• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نامور شاعر، ادیب، ماہر لسانیات اور مترجم شان الحق حقی کی 21 ویں برسی

کراچی (نیوز ڈیسک) ملک کے ناموار شاعر، ادیب، ماہر لسانیات اور مترجم شان الحق حقی کی آج 21ویں برسی، شان الحق حقی15ستمبر1917ءکو دہلی میں پیدا ہوے۔ وہ مشہور ادیب شمس العلما ڈپٹی نذیر احمد کے پر نواسے تھے۔ علی گڑھ سے بی اے کیا اورسینٹ اسٹیفنسن کالج دہلی سے انگریزی ادب میں ایم اے کیا-اگست 1947ء میں ہجرت کرکے کراچی آگئے اور کُچھ عرصے بعد اسسٹنٹ ڈائریکٹر منتخب ہو کر وزارت اطلاعات ونشریات سے وابستہ ہوگئے ، وہ 10 سال پی ٹی وی کے شعبہ اشتہارات کے سربراہ بھی رہے، بہترین ٹی وی کمرشل ایوارڈ کا اجرا کیا اور 1977ء میں وزارت اطلاعات و نشر یات سے ڈپٹی سیکرٹری کے عہدے پر رہتے ہوئے سبکدوش ہوے۔ اُنکی ساٹھ سے زیادہ تصانیف ہیں، ان کاابتدائی شعری مجموعہ"تارِ پیراہن" تھا، جس پر انہیں1958ء میںآدمجی ادبی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ان کا دوسرا مجموعہ "حرفِ دل رس" ہے۔ انہوں نےشکسپیر کے ڈرامے ʼانطونی اور قلوپطرہʼ کا منظوم اردو ترجمہ "قہرِ عشق" کے نام سے کیا۔سنسکرت کی مشہور کتاب ارتھ شاستر اور ہندووں کی مقدس کتاب بھگوت گیتا کا منظوم ترجمہ کیا۔امریکی ناول نگار جیک شیفر کے ناول کا ترجمہ "انجان راہی" کے عنوان سے کیا۔ ان کی تصانیف میںنکتۂ راز، نقد و نگارش، لسانی مسائل و لطائف، اور نوادرِ ظفر شامل ہیں۔ انہوں نے افسانوں کا مجموعہ "شاخسانے"، مزاحیہ خاکے "نوک جھونک" اور ادبی شخصیات پر مضامین کا مجموعہ "نگار خانہ" بھی تحریر کیا۔ تیسری دنیا کے انگریزی مضامین کا ترجمہ بچوں کا ادب جن میں نثری مضامین نظمیں اور بچوں کی ایورڈ یافتہ سال کی بہترین کتاب نظمیں پہلیاں اور نثر پارے بھی شامل ہیں۔حکومت پاکستان نے اُن کی بے پناہ خدمات کے سلسلے میں تمغہ قائد اعظم اور ستارہ امتیاز عطا کیا اورشہر اقتدار میں اُن کے نام سے سڑک بھی منسلک کی ہے وہ 11اکتوبر 2005کو دنیا سے رخصت ہوئے ۔
اہم خبریں سے مزید