمرجنسی، کابینہ سے آج منظوری کا امکان، قومی اسمبلی، سینیٹ کے الگ الگ اجلاس منگل کو

اسلام آباد (طاہر خلیل، ایجنسیاں) ایوان صدر میں صدر اور وزیراعظم کی ملاقات میں اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی اور خیبر پختونخواہ میں ایمر جنسی لگانے پر اتفاق ہو گیا ہے، ایمر جنسی کے نفاذ کی آج وفاقی کابینہ سے منظوری لئے جانے کا امکان ہے ،جبکہ کے پی کے ضم اضلاع سمیت 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ کی تجویز پر غور ہے، ایمر جنسی کےنفاذ کی توثیق کیلئے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے الگ الگ اجلاس طلب کر لئے گئے ہیں، ایوان صدر کے اجلاس میں منگل 13 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے الگ الگ اجلاس بلانے پر اتفاق کیا گیا، وزیراعظم شہباز شریف کا مولانا فضل الرحمان سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں خیبر پختونخوا کی صورتِ حال پر گفتگو ہوئی، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی کانفاذ اس کا علاج نہیں، جبکہ وزیراعلی سہیل آفریدی نے کہا کے پی میں پالیسی صرف عمران کی چلے گی، وزیر اطلاعات عطا تارڑ کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف این ایف سی کی رقم احتجاجی مظاہروں پر خرچ کر رہی ہے، گورنر فیصل کریم کنڈی اور وفاقی وزیر امیر مقام نے کہا ہے کہ کے پی کے عوام ’دہشت گردی‘ اور انتشار کی پشت پناہی کرنے والے سیاسی گروہ سے تنگ آ چکے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ایوان صدر میں صدر اور وزیر اعظم کی ملاقات میں اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی اور خیبر پختونخواہ میں ایمر جنسی لگانے پر اتفاق ہو گیا ہے۔ ترجمان ایوان صدر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری سے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایوان صدر میں ملاقات کی جس میں ملک کی مجموعی سیاسی اور سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔بیان کے مطابق ملاقات میں وزیر اعظم شہباز شریف کی معاونت نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان، وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ اور وفاقی وزیر سینیٹر احد چیمہ نے کی۔ ترجمان ایوان صدر نے بتایا کہ شیری رحمان، سید نوید قمر، سلیم مانڈوی والا اور ڈاکٹر عاصم نے صدر مملکت آصف علی زرداری کی معاونت کی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی رپورٹ پر غور کیا گیا، گورنر نے خیبر پختونخوا میں امن و امان اور سکیورٹی کی صورتحال پر رپورٹ بھجوائی ہے اجلاس میں کے پی کے ضم شدہ اضلاع سمیت 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ کی تجویز پر غور کیا گیا، خیبر پختونخوا میں عوام کے تحفظ کیلئے اہم اختیارات وفاق کے استعمال کرنے کی تجویز اور آئین کے آرٹیکل 232 سے 234کے تحت مختلف آپشنز پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ خیبر پختونخوا کے گورنر ہاؤس نے ہفتے کو ایک بیان میں کہا ہے کہ وفاقی حکومت صوبے میں امن برقرار رکھنے اور ترقی کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کریگی۔ بیان کے مطابق صوبےکے گورنر فیصل کریم کنڈی نے پشاور میں امور کشمیر و گلگت بلتستان کے وفاقی وزیر امیر مقام سے ملاقات کی۔ ملاقات میں احتجاجی مارچ، صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال اور دیگر سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام ’دہشت گردی‘ اور مبینہ طور پر انتشار کی پشت پناہی اور اسے فروغ دینے والے سیاسی گروہ سے تنگ آ چکے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ صوبائی حکومت کو ترقیاتی منصوبوں کے لیے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت 700 ارب روپے دیے گئے۔ انہوں نے کہا ’آپ نے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو اپ گریڈ نہیں کیا، فرانزک لیبارٹریاں قائم نہیں کیں اور سیف سٹی کیمرے نصب نہیں کیے حالانکہ یہ ضم شدہ اضلاع اور خیبر پختونخوا کے تمام اضلاع کے داخلی اور خارجی راستوں پر نصب کیے جانے چاہییں۔‘وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی یہ رقم احتجاجی مظاہرے منظم کرنے پر خرچ کر رہی ہے۔

اہم خبریں سے مزید