مشرقِ وسطیٰ ایک مرتبہ پھر جنگ کی آگ میں جل رہا ہے اور چھٹے روز، جب یہ سطور تحریر کی جارہی ہیں، پورا خطّہ جنگ کی لپیٹ میں آچُکا ہے۔ فی الحال کچھ پتا نہیں کہ یہ جنگ کتنے دن جاری رہے گی، حملہ آور اپنا ہدف حاصل کر پائیں گے یا ایران اپنے دفاع میں کام یاب رہے گا، مگر اِس امر کا سب کو احساس ہے کہ اگر لڑائی نے طول پکڑا، تو پورے خطّے پر تباہ کن اثرات مرتّب ہوں گے۔ 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل نے ایران پر مشترکہ حملے کیے، جسے’’آپریشن ایپک فیوری‘‘ کا نام دیا گیا۔ جواباً ایران نے اسرائیل اور کئی عرب ممالک پر حملے کیے۔ اِس جنگ کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ تھا کہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ ،علی خامنہ ای پہلے ہی حملے میں شہید ہوگئے۔ وہ ایرانی انقلاب کے بانیوں اور آیت اللہ خمینی کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔
انھوں نے آیت اللہ خمینی کے انتقال پر ایران کی سربراہی سنبھالی اور37برس تک مُلک پر حُکم رانی کی۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایرانی انقلاب کے مقاصد آگے بڑھانے میں اُن کا بنیادی کردار تھا اور وہی ایران کی جارحانہ خارجہ پالیسی کے بانی تھے۔ ایران کی پالیسی، فیصلہ سازی کی اصل قوّت اُنہی کے پاس تھی۔
منتخب صدر اور اسمبلی کے باوجود تمام ادارے اُنہی کو جواب دہ تھے اور اُنہی کے الفاظ ایرانی پالیسی میں حرفِ آخر تصوّر کیے جاتے تھے۔ امریکا اور اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ جنگ کے ابتدائی پانچ دنوں میں علی خامنہ ای سمیت ایران کی48اہم اور کلیدی شخصیات نشانہ بنیں۔ سپریم لیڈر کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ایران نے مشرقِ وسطیٰ پر ایک’’ آل آؤٹ وار‘‘ کا اعلان کردیا، جس سے جنگ نے مزید شدّت اختیار کی۔
ایران نے اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی مفادات پر شدید فضائی حملے شروع کردیئے، جن میں اُس کے مطابق بڑی تعداد میں ہلاکتیں ہوئیں۔ اِس جنگ کا ایک سنگین پہلو یہ بھی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے تمام چھوٹے بڑے ممالک، بشمول سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت اور اومان، سب ہی ایرانی میزائلز کا نشانہ بنے، جب کہ اُس کے ڈرون اور میزائل تُرکیہ اور آذربائیجان تک بھی پہنچے۔
یہ الگ بات کہ ایران نے کئی حملوں کی ذمّے داری قبول کرنے سے انکار کیا۔ ایسے کئی حملوں میں سویلینز کا بھی نقصان ہوا، جس پر ظاہر ہے، عرب ممالک کا شدید ردّ ِعمل سامنے آیا۔ یاد رہے، امریکی فوجی اڈّے مشرقِ وسطیٰ کے تمام ممالک میں ہیں اور وہ اُنہیں دفاعی چھتری فراہم کرتا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ تیل کے ذخائر ہیں، جو دنیا بَھر کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ عرب/ ایران میں جو مفاہمت چین کی کوششوں سے دو سال قبل قائم ہوئی تھی، جس کے تحت ریاض اور تہران میں14 برس بعد سفارتی تعلقات قائم ہوئے، اِس جنگ میں بَھک سے اُڑ گئی۔
عالمی سطح پر برطانیہ اور یورپ یا دوسرے الفاظ میں نیٹو، اِس جنگ میں اُس طرح شریک نہیں ہوا، جیسے عراق، لیبیا اور افغانستان کی جنگوں میں حصّہ لیا تھا۔ دوسری طرف، روس خود یوکرین کی جنگ میں بُری طرح اُلجھا ہوا ہے، اِس لیے اپنے دیرینہ دوست، ایران پر حملوں کی مذمّت ہی تک محدود رہا، جب کہ چین نے بار بار بات چیت پر زور دیا۔ پاکستان سمیت مسلم دنیا کی خارجہ پالیسی سخت آزمائش سے گزر رہی ہے، کیوں کہ ایک مرتبہ پھر ایران اور عرب جنگ کے میدان میں ایک دوسرے کے سامنے ہیں۔
اقتصادی طور پر یہ جنگ دنیا کے لیے بہت ہی بُری خبر ہے، کیوں کہ تیل کی سپلائی میں رکاوٹ اور دوسری اشیا کی ترسیل میں رخنے کے سبب منہگائی میں اضافہ ہوا، خاص طور پر پاکستان جیسے ممالک زیادہ متاثر ہوئے، جن کا تیل اور ایل این جی کے لیے عرب ممالک پر انحصار ہے۔
پاکستان کے لیے ایک تشویش یہ بھی ہے کہ اس کے ساٹھ لاکھ کے قریب شہری عرب ممالک میں ملازمتیں کرتے ہیں اور اُن کے گھر بار اُنہی کی آمدنی سے چلتے ہیں۔ اِس کے علاوہ جو چالیس بلین ڈالرز کا زرِ مبادلہ آتا ہے، اُس کی بھی زیادہ تر ترسیل عرب ممالک ہی سے ہوتی ہے۔ یہ پاکستان کی معیشت کا سب سے بڑا سہارا ہے، وگرنہ قرضے اور امداد تو چند ارب سے زیادہ نہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا تیسرا دَور ختم ہونے کے فوراً بعد ہی امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کردیا۔ اِسی لیے ایران کا کہنا ہے کہ اُسے دھوکا دیا گیا، جب کہ امریکا کا الزام ہے کہ ایران مذاکرات میں سنجیدہ نہیں تھا۔ اِن مذاکرات کا بنیادی مقصد ایران کے ایٹمی پروگرام سے متعلق کوئی ڈیل کرنا تھا، تاہم امریکا نے اُس میں ایران کا بلاسٹک میزائل پروگرام اور اُس کی ملیشیاز کے معاملات بھی شامل کر لیے۔
ایران کا ہمیشہ سے مؤقف رہا کہ اس کا نیوکلیئر پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔28 فروری کے حملوں میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کی سیاسی و فوجی قیادت ہلاک کرنے کے ساتھ، کمانڈ اینڈ کنٹرول اسٹرکچر تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ اس کے ساتھ ہی دارالحکومت، تہران سمیت تقریباً تمام شہروں پر فضائی حملے کیے۔ امریکا اور اسرائیل کا کہنا تھا کہ اُس کا ہدف فوجی تنصیبات ہیں، لیکن ایران کے مطابق، ان حملوں میں بڑی تعداد میں شہری بھی نشانہ بنے۔ ایران نے اِس مرتبہ اپنی حکمتِ عملی میں تبدیلی کی۔
اُس نے پہلے ہی وارننگ دی تھی کہ اگر اُس پر حملہ کیا گیا، تو وہ اسے’’آل آئوٹ وار‘‘ تصوّر کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا، جس کی پہلے مثال نہیں ملتی۔ یہ تنصیبات اس کے پڑوسی عرب ممالک میں ہیں، جو گزشتہ کئی سالوں سے ایران کا ساتھ بھی دیتے آ رہے ہیں اور اِنہوں نے امریکا اور اسرائیل کی کُھل کر مذمّت بھی کی ہے۔
بہرحال، ایران نے اپنی وارننگ پر عمل کر دِکھایا۔ اسرائیل پر تابڑ توڑ حملوں سے اُس کے دارالحکومت اور دوسرے شہروں میں بہت نقصان ہوا۔ فوجی اڈّوں پر حملوں میں امریکی فوجیوں کی ہلاکت بھی ہوئی۔ تاہم، ہلاکتوں پر دونوں اطراف سے متضاد د اعداد شمار سامنے آئے، لیکن یہ طے ہے کہ ایران نے اِس مرتبہ پوری شدّت سے جوابی کارروائی کی۔ سعودی عرب، یو اے ای اور قطر میں انرجی تنصیبات بھی حملوں کی زد میں آئیں، جنہیں بعدازاں بند کرنا پڑا۔
امریکا نے اکثر ممالک میں اپنے سفارت خانے بند کردئیے یا پھر عملے کی تعداد میں کمی کردی۔ آبنائے ہرمز جو علاقے اور دنیا کی اہم آبی گزر گاہ ہے، اُسے ایران نے بند کرنے کا اعلان کیا۔ یوں سمندروں میں بھی جنگ چھڑ گئی، جس میں ایک دوسرے کے بحری جہازوں پر حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ ایک لحاظ سے دیکھا جائے، تو مشرقِ وسطیٰ میں برسوں سے جس جنگ کے پھیلنے کا خطرہ ظاہر کیا جارہا تھا، وہ حقیقت بن گیا اور پورا علاقہ جنگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آگیا۔
ظاہر ہے، مشرقِ وسطیٰ تیل اور جغرافیائی اہمیت کے پیشِ نظر دنیا کا اہم ترین خطّہ ہے۔ دبئی جیسے شہر عالمی بزنس میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں، بلکہ یہ مشرقِ وسطی کا’’ بزنس حب‘‘ ہے۔ یہاں بھی ایرانی حملوں سے کاروبارِ زندگی بُری طرح متاثر ہوا۔
سعودی عرب دنیا کا سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والا مُلک ہے، تو قطر سب سے زیادہ ایل این جی فراہم کرتا ہے۔ نیز، اِن عرب ممالک میں خطّے کے تمام ممالک کے لاکھوں افراد روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں، جو اپنے ممالک کو زرِ مبادلہ بھیجتے ہیں۔ یوں جنگ سے پورا خطّہ ہی متاثر ہوا۔ پاکستان کے تقریباً ہر تیسرے، چوتھے گھر کا کوئی فرد کسی عرب مُلک میں موجود ہے اور یہ سلسلہ نصف صدی سے جاری ہے۔
ایران، مغربی ایشیا، مشرقی اور وسط ایشیا کا ایک اہم مُلک ہے، جس کی آبادی لگ بھگ نو کروڑ ہے۔ تہران اس کا دارالحکومت اور دنیا کے شہروں میں خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ ایران کی زمینی سرحدیں عراق، تُرکیہ، آذربائیجان، آرمینیا، بحیرۂ کیسپین، ترکمانستان، افغانستان اور پاکستان سے ملتی ہیں، جب کہ سمندری حدود میں خلیجِ اومان اور خلیجِ عرب آتے ہیں۔ اس کے31صوبے ہیں اور یہ ایشیا کا چھٹا بڑا مُلک ہے۔
ایران کا بڑا حصّہ پہاڑی علاقے پر مشتمل ہے، جسے’’پلیٹو‘‘ کہا جاتا ہے، جب کہ میدانی علاقے، صحرا اور دریا بھی موجود ہیں۔ ایشیا کا سب سے اونچا آتش فشاں ایران ہی میں ہے۔ میدانی علاقے زیادہ تر کیسپین سی، خلیجِ عرب اور خلیجِ اومان کے ساتھ ہیں۔ ایران کے پاس دنیا کی اہم آبی گزرگاہ، آبنائے ہرمز بھی ہے۔ یہ خلیجِ اومان اور خلیجِ عرب کے درمیان وہ واحد راستہ ہے، جو اردگر کے ممالک کو بحرِہند اور ریڈ سی تک راہ داری فراہم کرتا ہے۔ آبنائے ہرمز سے دنیا کا 20 فی صد تیل اور ایل این جی کے کنٹینرز گزرتے ہیں۔
ایران کا بندر عباس اس کے ایک کنارے پر واقع ہے، جب کہ دوسری طرف اومان اور یو اے ای ہیں۔ ایران خطّے کی بڑی بحری طاقت بھی ہے، اِس لیے اس کا آبنائے ہرمز پر مضبوط کنٹرول ہے۔ جب بھی اِس علاقے میں کوئی فوجی تنازع جنم لیتا ہے، تو سب سے حسّاس صُورتِ حال اِسی سمندری گزرگاہ کی ہوتی ہے اور اِس مرتبہ بھی ایسا ہی ہوا۔ دس سالہ ایران/عراق جنگ میں بھی اس پر غیر معمولی دباؤ رہا۔ 1979ء میں ایران میں انقلاب آیا، جس کے بانی آیت اللہ خمینی تھے۔
نئے نظام میں فیصلہ کُن اختیارات رہبرِ اعلیٰ کے پاس ہیں، جسے 86ارکان پر مشتمل ایک رہبر کاؤنسل چُنتی ہے۔ ایران میں سیاسی طور پر صدارتی پارلیمانی نظام بھی ہے۔ صدر کا انتخاب عوامی ووٹس سے کیا جاتا ہے۔ چالیس سال سے زاید عُمر کا ہر ایرانی شہری اِس عُہدے کے لیے انتخاب لڑسکتا ہے، لیکن بطور اُمیدوار اُس کے نام کی منظوری رہبر کاؤنسل ہی دیتی ہے، یعنی وہی شخص الیکشن لڑ سکتا ہے، جسے رہبر کاؤنسل اجازت دے۔
ارکانِ پارلیمان کا انتخاب بھی عوامی ووٹس سے ہوتا ہے۔ تاہم، تمام عُہدے رہبرِ اعلیٰ کے تابع ہیں۔ ایرانی تہذیب دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں میں سے ایک ہے۔ یہ مُلک ایک زمانے میں سُپر پاور تھا۔ فردوسی کا شاہ نامہ رزمیہ شاعری کا ایک عظیم شاہ کار ہے، جس میں قدیم ایران کی شان وشوکت کی جھلکیاں دیکھی جاسکتی ہیں۔ اسلام آنے کے بعد ایران، مسلم دنیا کا ایک اہم مُلک بن گیا۔ ایرانی عوام اپنی تہذیب اور اس کی روایات پر بہت فخر کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر وہاں اب بھی نوروز کا جشن پورے زور و شور سے منایا جاتا ہے۔
یہ دنیا میں تیل پیدا کرنے والا چوتھا بڑا مُلک ہے۔ یہاں برطانیہ کی برٹش پیٹرولیم کمپنی نے تیل نکالا، لیکن بعد میں اسے قومیا لیا گیا۔ ایک زمانے تک ایران اپنے تیل کی وجہ سے دنیا کے امیر ممالک میں شامل رہا۔ اِسے’’پولیس مین آف مِڈل ایسٹ‘‘ بھی کہا جاتا تھا۔ تاہم، جب ایران اورعالمی قوّتوں کا نیوکلیئر معاملات پر تنازع شروع ہوا، تو اِس پر اقتصادی پابندیاں لگنی شروع ہوگئیں۔ اِن طاقتوں کا الزام ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہے، جسے وہ مسترد کرتا چلا آ رہا ہے۔ اقتصادی پابندیوں نے اس کی معیشت کم زور کردی۔
یہاں تک کہ اب تو اسے اپنا تیل بھی فروخت کرنے کی اجازت نہیں۔ ایرانی ریال کی قدر 16لاکھ فی ڈالر تک گر چُکی ہے، جس کی وجہ سے افراطِ زر، بے روزگاری اور منہگائی نے عوام کو شدید ترین مشکلات سے دوچار کردیا۔ دو ماہ قبل وہاں بڑے پیمانے پر عوامی احتجاج بھی ہوئے، جس سے متعلق صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ ان میں سے چالیس فی صد مطالبات پر غور ہونا چاہیے۔ اِس احتجاج میں ہزاروں شہری ہلاک ہوئے، تاہم رہبرِ اعلیٰ اور حکّام کا کہنا تھا کہ یہ سب صدر ٹرمپ کے اُکسانے پر ہوا۔
اِسی معاشی کم زوری کی عکّاسی گزشتہ بیس سال سے صدارتی انتخابات میں بھی ہوتی رہی۔ صدر روحانی سے صدر پزشکیان تک، سب کا منشور مغربی طاقتوں سے بہتر تعلقات قائم کر کے اقتصادی پابندیوں سے چھٹکارا حاصل کرنا رہا، تاہم ایران کے سخت گیر عناصر مغرب پر کسی قسم کا بھروسا کرنے کے مخالف رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا نے ہمیشہ دھوکا دیا۔ صدر روحانی اپنے دور میں بڑی مشکل سے نیوکلیئر ڈیل میں کام یاب ہوئے، جس سے ایران کو کچھ ریلیف ملا، لیکن بعدازاں صدر ٹرمپ نے اقتدار سنبھالتے ہی یہ ڈیل ختم کردی۔
بعدازاں خبریں آتی رہیں کہ ایران یورینیم افزودگی کو بم گریڈ تک کرنے کے بالکل قریب ہے، جس سے وہ انکاری رہا، تاہم ایٹمی ایجینسی نے بھی ایران کے ایٹمی پروگرام پر شک و شبے کا اظہار کیا۔ ایران کا یہی ایٹمی پروگرام جنگ کی وجہ بنا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ کسی صُورت ایران کو ایٹمی طاقت نہیں بننے دیں گے۔ ایران کے انقلاب کے بعد سے امریکا اور مغربی ممالک سے تعلقات خراب ہی رہے ہیں۔
ایران نے ایک خاص جارحانہ خارجہ حکمتِ عملی اپنائی، جس کے تحت دفاع پر خصوصی توجّہ دی گئی۔ پاسدارانِ انقلاب قائم کی گئی، جس کا مقصد انقلاب کی حفاظت کرنا تھا۔ یہ فورس فوجی بھی ہے اور اندرونی دفاع کی ذمّے دار بھی۔ اس کے تحت ایران نے مشرقِ وسطیٰ کے طول وعرض میں مسلّح تنظیموں کا ایک نیٹ ورک قائم کیا اور پھر ان کی مدد سے اپنے اثرو رسوخ میں اضافہ کیا۔
یہ جنگ کب تک جاری رہے گی؟ اِس سے متعلق کچھ بھی کہنا مشکل ہے، لیکن اس کے منفی اثرات نے ابتدائی دنوں ہی میں دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، جو مزید بد سے بدترین شکل اختیار کرتے جائیں گے۔ پاکستان کا تیل و گیس کے حصول کے لیے مکمل انحصار سعودی عرب، قطر اور یو اے ای پر ہے۔ اگر اِن ممالک کی تنصیبات نشانہ بنتی رہیں اور توانائی کی سپلائی میں رکاوٹ یا تعطّل آ جاتا ہے، تو اِس صُورتِ حال سے پاکستان جیسے معاشی طور پر کم زور ممالک زیادہ متاثر ہوں گے، جہاں کے عوام پہلے ہی منہگائی کے غیر معمولی بوجھ تلے پِس رہے ہیں۔
روزمرّہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ کس طرح بیلنس کیا جائے، یہ اِتنا بڑا چیلنج ہے کہ حکومتیں تک ہل کر رہ جاتی ہیں۔ پھر معاشی دبائو کے ساتھ سیاسی عدم استحکام کا خطرہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ اگر یہ جنگ طول کھینچتی ہے یا اس میں انرجی ذرائع پر حملے جاری رہتے ہیں، تو اس سے امریکا، یورپ اور بڑے ممالک کو تو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا، لیکن غریب ممالک، جو پہلے ہی بمشکل گزارہ کر رہے ہیں، شدید ترین مشکلات کا شکار ہوجائیں گے۔
اِسی لیے یہ جنگ جس قدر جلد ختم ہوجائے، اُتنا ہی بہتر ہوگا۔ اس کے لیے نہ صرف سب کو دُعا کرنی چاہیے، بلکہ سفارتی سطح پر بھرپور کوششیں بھی ضروری ہیں۔ بہت سے تنازعات دہائیوں سے چلے آرہے ہیں، تو بہتر ہوگا کہ اُنہیں آہستہ آہستہ اور بُردباری سے حل کر کے دنیا کو مستحکم، عوام کو محفوظ کیا جائے اور حالات معمول پر لائے جائیں۔