• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مشرقِ وسطیٰ کا محاذ اور یورپ کا بدلتا مزاج

اکتوبر کے پہلے ہفتےمیں ’’مکّہ دفاعی معاہدے‘‘ کے حوالے سے ہنگامی اجلاس ہوا، جس میں سعودی عرب، پاکستان اور تُرکیہ نے شرکت کی۔ مذکورہ اجلاس میں یہ اہم ترین فیصلہ کیا گیا کہ سعودی عرب میں پاکستانی اور تُرک افواج تعینات کی جائیں گی۔

اس موقعے پر تینوں ممالک کی طرف سے جاری کردہ مشترکہ اعلامیے کے مطابق، پاکستان اور تُرکیہ کی دفاعی صلاحیتیں فوری طور پر سعودی عرب منتقل ہوں گی، جب کہ حوثی باغیوں کی مکّہ، مدینہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں اور دیگر تنصیبات پر حملوں کی بھی شدید مذمّت کی گئی اوراس عمل کو ناقابلِ قبول قرار دیا گیا۔

یاد رہے، ستمبر میں یمنی حوثیوں نے تیز رفتار پیش قدمی کر کے ایسے جزائر اور شہروں پر قبضہ کرلیا تھا کہ جس کی وجہ سے بحرِاحمر کی اہم ترین آبی گزرگاہ، باب المندب میں بحری تجارت کو خطرات لاحق ہوگئے اور بالخصوص سعودی تیل کی ترسیل میں، جو آبنائے ہُرمز کی بندش کے سبب بحرِاحمر سے گزرتا ہے، تعطّل پیدا ہونے کا خطرہ لاحق ہوگیا۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق یمنی فوج نے مقبوضہ علاقوں کو حوثی باغیوں سے بازیاب کروا لیا ہے۔ تاہم، اس دوران حوثیوں نے سعودی تیل کی تنصیبات کو مسلسل نشانہ بنایا، جس سے سعودی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن، جو باب المندب کے ذریعے ٹینکرز تک تیل پہنچاتی ہے، متاثر ہوئی اور اس سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہوگیا۔

یمن میں حوثیوں کی بغاوت 2006ء سے جاری ہے۔ وہ ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شُدہ حکومت کے خلاف گزشتہ20 سال سے مسلسل جارحانہ کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ حوثی باغیوں کو ایران کی پراکسی تصوّر کیا جاتا ہے، کیوں کہ انہیں ایران کی عسکری و سیاسی حمایت حاصل ہے۔ انتہائی دُکھ کی بات ہے کہ یمن کا شمار دُنیا کے غریب ترین اسلامی ممالک میں ہوتا ہے اور اب تک ہزاروں افراد وہاں جاری خانہ جنگی کا شکار بن چُکے ہیں، لیکن اس کے باوجود جنگ جُو ہوش کے ناخن نہیں لیتے۔

اس سے بھی زیادہ افسوس ناک اَمر یہ ہے کہ جب کوئی غیر مسلم مُلک کسی اسلامی ریاست پر حملہ کرتا ہے، تو اُمّتِ مسلمہ چیخ اُٹھتی ہے، لیکن حوثی باغیوں کو کوئی یہ بات نہیں سمجھاتا کہ وہ دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہتھیار رکھ کر اپنے مُلک کی ترقّی و خوش حالی کے لیے کردار ادا کریں اور باب المندب کو بند کرنے کی بجائے اُسے اپنے قومی مفاد کے لیے استعمال کریں، جب کہ سب سے الم ناک بات یہ ہے کہ حوثی باغی دُنیا بَھر کے مسلمانوں کے مقدّس ترین مقامات، مکّہ مکرّمہ اور مدینہ منوّرہ تک کو میزائلز سے نشانہ بنانے سے باز نہیں آئے۔ وائے قسمت، اس سے بڑھ کرستم ظریفی اور کیا ہوسکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق حوثی باغی، حملوں کے لیے جو بیلسٹک میزائلز اور ڈرون طیّارے استعمال کررہے ہیں، وہ انہیں ایران فراہم کررہا ہے۔ 2022ء میں ایک معاہدے کے تحت یمن میں جاری خانہ جنگی میں تعطّل آیا تھا لیکن اُس وقت تک 50 ہزار سے زائد یمنی اس شورش کی بھینٹ چڑھ چُکے تھے۔ بعدازاں، حالیہ ایران، امریکا جنگ کے دوران جب ایران پر امریکی فوجی اور اقتصادی دباؤ بڑھا، تو حوثیوں نے دوبارہ سعودی عرب پر حملے شروع کردیے۔

اس موقعے پر حوثی باغیوں کی کوشش تھی کہ سعودی تیل باب المندب سے نہ گزرنے پائے۔ اسی دوران ’’مکّہ دفاعی معاہدہ‘‘ ہوا، جس میں پاکستان، تُرکیہ اور سعودی عرب شامل ہیں۔ اس معاہدے کی بنیادی شِق یہ ہے کہ معاہدے میں شامل کسی ایک فریق پر حملہ، تمام فریقین پر حملہ تصوّر کیا جائے گا اور حال ہی میں اِسی ایگریمنٹ کے تحت پاکستان اور تُرکیہ نے اپنی دفاعی صلاحیتیں سعودی عرب منتقل کی ہیں۔

دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں ایران، امریکا جنگی محاذ تو فی الوقت سَرد ہے، لیکن آبنائے ہُرمز ہنوز آئل ٹینکرز اور تجارتی جہازوں کے لیے ایک خطرناک آبی گزرگاہ ہے۔ تاہم، حوصلہ افزا پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ آبنائے ہُرمز کی بندش سے قبل کی سطح پر تیل کی سپلائی شروع ہوچُکی ہے۔ یعنی یہ کہا جا سکتا ہے کہ تیل کی رسد معمول پر آنے لگی ہے۔

گرچہ وقتاً فوقتاً یہ اطلاعات سامنے آتی رہتی ہیں کہ کسی بحری جہاز یا آئل ٹینکر کو میزائل یا ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، لیکن کوئی ایسی خطرناک جنگی صُورتِ حال نہیں کہ جس کے نتائج ہلاکتوں کی صُورت میں سامنے آئیں۔ ہرچند کہ امریکا اور ایران کی جانب سے وقتاً فوقتاً ایک دوسرے کے خلاف تُند و تیز بیانات سامنے آتے رہتے ہیں لیکن یہ محض اپنے اپنے عوام کی حمایت اور ذرائع ابلاغ کی توجّہ حاصل کرنےکے لیے دیے جاتے ہیں۔

علاوہ ازیں، یہ خبریں بھی وقفے وقفے سے سامنے آتی رہتی ہیں کہ ثالثوں کے ذریعے مذاکرات بھی کسی نہ کسی شکل میں جاری ہیں۔ دوسری جانب امریکا نے ایران پر بتدریج اقتصادی پابندیاں بڑھانا شروع کردی ہیں اور اب ایران کسی دوسرے مُلک میں اپنے مسافر طیّارے نہیں اُتارسکتا، جس کے نتیجے میں ایران پر معاشی دباؤ شدید تر ہوگیا ہے۔

اب نہ صرف اُسے مالیاتی دباؤ کا سامنا ہے، جس سے اُس کی کرنسی مسلسل گراوٹ کا شکار ہے اور ایک یو ایس ڈالر 45 لاکھ ایرانی ریال کی سطح پر پہنچ چُکا ہے، جب کہ دوسری طرف اس کی درآمدات بھی بُری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔

گزشہ دنوں ایرانی صدر، مسعود پزشکیان اور وزیرِ خارجہ، عبّاس عراقچی نے اقوامِ متّحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کی۔ اس موقعے پر انہوں نے ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کی شدید مذمّت کی۔ نیز، انہوں نےایران کی معاشی صُورتِ حال، ایرانی معیشت پر آبنائے ہُرمز کی بندش کے اثرات اور مذاکرات کی کوششوں پر بھی کُھل کر بات چیت کی۔

دوسری جانب یہ اطلاعات بھی ہیں کہ امریکا اور ایران کے مابین براہِ راست مذاکرات کے کچھ دَور بھی ہوئے لیکن پھر سفارتی محاذ پر خاموشی چھا گئی، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ مذاکرات کام یاب نہیں ہوئے۔ یادش بخیر، 2013ء میں اُس وقت کے ایرانی صدر، حسن روحانی نے بھی انتہائی کشیدہ صُورتِ حال میں یواین کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران ایران کا مؤقف نہایت احسن انداز سے پیش کیا تھا لیکن انہوں نے ساتھ ہی سفارت کاری بھی جاری رکھی۔

انہوں نےامریکا اور دیگر فریقین سے رابطے کیے اور انہیں اعتماد میں لیا۔ حسن روحانی کی یہ کوششیں رنگ لائیں اور نتیجتاً نیوکلیئر ڈِیل ہوئی، ایران کے 40ارب ڈالرز کے منجمد اثاثے بحال ہوئے، اسے عالمی مارکیٹ تک رسائی ملی اور ایرانی عوام نے بھی سُکھ کا سانس لیا، جب کہ دُنیا نے بھی ایٹمی معاہدے کو خوش آمدید کہا۔

بہرکیف، اس وقت ایران نے امریکا کے ساتھ معاہدے کے لیے سات شرائط پیش کی ہیں۔ دراصل، یہ وہی مطالبات ہیں، جو اسلام آباد ایم او یو اوردیگر پلیٹ فارمز پر ایران کی جانب سے پیش کیے گئے۔ لیکن امریکی صدر، ڈونلڈ ٹرمپ نے انہیں فوری طور پر مسترد کردیا۔ اُن کا کہنا ہے، ایران سے جنگ بندی امریکی مڈٹرم الیکشن کے بعد ہی ہوسکتی ہے۔

دوسری جانب ایران کے اپنے پڑوسی ممالک پر امریکی مفادات کو نقصان پہنچانے کی آڑ میں حملوں سے خطّے میں کشیدگی نے جنم لیا اور جو عرب ممالک پہلے ایران کی حمایت کر رہے تھے، وہ بھی اس کی مذمّت کرنے لگے۔ گرچہ ایران کی جانب سے آبنائے ہُرمزبند کرنے کی حکمتِ عملی ابتدا میں خاصی مؤثر دکھائی دے رہی تھی لیکن آج اس کا کہیں کوئی ذکر نہیں۔ ایسے میں یہ بہتر ہوتا کہ او آئی سی کا فورم استعمال کر کے تلخی سے گریز کیا جاتا، جسے اب ختم کرنا آسان نہ ہوگا۔ جب جنگ کے بادل سَر پر منڈلا رہے ہوں، تو سفارت کاری اور مذاکرات کے آپشنز کُھلے رکھنے چاہئیں۔

حالیہ دِنوں میں امریکی پالیسی میں واضح تبدیلی آئی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ یہ اس کی مجموعی فوجی حکمتِ عملی کا حصّہ تھا کہ پہلے ایران کا انفرااسٹرکچر تباہ کرے اور پھر اس پر معاشی دباؤ بڑھائے۔ تاہم، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ امریکا اور اسرائیل نے ایران پر بمشکل دو ہفتے تک حملے کیے لیکن اس کے بعد ایران کی جانب سے اپنے پڑوسی عرب ممالک پر مسلسل میزائل حملے کیے جاتے رہے۔

اس وقت ایران کے خارجہ اور دفاعی پالیسی ساز اس بات پر غور کر رہے ہوں گے کہ پڑوسی ممالک کو، جن سے ان کے تعلقات خاصے خوش گوار تھے، امریکی مفادات کو ہدف بنانے کی آڑ میں نشانہ بنا کر تہران کو فائدہ ہوا یا نقصان؟ ایران سے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ ایک متوسّط سطح کا صنعتی مُلک ہے اور اپنی ضرورت کی اشیاء خود تیار کرتا ہے لیکن مزید امریکی پابندیوں سے اُس کی پیداوار ماضی کے مقابلے میں یقیناً کم ہو جائے گی اوراگر وہ اشیائے خورونوش، جو اُسے درآمد کرنا پڑتی ہیں، منہگی ہوں گی، تواس کا براہِ راست اثر ایرانی عوام پر پڑے گا اور جب منہگائی بڑھے گی، تو عوام میں بےچینی پیدا ہوگی۔

ایرانی قیادت بار بار اس بات کا اعادہ کرتی رہی ہے کہ جنگ یا فوجی تصادم مسئلے کا حل نہیں بلکہ مذاکرات ہی سے کوئی راستہ نکل سکتا ہے اور ایران کو یہ راستہ اُس کے دوست ممالک ہی دے سکتے ہیں۔ آج ایران کی زیادہ تر ملیشیاز غیر مؤثر ہوچُکی ہیں اور اس لیے پڑوسی عرب ممالک کے لیے بھی خطرات کم ہوگئے ہیں۔ اِسی طرح جب ایرانی درآمدات کم ہوں گی، تو اس کے ہتھیاروں کی تیاری کے عمل پر بھی منفی اثرات مرتّب ہوں گے۔

اُدھر امریکا کو بھی اندازہ ہے کہ وہ غیرمعیّنہ مدّت تک ایران کےخلاف محاذآرائی جاری نہیں رکھ سکتا، کیوں کہ اوّل تو اس کے عوام کو اس جنگ سے کوئی دِل چسپی نہیں اور پھر بار بار تیل اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے صدر ٹرمپ کی مقبولیت کم ہو رہی ہے۔ امریکا ایک جمہوری مُلک ہے اور وہاں اگلے ماہ وسط مدّتی انتخابات ہورہے ہیں اور اس کے نتائج اس جنگ پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔

دوسری جانب ایرانی حکومت کو بھی اُمید ہے کہ مڈٹرم الیکشن میں ٹرمپ کی کام یابی یا ناکامی کا اثر اس جنگ کے خاتمے یا کسی معاہدے تک پہنچنے میں مدد دے گا لیکن اس کا فیصلہ امریکی عوام نے کرنا ہے۔ لہٰذا، کوشش یہی ہونی چاہیے کہ تصادم کی بجائے مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے اور ایرانی صدر کو اپنے دورۂ امریکا سے بھی اس بات کا اندازہ ہوگیا ہوگا اور یقیناً اُنہوں نے اپنے خیالات ایران کے طاقت وَر حلقوں تک بھی پہنچا دیے ہوں گے۔

اُدھر دُنیا میں کےکئی اہم ممالک میں سیاسی تبدیلیاں رُونما ہو رہی ہیں، بالخصوص یورپ میں تبدیلی واضح دکھائی دے رہی ہے۔ کچھ عرصے قبل برطانیہ کے لوکل باڈیز الیکشن میں لیبر پارٹی کی شکست کے بعد وزیرِاعظم، کیئر اسٹارمر کو مستعفی ہونا پڑا۔ ان انتخابات میں دائیں بازو کی جماعت نے، جو کہ تارکینِ وطن کی مخالف ہے، لیبر پارٹی کو عبرت ناک شکست دی اور اس وقت بھی ’’دی نیشن پارٹی‘‘ کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔

ہم گزشتہ کئی برسوں سے اِس بات پر توجّہ مبذول کروا رہے ہیں کہ یورپ میں قوم پرستی کی لہرمسلسل زور پکڑتی جارہی ہے، جب کہ جرمنی کے ریاستی انتخابات میں بھی برطانیہ جیسی صُورتِ حال دیکھی گئی۔ اس کی کئی اہم ریاستوں میں حُکم راں جماعت، ڈیمو کریٹک پارٹی کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا اور قوم پرست پارٹی، اےایف ڈی یعنی ’’آلٹرنیٹو فارجرمنی‘‘ نے اکثریت حاصل کی۔ یہ شکست اتنی غیرمتوقّع اور غیرمعمولی تھی کہ موجودہ جرمن چانسلر اور ’’جے ڈی پی پارٹی‘‘ کے سربراہ، فریڈرک مرز کو شکست کے فوراً بعد یہ اعتراف کرنا پڑا کہ ان کی پارٹی کوتباہ کُن صُورتِ حال کا سامنا ہے۔

گو کہ ان انتخابات میں اے ایف ڈی مکمل اکثریت حاصل نہ کرسکی، لیکن نتائج مستقبل کا احوال بتا رہے ہیں۔ اب مسئلہ یہ نہیں ہے کہ قوم پرست جماعت نے بعض ریاستوں میں واضح اکثریت حاصل کی ہے، اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ جرمنی کے عام انتخابات میں بھی اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ اے ایف ڈی ایک پاپولسٹ پارٹی ہے اور اس کے منشور کے بنیادی نکات میں تارکینِ وطن پر پابندی اور عوام پر منہگائی کے منفی اثرات کا سدِباب شامل ہے۔

یاد رہے، اے ایف ڈی نے مشرقی جرمنی کی ریاستوں میں اکثریت حاصل کی ہے، جو انضمام سے قبل بھی سوویت یونین کےزیرِاثر ہونے کی وجہ سے قوم پرستانہ نظریات رکھتا تھا۔ یہ بھی واضح رہے کہ جرمنی کی دوسری بڑی سیاسی جماعتیں اے ایف ڈی کے قوم پرستانہ نظریات ہی کی وجہ سے حکومت بنانے کے لیے اس سے اتحاد نہیں کرتیں۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جرمنی کے ان انتخابی نتائج کے یورپ پر کیا اثرات مرتّب ہوسکتے ہیں؟ جرمنی یورپ کی سب سے بڑی معیشت ہے اور ماضی میں اِس کا شمار یورپی کے طاقت وَر ترین ممالک میں ہوتا رہا ہے۔ اگر یورپ کی موجودہ صُورتِ حال پر نظر ڈالی جائے، تو یہاں بہت سے ممالک میں دائیں بازو کی قوم پرست جماعتیں اقتدار میں آچُکی ہیں۔

ان میں اٹلی، آسٹریا، ہالینڈ اور ہنگری قابلِ ذکر ہیں، جب کہ فرانس جیسے روایت پسند مُلک میں بھی قوم پرست ’’نیشنل ریلی پارٹی‘‘ مقبولیت حاصل کر رہی ہے، جب کہ ماہرین کی رائے ہے کہ وہ اگلے الیکشن میں سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آ سکتی ہے۔

گرچہ یورپ میں قوم پرست جماعتوں کی مقبولیت سے وہاں جمہوریت فوراً ختم نہیں ہوجائے گی۔ تاہم، بڑی جماعتوں کو اپنی ہرشکست کے بعد اپنی پالیسی پر نظرِثانی کرنا پڑے گی۔ چوں کہ قوم پرست جماعتوں کے ایجنڈے میں تارکینِ وطن کا انخلاء سرِ فہرست ہے، لہٰذا مستقبل میں تارکینِ وطن کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی، جیسا کہ اِن دنوں امریکا میں انہیں سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ علاوہ ازیں، یوکرین جنگ نے بھی جرمنی کی سیاست پر گہرے اثرات مرتّب کیے ہیں۔

آج جرمنی معاشی طور پر اپنی سابقہ پوزیشن بحال کرنے کی جدوجہد کررہا ہے کہ یوکرین جنگ سے منہگائی میں اضافے کے سبب عام آدمی کی زندگی بہت مشکل ہوگئی ہے، جس سے اے ڈی ایف جیسی قوم پرست جماعتیں فائدہ اُٹھا رہی ہیں اور یہی منشور یورپ میں بھی بائیں بازو کی جماعتوں کو اقتدار میں لانے میں مدد فراہم کررہا ہے۔

پہلے یہ جماعتیں مزدور ووٹرز کے ذریعے کام یابی حاصل کرتی تھیں لیکن اب عام شہری خود میدان میں آگیا ہے اور اُس کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ جرمنی سمیت یورپ کی دیگر بڑی سیاسی جماعتوں کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی روایتی حکمتِ عملی، جدید معاشی تقاضوں سے ہم آہنگ کریں کہ مستقبل میں ان کی مقبولیت کی برقراری کا دارومدار اِسی بات پر ہے کہ وہ اپنے ووٹرز کو کس حد تک مطمئن کرنے میں کام یاب ہوتی ہیں۔

سنڈے میگزین سے مزید