• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وفاقی حکومت نے بالآخر اپنا آخری آئینی پتہ کھیلنے کا عندیہ دے دیا

اسلام آباد (تجزیاتی رپورٹ حنیف خالد) تادم تحریر ملنے والی اطلاع کے مطابق پی ٹی آئی کی صوبائی اور مرکزی قیادت کے ساتھ نیم دلانہ بات چیت بالآخر بند گلی میں منتج ہو گی ہے۔ وفاقی حکومت نے بالآخر اپنا آخری آئینی پتہ کھیلنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ گویا فریقین سیاسی پختگی کو بروئے کار نہ لا سکے۔پاکستان کے ہر صوبے میں ایسے غیر معمولی حالات پیدا ہوتے رہے۔ 1974ء کو بلوچستان میں جہاں ذوالفقار علی بھٹو نے عطا اللہ مینگل کی اسمبلی ختم کی تھی اور مفتی محمود مرحوم نے بطور احتجاج این ڈبلیو ایف پی کی وزارت اعلیٰ سے استعفیٰ دیدیا تھا۔ 1998ء میں بھی سندھ میں ایسے ہی صوبائی اسمبلی معطل ہوئی تھی۔ 1993ء میں پنجاب میں بھی کچھ ہنگامی اقدامات مرحوم صدر غلام اسحاق خان نے کئے تھے جب نواز شریف کی وزارت اعلیٰ کے دوران قومی اسمبلی تحلیل کی تھی جب عدالت عظمیٰ کے فل بنچ نے جس کے چیف جسٹس نسیم حسن شاہ تھے کی طرف سے قومی اسمبلی بحال ہونے پر صدر اور وزیراعظم کے تعلقات اس حد تک آگے چلے گئے جس میں دونوں اعلیٰ ترین آئینی‘ سیاسی عہدیداروں کو استعفے دینے پڑے۔ اس زمانے کے مقابلے میں موجودہ حالات میں بنیادی فرق یہ ہے گو کہ صدر اور وزیراعظم دو مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں لیکن کے پی کے غیر دانش مندانہ اقدامات کی وجہ سے (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کے تعلقات میں ایک ہم آہنگی ہے جس میں جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا پلڑہ بھی وفاقی حکومت کے حق میں دیکھا جا رہا ہے۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ گزشتہ ہفتے جی ایچ کیو راولپنڈی میں ہونے والے کور کمانڈرز کے اجلاس کے  کے اثرات کا بھی پی ٹی آئی قیادت ادراک نہ کر سکی کیونکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی طرف سے 14اکتوبر کے مجوزہ پروگرام میں وفاقی حکومت کیلئے تاریخ ازخود طے کر دی اور 14اکتوبر کی تاریخ دیکر وفاق کی طرف سے مزید ڈھیل دینے کی گنجائش باقی نہ رہنے دی۔

اہم خبریں سے مزید