• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لائبہ اعجاز کیس، ویک اپ کال تعلیم کے نام پر لوٹ مار، نوجوانوں کو تحفظ کون دیگا؟

کراچی (ثاقب صغیر)لائبہ اعجاز کیس ،ویک اپ کال، تعلیم کے نام پر لوٹ مار،نوجوانوں کو تحفظ کون دے گا؟بیرون ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا خواب آنکھوں میں سجائے امریکی یونیورسٹی میں اسکالرشپ پر داخلے کی خواہش رکھنے والی طالبہ لائبہ اعجاز کی موت نے کئی اہم سوالات کو جنم دے دیا ہے۔یہ افسوس ناک واقعہ نہ صرف نوجوانوں کو بیرون ملک تعلیم اور بہتر مستقبل کے خواب دکھا کر مبینہ طور پر لوٹنے والے عناصر کی سرگرمیوں کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی کارکردگی، نگرانی اور ایسے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیوں کی افادیت پر بھی سوالیہ نشان ہے۔لائبہ اعجاز کا معاملہ ایک ایسے سنگین مسئلے کی جانب توجہ دلاتا ہے جس سے ملک کے متعدد نوجوان اور ان کے اہل خانہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ بیرون ملک تعلیم، اسکالرشپ، ملازمت اور بہتر مستقبل کے حصول کی خواہش رکھنے والے نوجوان اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ بعض عناصر انہیں پرکشش وعدوں، جعلی دستاویزات اور بیرون ملک بھیجنے کی یقین دہانیوں کے ذریعے اپنے جال میں پھنساتے ہیں۔ بعد ازاں نہ تو وعدے پورے کیے جاتے ہیں اور نہ ہی متاثرین کو ان کی رقم واپس ملتی ہے۔ایف آئی اے کے مطابق ملزمان نے لائبہ سے امریکی ویزا فراہم کرنے اور اسکالر شپ دلوانے کے بہانے 93 لاکھ روپے وصول کیے۔29 لاکھ روپے لائبہ اعجاز کے بینک اکاؤنٹ کے ذریعے اور باقی رقم نقد ادا کی گئی۔لائبہ نے 12 اکتوبر کو ہارورڈ میں ایڈمیشن کی خبر کا سرپرائز فیملی کو دینا تھا،لائبہ نے 2 روز قبل ہارورڈ کا رجسٹریشن سرٹیفکیٹ چیک کروایا تو جعلی نکلا۔ملزمان نے جعلی اسکالرشپ ایوارڈ لیٹر، یونیورسٹی ایڈمیشن آفر لیٹرز فیس پیمنٹ رسیدیں تیار کر کے متاثرہ خاندان کو دھوکے میں رکھا۔ایف آئی اے کی جانب سے انسانی اسمگلنگ، غیر قانونی امیگریشن اور بیرون ملک بھیجنے کے نام پر شہریوں سے فراڈ کرنے والے عناصر کی گرفتاریوں کی خبریں جاری ہوتی رہتی ہیں تاہم سوال یہ ہے کہ اگر ایسے عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں تو نوجوانوں کو بیرون ملک تعلیم اور روزگار کے نام پر مبینہ طور پر لوٹنے والے نیٹ ورکس کس طرح سرگرم ہیں؟ کیا مشکوک ٹریول ایجنٹس اور بیرون ملک بھیجنے کا کاروبار کرنے والے اداروں کی مؤثر نگرانی کی جا رہی ہے؟ کیا شہریوں کی شکایات پر بروقت کارروائی ہوتی ہے؟ اور کیا فراڈ میں ملوث عناصر سے متاثرین کی رقوم واپس دلانے کے لیے کوئی مؤثر طریقۂ کار موجود ہے؟۔بیرون ملک تعلیم کے لیے درخواست دینے، اسکالرشپ حاصل کرنے اور ویزا پراسیسنگ کے مراحل میں رہنمائی فراہم کرنا ایک جائز سرگرمی ہے تاہم اس شعبے میں مبینہ فراڈ کی روک تھام کے لیے شفافیت، مؤثر نگرانی اور جواب دہی ضروری ہے۔لائبہ اعجاز کا افسوس ناک واقعہ متعلقہ اداروں کے لیے ایک ویک اپ کال ہے۔ اس معاملے کی شفاف اور غیر جانب دار تحقیقات، مبینہ فراڈ میں ملوث عناصر کی نشاندہی، مالی معاملات کی جانچ اور قانون کے مطابق ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے۔ایف آئی اے کو محض کارروائیوں کے اعلانات تک محدود رہنے کے بجائے ایسے واقعات کی روک تھام، شکایات کے فوری ازالے اور متاثرین کو انصاف کی فراہمی کے لیے مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ نوجوانوں کے خوابوں اور خاندانوں کی جمع پونجی کا تحفظ ریاستی اداروں کی اہم ذمہ داری ہے۔لائبہ اعجاز کے معاملے میں سوال صرف مبینہ 93 لاکھ روپے کے فراڈ کا نہیں بلکہ اس نظام کا بھی ہے جس میں بہتر مستقبل کی تلاش میں نکلنے والے نوجوان خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید