کراچی( نصر اقبال، اسٹاف رپورٹر) پاکستان ہاکی فیڈریشن کی جانب سے تعلیمی اداروں میں ہاکی ( اسٹکس) کی تقسیم پر سوالیہ نشان اٹھنے لگے۔سابق کھلاڑیوں نے ہاکی تقسیم مہم پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسکولوں اور کالجوں میں ہاکی ٹیمیں تک موجود نہیں۔ ہاکی تقسیم کرنے کے بجائے فیڈریشن اسکولوں میں ٹرائلز کرا کر کھلاڑیوں کو ہاکی اکیڈمیز کے حوالے کرتیتو انہیں اور نکھارنے میں مدد ملتی۔ سابق اولمپئین خالد بشیر نے کہا ہے کہ جب تک سینئر اور جونیئر قومی ٹیموں کے کھلاڑیوں کے ساتھ سینٹرل معاہدہ نہیں کیا جائے گا، ڈیلی الائونس میں اضافہ نہیں ہوگا، میچ فیس کا نظام نہیں لایا جائے گا ۔ بہتری نہیں ہوگی۔ اسکولوں میں ٹیموں کی تشکیل کے لئے فیڈریشن کو صوبائی محکمہ کھیل اور تعلیم کے ساتھ مل کر منصوبہ بندی کرنا چاہئے۔