اسلام آباد( جنگ نیوز) اسکالرشپ پر امریکی یونیورسٹی میں داخلےکے خواب آنکھوں میں سجائے ایک 20 سالہ طالبہ لائبہ اعجاز مبینہ طور پر ٹریول ایجنٹ کے ہاتھوں70 لاکھ روپے کے فراڈ کا شکار ہونے کے بعد زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھی جس پر پولیس نے تحقیقات شروع کردی ہین۔نوسرباز ایجنٹ ہونہار طالبہ کی زندگی سے کھیل گیا اور طالبہ کا خاندان جواں مرگ بچی کی وفات پرسوگ میں ہے۔ طالبہ کے چچا نے بتایا کہ ہم نے گھرکے زیورات اور پلاٹ بیچے، یونیورسٹی سے رابطہ کیا تو پتہ چلادستاویزات جعلی ہیں۔ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کی طالبہ لائبہ نے امریکا منتقل ہونے کے لیے سفری انتظامات کی غرض سے ایک ایجنٹ کو 70 لاکھ روپے ادا کیے تھے، تاہم پولیس کے مطابق ایجنٹ کی جانب سے فراہم کردہ سفری دستاویزات بعدازاں جعلی ثابت ہوئیں۔ اس انکشاف کے بعد وہ شدید پریشانی کا شکار تھی۔ پولیس کے مطابق جمعے کو لائبہ دوپہر تقریباً 2 بجے اپنی والدہ کو جلد واپس آنے کا بتا کر گھر سے نکلی، لیکن کافی دیر گزرنے کے باوجود واپس نہ آئی تو اہل خانہ کو تشویش لاحق ہوئی۔ والدہ نے اس کے والد کو اطلاع دی، جس کے بعد خاندان نے اپنی بیٹی کی تلاش شروع کردی۔ موبائل فون کی لوکیشن کی مدد سے اہل خانہ سیکٹر جی 10 پہنچے، جہاں لائبہ کی لاش ایک درخت سے لٹکی ہوئی ملی۔ اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور لاش اسپتال منتقل کردی۔ پولیس نے واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ لائبہ کی موت ایک ایسے خاندان کے لیے ناقابلِ تلافی صدمہ ہے جو اپنی بیٹی کے بہتر مستقبل کے خواب دیکھ رہا تھا۔ مبینہ دھوکا دہی کے اس واقعے نے بیرون ملک تعلیم یا روزگار کے لیے کوشش کرنے والے نوجوانوں کو جعلی ایجنٹوں سے محفوظ رکھنے اور ایسے معاملات میں بروقت قانونی و نفسیاتی مدد کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا ہے۔ تاہم واقعے کے تمام پہلوؤں اور مبینہ فراڈ کی ذمہ داری کا تعین تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہوگا۔