کراچی (اسٹاف رپورٹر) پاکستان میں بریسٹ کینسر صحتِ عامہ کا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، جہاں مہنگی ادویات، علاج کے اخراجات اور تشخیص میں تاخیر کے باعث مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ بین الاقوامی ادارہ برائے تحقیقِ سرطان کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 2024ء کے دوران بریسٹ کینسر کے تقریباً 43 ہزار 721 نئے کیسز سامنے آئے جبکہ اس بیماری کے باعث 20 ہزار 39 اموات ہوئیں، خواتین میں سرطان کے نئے کیسز میں بریسٹ کینسر کا حصہ 44 فیصد تھا۔ ان خیالات کا اظہار جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) کے زیرِ اہتمام بریسٹ کینسر سے آگاہی کے مہینے کی مناسبت سے منعقدہ دو روزہ ’’بریسٹ کون 2026ء‘‘ کے شرکاء نے کیا۔ کانفرنس میں جے پی ایم سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر خالد شیر، سائبر نائف اور ٹوموتھراپی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر طارق محمود، بریسٹ سرجن ڈاکٹر روفینہ سومرو، ڈاکٹر سیدہ زریں رضا اور دیگر ماہرین نے شرکت کی۔ ڈاکٹر خالد شیر نے کہا کہ بریسٹ کینسر سے بچاؤ اور اس کے مؤثر علاج کے لیے عوامی آگاہی، باقاعدہ اسکریننگ اور بروقت تشخیص انتہائی اہم ہیں، کیونکہ ابتدائی مرحلے میں بیماری کی تشخیص اور مناسب علاج سے مریضوں کی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔