کہتے ہیں کہ امن دو جنگوں کا درمیانی وقفہ ہے۔ لیکن دو جنگیں بہ یک وقت ہورہی ہوں تو امن کے لیے طویل انتظار کرنا پڑتا ہے۔ یوکرین پر روسی حملے کو چار برس پورے ہوگئے۔ اس جنگ کا سبب کوئی جانتا ہے اورنہ ہی جاننا چاہتا ہے۔ یہی روسی فوجیں سینتالیس سال پہلے افغانستان میں داخل ہوئی تھیں تو ہمارے لیے زندگی اورموت کا مسئلہ بن گیا تھا۔
جسے ہم سوویت یونین کہتے تھے وہ روس کے علاوہ پندرہ ریاستوں کا وفاق تھا۔ عام خیال ہے کہ سوویت یونین کے ٹوٹنے کی وجہ افغانستان میں مہم جوئی تھی۔ یہ وجہ بھی تھی، لیکن اصل وجہ یہ تھی کہ بیکریوں میں ڈبل روٹی ختم ہوگئی تھی۔ جب کمیونسٹ پارٹی کے سیکریٹری جنرل گوربا چوف بنےتو معیشت کا ادراک کرتے ہوئے انہوں نے اعلان کیا کہ اب ایک مرکزی حکومت نیّا پار نہیں لگا سکتی اور ہر ریاست اپنی معیشت چلانےمیں آزاد ہےتو آذر بائیجان ہو یا یوکرین سب خود مختار، آزاد ملک ہوگئے اور سوویت یونین ستر سال کی زندگی پاکر اپنے اختتام کو پہنچا۔
اب سوویت یونین کی جگہ روس تھا اور پندرہ دیگر ملک۔ روس کی معیشت اتنی ناتواں تھی کہ کئی حکم راں آئے اور گئے، پر ملک کو کوئی سنبھال نہ سکا۔ روس کی قسمت اس وقت چمکی جب امریکانے عراق پر حملہ کیا اور تیل کی قیمت 18 ڈالرز سے پچاس ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ روس تیل فروخت کرنے والا بڑ املک تھا۔ اسے تیل کے دُگنے دام ملنے لگے۔
صدر پوٹن برس ہا برس خفیہ ایجنسی KGB کے سربراہ رہ چکے تھے اور رموز مملکت سے بہ خوبی واقف تھے، بس پیسوں کی کمی نے ان کے ہاتھ باندھ رکھے تھے۔ پیٹرو ڈالرز آنا شروع ہوئے تو روس نے انگڑائی لی اور سوویت یونین کا وارث بن بیٹھا، ساتھ ہی سپر پاور نمبر دو۔
یوکرین، روس کا پڑوسی تھا اور سوویت یونین کے زمانے میں بہت سے روسی یہاں آباد ہوگئےتھے، خصوصاً گرم پانیوں والے سمندر (Black Sea) کے ساحلی شہروں میں۔ جب تک یوکرین میں روس نواز حکم راں آتے رہے، روسی نسل کی آبادی یوکرین میں خوش و خرم رہ رہی تھی، مگر جب صدر زیلنسکی نے یوکرینی قومیت کا نعرہ لگایا تو فساد کی بنیاد پڑگئی۔ فروری 2022 میں روس نے اپنے ٹینک یوکرین کی سرحد پارکر کے دو صوبوں،کریمیا اورڈوں باسی پر قبضہ کرلیا، جہاں روسی اکثریت میں تھے، انہیں آزاد کرلیا اور مقامی حکومت قائم کرکے تسلیم بھی کرلیا۔
یہ سب کچھ جنگ کے پہلے دو مہینے میں ہوگیا، کیوں کہ یہ اتنی ہی غیر مساوی جنگ تھی جتنی امریکا اور ایران کی۔ اس مرحلےپرروس کو جنگ سے باہر نکل آنا چاہیے تھا، مگر مسٹرپوٹن چاہتے تھے کہ یوکرین سرینڈر کرے تو جنگ بند ہو، مگر دو ماہ میں یورپ نے کروٹ لی اور سوچا کہ اگر روس یوکرین پر حملہ آور ہو سکتا ہے تو کل کلاں کو پولینڈ پر بھی ہوسکتا ہے۔ پھر کیا تھا، نیٹو حرکت میں آگیا اور امریکا اور کینیڈا سے یوکرین کو بھرپور امداد آنے لگی، مالی بھی اور اسلحے کی بھی۔
ساتھ ہی یوکرین کے مہاجرین کی آباد کاری بھی۔ اب یوکرین ایسا ڈٹ گیا کہ جنگ کا پانچواں سال ہے، مگر جنگ بندی کے کوئی آثار نہیں۔ اُس نے اپنے سے بہت بڑے اور سپرپاور ملک سے مقابلہ کیسے کیا؟ ہوا یوں کہ پہلے حملے میں یوکرین کا بڑا نقصان ہوا، دو صوبے ہاتھ سے نکل گئے۔ بھاری جانی نقصان اور روسی فضائی حملوں سے بچنے کے لیے شہر کے شہر خالی ہو گئے، پھر اس نے سنبھالا لیا اور ڈرون ٹیکنالوجی کو کام میں لایا۔
اُس نے اتنے چھوٹے اور سستے ڈرونز بنائے جن کی لاگت دس ،بیس ہزار ڈالرز تھی، جب کہ روس انہیں گرانے کےلیے جو بیرل استعمال کرتا وہ چالیس لاکھ کا تھا، جنگ کا پلہ یوکرین کے حق میں ہوگیا۔ روس ان ڈرونز کے حملوں سے اتنا تنگ آیا کہ اس نے ایران سے ڈرونز مانگے۔ ایران کے شاہد ڈرون اپنی کارکردگی ثابت کرچکے تھے، تو روس نے ایرانی ڈرونز سے یوکرین کا مقابلہ کیا۔ یوکرین نے بھی ہار نہ مانی اور اس نےڈرون گرانے کی ٹیکنالوجی پر محنت کرنا شروع کر دی۔
امریکا بھی اسی مشکل میں ہے۔ ایران ،امریکی اڈوں پر ڈرونز سے حملہ کرتا ہے اور کبھی سمندر میں تعینات امریکی بحری بیڑے پر اورایرانی ڈرونز گرانے کے لیے امریکیوں کو میزائل استعمال کرنا پڑتے ہیں۔ پہلے والے تین ہفتوں کی جنگ میں امریکا نے گیارہ سولانگ رینج میزائل، ایک ہزار ٹو ماہاک میزائل، بارہ سو پیٹریاٹ میزائل اور ایک ہزار گراؤنڈبیڈ میزائل استعمال کیے تھے۔ یہاں اسلحہ یورپ اور ایشیائی فوجی اڈوں سے سپلائی کیا گیا۔
اب یہ اڈے بڑی حد تک خالی پڑے ہیں جو چین یا روس سے امکانی جھڑپوں کے لیے مسلح کیے گئے تھے۔ اسے امریکا کا مالی نقصان نہ سمجھیے، ان میں سے بیش تر کی قیمت وہ خلیجی ملکوں سے ایڈوانس میں وصول کرچکا تھا، البتہ فوجی اڈوں کو دوبارہ مسلح کرنے میں وقت لگے گا۔
میزائل کی تیاری ایک طویل عمل ہے اور اس کا خام مواد حاصل کرنے میں مشکلات بھی ہیں۔ مثلاً وہ دھاتیں جو میزائل بنانے میں کام آتی ہیں، انہیں چین سے درآمد کرنا پڑتا ہے۔ موجودہ صورت حال میں اگر چین اس کی فروخت میں رخنہ ڈال دے تو یہ خسارہ پورا کرنا ممکن نہیں رہے گا۔
امریکا کے پاس اس جنگ کو جاری رکھنے کےلیے دوسرا راستہ یہ ہے کہ ایرانی ڈرونز مارگرانے کا کوئی سستا نسخہ دریافت کرلے اور میزائل استعمال ہونے سے بچ جائیں۔ اس پروجیکٹ پریوکرین تیزی سے کام کررہا ہے، کئی کارخانے اینٹی ڈرون اسلحے کی تیاری پر کام کررہے ہیں۔ امریکا اب جو امداد دے گا اس کے بدلے میں یوکرین ڈرون گرانے کی ٹیکنالوجی امریکا کو دینے کا پابند ہوگا۔
یوکرین نے ایک اور کام یابی بھی حاصل کی ہے۔ فضائی ڈرون کی طرح اس نے ایک زمینی ڈرون بھی بنایا، جو بغیر ڈرائیور، صرف ریموٹ کنٹرول سے روسی سرحد میں داخل ہو جائے گا۔ چوں کہ یوکرین کا روس کے ساتھ دو ہزار کلو میٹرز طویل بارڈر ہے، اس لیے یہ زمینی ڈرون بہت کارآمد جنگی ہتھیار ہے، البتہ اس میں امریکا کی دل چسپی نہ ہوگی۔ آبنائے ہرمز میں ایران کی بارودی سرنگیں اور کُھلے سمندر میں امریکی بحری بیڑے کی ناکہ بندی، دونوں طرف سے جہازوں پر حملے کے واقعات ’’بحری ڈرونز‘‘ کی ایجاد کا باعث بنیں گے۔
صدر زیلنسکی کو شکایت ہے کہ ایران کی جنگ نے امریکی امداد کو متاثر کیا ہے، بلکہ دنیا کی توجہ ان کی جنگ سے ہٹ گئی ہے۔ دنیا سے ان کی مراد نیٹو ہے، کیوں کہ دنیا تو اس جنگ سے پہلے ہی بے خبری کے عالم میں تھی یا نظر اندازکررہی تھی۔
البتہ یورپ، جو یوکرین کی پشت پناہی کررہا ہے، ایران کی جنگ سے پہلوتہی کرتا رہا، وہ کسی طرح اس میں شامل نہیں ہونا چاہتا تھا۔ لیکن تیل کی قلت اور اس کی بڑھتی قیمت نے یورپی ممالک کے لیے گمبھیر مسائل کھڑے کر دیے ہیں اور یوکرین کی جنگ اس کے لیے بھی ثانوی ہوگئی ہے۔
یوکرین کی حمایت میں امریکا نے روس پر تیل کی فروخت اور گیس کی ترسیل پر سخت پابندیاں لگادی تھیں جنہیں ایک ایک کرکے امریکانے خود ختم کیا۔ مسٹر زیلنسکی کی فکر مندی میں اضافہ ہورہا ہے ۔ قدرتی گیس کے ذخائر میں روس پہلے نمبر پر ہے، ایران دوسرے اور قطر تیسرے نمبر پر۔ روس نے گیس کی فروخت کے لیے کئی پائپ لائنز بچھائی ہیں، جو کئی ہزار کلو میٹر طویل ہیں اور پولینڈ، جرمنی، اٹلی جاتی ہیں، مگر یہ لائنیں یوکرین سے گزرتی ہیں، جو صدر زیلنسکی سے پہلے روس اس کا اتحادی تھا۔ ایسے میں ایک طرف ٹرمپ نے ان یورپی ملکوں سے روسی گیس کا استعمال کم سے کم اور متبادل تلاش کرنےکا کہا،دوسری طرف یوکرین نے ترسیل یہ کہہ کر روک دی کہ جنگ نے ان پائپ لائنوں کو ناکارہ کر دیا ہےاور مرمت میں وقت لگے گا۔
تیسری طرف روسی تیل لے جانے والی شپنگ کمپنیوں کو امریکانے بلیک لسٹ کرنے کی دھمکی دی۔ اس طرح روس کو گیس کی آمدن سے محروم کر کے یوکرین کی مدد کی جارہی تھی، مگر جب ایران پر حملہ ہوا، دنیا بھر میں توانائی کی قلت پیدا ہوئی اور منہگائی بڑھی تومسٹر ٹرمپ نے روس کے تیل اور گیس پر سے پابندیاں اٹھانا شروع کردیں تاکہ سپلائی بہ حال رہے اور آب نائے ہرمز کی بندش کے کچھ اثرات زائل ہوجائیں۔ پھر شپنگ کمپنیاں آزادانہ روسی تیل لے جانے لگیں، پائپ لائنز بھی کھلیں اور سب سے بڑھ کر تیل کی بڑھتی قیمت کی شکل میں مسٹرٹرمپ نے پوٹن کو وہ تحفہ پیش کیا جو ان کے خواب میں بھی نہیں تھا۔
روس اور چین خاموشی سے ایران کی مدد کرتے رہے ہیں۔ روس اسلحہ دیتارہا ہے اور چین ریڈار کی سہولت۔ گویا روس ایران کے ہاتھوں میں بندوق تھما دیتا، چین اپنی ٹارچ کی روشنی ٹارگٹ پر پھینکتا ہے اور یوں ایرانی حملہ کام یاب ہوجاتا ہے۔ اب حالات نے ایک اور کروٹ لی ہے۔ چار سال سے امریکا نے یوکرین کو روس کو زک پہنچانے کے لیے کھڑا رکھا ہے، اب پوٹن کی باری ہے۔ وہ اپنا حساب چکا ئیں گے۔
اب یہ دونوں معاملات ایک ہی طرح کے ہوگئے ہیں۔ امریکا بہ مقابلہ روس۔ کیوبا کے1962کے میزائل تنازعے کے68برس بعد اب پھر روس اور امریکا آمنے سامنے ہیں۔ کیا تیسری عالمی جنگ کا نقشہ بن چکا یا دو غیر مساوی جنگیں اب ایک مساوی جنگ میں تبدیل ہوگئی ہیں؟ مگر اب ایک تیسری سپر پاور بھی اس بساط پر موجود ہے اور اپنے مہرے درست کررہی ہے، لیکن اس کی پالیسی یہ نہیں کہ اپنی سرحدوں سے باہر نکل کر کسی کارروائی میں حصہ لے۔
پس پردہ تو وہ ہر جگہ موجود ہے۔ جنوبی چینی سمندر اور تائیوان پر ٹرمپ صاحب کے دعوے کبھی دھیمے نہیں پڑے، مگر ایران کی جنگ انہیں مہلت نہیں دے رہی کہ وہ ادہر کا رخ کریں۔ چین کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ اپنی گرفت مضبوط کرے، مگر جوں ہی وہ کوئی قدم اُٹھائے گا، ٹرمپ خود کو نہ روک سکیں گے اور منہ درمنہ چین سے بھی جھگڑا مول لے بیٹھیں گے ۔ چین کا صرف ایک ملک سے دفاعی معاہدہ ہے اور وہ ہے شمالی کوریا۔ اب آئندہ کے حالات کی بساط پوری طرح بچھ چکی ہے۔
جنگ ہماری سرحدوں پر لڑی جارہی ہے اور ہم اس میں گلے تک ڈوبے ہوئے ہیں۔ہم پاکستان کے ثالث کے کردار کی بات نہیں کررہے، ہمارے سامنے ایران کو آب نائے ہرمز کا متبادل راستہ دینے کا معاملہ ہے۔ وہ زمینی راستے سے تیل ہو یا کوئی بھی تجارتی سامان، کراچی کی بندرگاہ سے بر آمد کرسکتا ہے۔
ٹرمپ سے بڑا متلون مزاج شخص کوئی نہیں ۔ جس طرح وہ تیزی سے بیان بدلتے ہیں، اس سے لگتا ہےکہ ان کے دماغ کے سارے حصے بہ یک وقت کام کرتے ہیں۔ وہ کبھی پرجوش، کبھی بے پروا۔ آب نائے ہرمز کھولنے کے لیےانہوں نے ایران کو ہر ترغیب دے کر دیکھ لی، مگر جب وہ کھولنے پر تیار ہوا تو اس کی ناکہ بندی کردی تھی۔ پھر معاہدہ کیا اور پھر بند کردی۔
اس جنگ میں تین سپر پاورز مد مقابل ہیں، مگر ہماری دوستی تینوں سے ہے۔ امریکا سے تاریخی دوستی، چین سے ہمالیہ سے اونچی اور روس سے کھٹی میٹھی۔ پاکستان جیسے ہی وجود میں آیا، امریکا نے ڈیوٹی لگادی کہ کمیونزم ایک انچ آگے نہ بڑھنے پائے، چاہے تمہیں روس سے بلا سبب دشمنی مول لینا پڑے۔ لیکن روس نے کبھی برا نہ مانا۔ ساٹھ کی دہائی میں ہم نے توانائی کی تلاش میں مدد مانگی، روس نے آئل اینڈ گیس کارپوریشن کو اپنے پاؤں پر کھڑا کردیا۔ ہم نے اسٹیل مل کی درخواست کی ،وہ بن گئی۔ ہم چلانہ سکے، وہ الگ بات ہے۔
کیا ہم تینوں سے وفاداریاں نبھا پائیں گے؟ جیسے سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ بھی اور ایران کی طرف داری بھی۔ متحدہ عرب امارات سے ناراضی، مگر عمان سے پینگیں بڑھانا۔ ہم جانتے ہیں کہ عمان چاروں طرف سے متحدہ عرب امارات سے گھرا ہوا ہے اور آب نائے ہرمز سے عمان کے جس صوبے کا ساحل لگتا ہے وہ اصل عمان سے کٹاہوا ہے اور درمیان میں’’ یو اے ای‘‘ کی عمل داری حائل ہے۔ کیا ہم سوئزرلینڈ کی مانند غیر جانب دار رہتے ہوئے یہ سارے کام انجام دے سکیں گے؟
کیا ایران امریکا معاہدے یا ٹرمپ کی زبان میں ڈیل(Deal) ہونے سے جنگ کا اختتام ہوجائے گا؟ پہلے ہم یوکرین اور روس کی جاری چار سالہ جنگ کو دیکھ لیں۔ آپ بھولے نہ ہوں گے، جب ڈیڑھ سال پہلے صدر ٹرمپ نے روس کے صدر کو امریکی ریاست الاسکا آنے کی دعوت دی تھی۔
پوٹن صاحب گئے بھی، ریڈ کارپٹ پر استقبال بھی ہوا اور ٹرمپ نے یوکرین کی جنگ کو ختم کرنے کی کئی صورتیں ان کے سامنے رکھیں، مگر وہ نہ مانے اور جنگ جاری رہی، کبھی یوکرین اپنی بہتر صلاحیت اور جذبے سے سرشار فوج کی بدولت حاوی ہوجاتا، پھر جواباً روسی بھاری فوجی مشینری حرکت میں آتی ہے اور یوکرین کے صدر مقام کو روند کے رکھ دیتی ہے، بار بار نیٹو کی میٹنگیں ہوتی ہیں اور زیلنسکی صاحب کی امداد بھی بڑھا دی جاتی ہے اور ان کی ہمت بھی،مگر کیا مکمل جنگ بند ہوتی نظر آرہی ہے؟
اب امریکہ ایران جنگ کو دیکھیے آب نائے ہُرمز کُھلتی ہے پھر بند ہوجاتی ہے، دوست ممالک کے لیئےکُھلتی ہے مگر مخالفین کے لئے بند۔ اور کُھلی بھی ہو تو تیل بردار جہاز سمندر میں بچھی مائنز کے خطرے کے پیش نظر دور کھڑے رہنے میں عافیت سمجھتے ہیں ۔ 28فروری کو شہید ہونے والے آیت اللہ خامنہ ای، ان کا خاندان اور ان کے رفقا کی تدفین جولائی کے پہلے ہفتے میں ہوئی۔ ایرانی قیادت نے قوم کا خون گرمائے رکھا اور ٹرمپ صاحب عام ایرانی کو اپنے رہبر کے جنازے پر روتے دیکھ کر حیران ہوئے۔
امریکا نے منجمد اثاثے بھی ایران کو دینے کی بات کی، تیل ڈالروں میں بیچنے کی اجازت بھی، مگر ایرانیوں کا غصہ نہیں ختم ہو رہا۔ اب پھر امریکا ایران پر حملے کررہا ہے، ٹرمپ صاحب دھمکیاں بھی دیتے رہتے ہیں۔ ادہر اسرائیل کی شرانگیزیاں لبنان پر جاری ہیں تو جنگ دوبارہ پھیلنے کے امکانات ہر وقت ہیں اور امن دور ہے۔
جنگوں کا پھیلاؤ کسی کے حق میں نہیں۔ یہ ضرور ہے کہ طاقت وروں کا نقصان کم ہوتا ہے اور کم زور ممالک پس کر رہ جاتے ہیں، مگر جنگ طویل ہو، جیسے روس اور یوکرین کی، اسی طرح امریکا ایران تو پھر نقصانات عالمی نوعیت کے ہوتے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے نتیجے میں برطانیہ فاتحین کی صف میں ہونے کے باوجود ہندوستان سے دست بردار ہوا اور جہاں سورج غروب نہ ہوتا تھا وہ ایک جزیرہ بن کر رہ گیا۔
موجودہ جنگ سے امریکا کی ساکھ بہت بگڑی ہے اور امریکاکا صدر ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے، جب کہ چین اس جنگ سے مضبوط ہوکر باہر نکلے گا۔ رہا روس تو وہ سُپر پاور تو رہے گا، مگر تیسرے نمبر پر۔ مشترق وسطیٰ کی قیادت ایران کے ہاتھ میں جاسکتی ہے اور خلیجی بادشاہتیں اپنی بقا کے لیے ہاتھ پاوں مارتی رہ سکتی ہی۔ امن کی خواہش ہم سب کی ہے اور پاکستان کی سب سے بڑھ کر، جس نے نہ صرف ثالثی میں اپنا بھر پور کردار ادا کیا اور کررہا ہے بلکہ اپنی ساکھ بھی بڑھا رہا ہے۔
ہم سمجھ داری اور منصوبہ بندی سے کام لیں تو بہتری کی صورتیں نکل سکتی ہیں۔ سعودی عرب ایران کا خطے میں سب سے بڑا حریف تھا، لیکن پھر اچھے تعلقات کا خواہاں ہوا۔ وہ پاکستان کے ساتھ مل کر ضامن بنا، ایران کی رقم کی واپسی کا۔ اب بھی چند روشنی کی کرنیں ہیں جن سے اُمید کی ڈور بندھی ہوئی ہے۔