کراچی(نصر اقبال، اسٹاف رپورٹر) ملک میں کھیلوں کا شعبہ اب مذاق بن گیا ہے، عالمی اور ایشیائی سطح پر نتائج صفر ہیں، ٹیموں کے انتخاب میں اب حیرت انگیز تبدیلی ہوگئی، نیا ٹرینڈ سامنے آگیا کہ پیسہ دے کر کھلاڑیوں کو ٹیموں میں شامل کیا جارہا ہے، ٹیموں کا انتخاب سرمایہ دار کھلاڑیوں کے ہاتھوں میں آگیا ہے،20سے25ہزار روپے میں کھلاڑی قومی ایونٹ اور قومی گیمز کا حصہ بن رہے ہیں، جبکہ سات سے دس لکاھ روپے دے کر کھلاڑیوں کو عالمی اور ایشیائی مقابلوں کے لئے ٹیم میں شامل کیا جارہا ہے،حالیہ ایشین گیمز میں شریک پاکستانی دستے میں بعض کھیلوں میں باصلاحیت اور غریب کھلاڑی کو نظر انداز کرکے بھاری رقم اور اپنے اخراجات خود برداشت کرنے والے نام نہاد کھلاڑیوں کو جاپان کی سیر کرادی گئی،قومی کھیلوں کی اکثر فیڈریشن اپنے طور پر اسپانسر کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام ہیں، جبکہ غیر ملکی مقابلوں کے لئے ہونے والے ٹیموں کے انتخاب کے حوالے سے پاکستان اسپورٹس بورڈ، پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کے حکام کے علاوہ حکومتی سطح پر کوئی باز پرس نہیں، جس کی وجہ سے ملک میں کھیل کے شعبے میں ٹیلنٹ کا قتل عام معمول بن گیا ہے، کھیلوں کے حلقوں نے اس صورت حال پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے، حیرت انگیز طور پر حالیہ ایشین گیمز میں ایک کھیل کی فیڈریشن کے عہدے دار بھی بطورکھلاڑی ٹیم کا حصہ بن کر گئے، مگر ماضی جیسی اچھی کار کردگی دکھانے میں ناکام رہے،ویٹرز کھلاڑیوں کی ٹیموں میں بھر مار دکھائی دی،دیگر ملکوں کا انحصار نئے کھلاڑیوں پر رہا، بین الصوبائی رابے کی قائمہ کمیٹی کے ارکان بھی محض اجلاس تک محدود ہوکر رہ گئے ہیں، وہ بھی موجودہ صورت حال میں بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔