• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

تادم تحریر بے یقینی کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔آنے والے وقت کی دھندلی سی تصویر نظر بھی آرہی ہے۔ یہ مناسب موقع ہے کہ ہم آنے والے وقت کے لئے ہمیں سنجیدگی سے تیاری کرنا ہو گی۔ جنگ کی تباہ کاریاں ایک طرف،جس کا سامنا ایران لبنان اور خلیجی ممالک کریں گے، مگر تیل کی پیداوار اس کی ترسیل، دستیابی اور قیمت دنیا کے بیسوں ملکوں کو متاثر کریں گے، کسی قدر امریکیوں کو، اس سے کچھ زیادہ یورپی اقوام کو اور سب سے زیادہ ایشیائی ممالک کو،جس میں سری لنکا، تھائی لینڈ، فلپائن، بنگلہ دیش، ہندوستان اور پاکستان نمایاں ہیں۔

اس وقت تیل سے جڑی توانائی ،بحران کا شکارہے۔ سب سے پہلے قطر کی ایل این جی ، جو جنگ کے پہلے دن سے ہی منقطع ہو گئی اور جس کی بحالی دشوار ہے۔ قطر دنیا کی سب سے بڑی گیس فیلڈ نارتھ ڈوم سے کنوئوں سے گیس بیشک نکالتا رہے لیکن وہ پائپ لائن سے ایکسپورٹ نہیں کرتا وہ قدرتی گیس کو مائع میں تبدیل کر کے خصوصی بحری جہازوں میں بھر کر فروخت کرتا ہے۔ گیس کو مائع بنانے کیلئے درجہ حرارت نقطہ انجماد سے 162ڈگری سینٹی گریڈ نیچے لے جانے کیلئے جو تنصیبات برسا برس کی محنت سے بنائی گئی تھیں ان کو جزوی طور پر تباہ کیا جا چکا ہے۔

ایک میزائل حملہ مارچ کے پہلے ہفتے میں راس لفان (Ras Laffan) پر کیا گیا اور سترہ فیصد تنصیبات ٹوٹ پھوٹ گئیں ،جن کی مرمت میں کم از کم پانچ سال لگیں گے ،فی الحال جنگ بند تو نہیں ہوئی اگر ایک اور میزائل گرا تو راس لفان پچاس فیصد ناکارہ ہو جائے گا۔ دنیا کی تین بڑی کمپنیاں امریکی کمپنی ایکزون، فرانسسی کمپنی ٹوٹل اور برطانوی شیل نے راس لفان کا ایل این جی پلانٹ تیار کیا تھا، جس میں ان کا سرمایہ بھی لگا ہوا ہے۔

دنیا کا بیس فیصد ایل این جی اس پلانٹ سے ٹینکروں سے آبنائے برمز سے گزرتا ایشیا اور یورپ جاتا تھا ،جس میں پاکستان بھی شامل تھا اور ہماری قدرتی گیس جو سوئی اور سندھ پنجاب میں تقریباً سو چھوٹی بڑی فیلڈ سے آنے والی گیس میں شامل ہوتا تھا، اب یہ گیس نہیں آئے گی اور متبادل ڈھونڈنا آسان کام نہ ہوگا۔

ایران ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری سے تو ابھی دور ہے لیکن اسے غیر متوقع طور پر اس سے بھی زیادہ مہلک ہتھیار ہاتھ لگ گیا یعنی آبنائے ہرمز پر کنٹرول،صرف کنٹرول ہی نہیں بلکہ آمدنی کا نیا ذریعہ بھی، ہر گزرنے والے جہاز سے اگر وہ ٹول ٹیکس وصول کرے گا تو بعض ماہرین اندازاہ لگاتے ہیں کہ یہ آمدنی تیل کی فروخت سے کسی طرح کم نہ ہو گی۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ آبی گزر گاہیں، بین الاقوامی قوانین کے تحت ہر ایک کیلئے کھلی ہیں لیکن وہ ایک دوسرا بین الاقوامی قانون بھول جاتے ہیں کہ ہر ملک کے ساحل سے بارہ نائیکل میل تک کا سمندر اس کی ملکیت ہوتا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہر کچھ دن بعد پاکستان اور ہندوستان، قیدی ماہی گیروں کا تبادلے کرتے ہیں، وہ اسی قانون کی بدولت کہ ہماری ماہی گیر کشتی ہندوستان کے 12 میل کے اندر چلی جائے تواُنہیں گرفتار کر لیا جاتا ہے۔

خلیج فارس جو چوڑی کھلے سمندر کے پانی کی مانند ہے وہاں سے جہاز آزادی سے گزرتے رہیں گے مگر جب وہ تنگنائے ہرمز میں داخل ہونگے جو صرف 22میل چوڑی ہے تو اس کا آدھا حصہ ایران کی ملکیت اور آدھا عمان کا، مشکل یہ ہے کہ عمان والے حصے میں پانی کُھلا ہے اور بڑے جہازوں سے نہیں گزر سکتے۔ ایران کی ملکیت کا پانی گہرا ہے اور تیل بردار جہاز صرف یہیں سے گزرنے پر مجبور ہیں۔

ہرمز کا نیا راستہ اور ایران کا کنٹرول ٹرمپ صاحب کے لئے ناسور بن گیا، انہوں نے جواب میں ناکہ بندی (Blockade) کی کارروائی کر ڈالی۔ بارہ جنگی جہاز اور دس ہزار امریکی نیوی کے فوجی ایران کے جہازوں کا راستہ روکنے کے لیے کھڑے ہیں، گویا ایران اپنا اور اپنے دوستوں کے جہاز گزرنے دے رہا ہے تو اسے امریکی بیڑا واپس بھیج دے گا اور دشمن جہاز ایران داخل نہ ہونے دے گا، جیسے گزشتہ ہفتےایک ایسا دن تھا جب ایک جہاز بھی یہاں سے نہ جا سکا، کچھ فائرنگ کے واقعات بھی ہوئے۔

ایران اسے امریکہ کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزی قرار دے رہا ہے۔ اسے امریکہ پر اعتماد نہیں۔ وہ مذاکرات کی آڑ میں حملے کرتا رہا ہے اور آئندہ بھی خلاف وزیوں سے باز نہیں آئے گا۔ معاہدہ ہو بھی جائے تو وہ کاغذ ہی رہے گا۔ ان سب کے باوجود معاہدے کی ضرورت دونوں کو ہے۔ امریکہ تو دل و جان سے تیار ہے مگر ایران کو قائل کرنا مشکل نظر آرہا ہے۔

ٹرمپ جب بھی جنگ ختم کریں وہ کام ادھورا چھوڑ کر ہی اٹھیں گے۔ رجیم چینج کا خواب پریشان ہو چکا۔ ساڑھے چار سو کلو افزودہ یورنیم اب بھی ایران کے پاس ہے جس سے جوہری ہتھیار محض چند قدم کی دوری پر اور آبنائے ہرمز پر ایران کا پورا کنٹرول، مسٹر ٹرمپ کے لیےتو آبنائے ہرمز کی بندش ایک ڈرائونا خواب رہے گی۔ بے شک امریکہ تیل میں خود کفیل ہے اور اس کی ضرورت کا کوئی تیل اس تنگ آبی راستے سے نہیں گزرتا، مگر دنیا کا 20فیصد تو اسی راستے کے کھلے ہونے کا مرہون منت ہے۔

یہ تیل اگر ملکوں ملکوں نہیں پہنچتا تو اس کی قلت عالمی بھائو تو بڑھاتی رہے گی۔ وہ جتنی بھی سبسڈی دے دیں، عالمی منڈی کی قیمت امریکی پیٹرول کی قیمت بڑھاتی رہے گی۔ جنگ شروع ہونے سے پہلے امریکہ کے پیٹرول پمپ پر تین ڈالر کا گیلن تھا،جنگ چھڑی تو پونے چار ڈالر کا ہو گیا۔ اب پورے چار کا ہے بلکہ 4-10کا اور پانچ ڈالر کی طرف گامزن ہے۔

ایران کی فضائیہ تباہ، نیوی برباد، آدھے سے زیادہ جنگی سازو سامان یا تو استعمال ہو گیا یا کھڑے کھڑے بھسم۔ ریفائنری ، بجلی کے پلانٹ، تنصیبات اور عمارتیں بمباری کا شکار ہوئیں، مگر یہ دکھ زیادہ بڑا نہیں۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمت سرمایہ دستیاب کر دے گی،کہ افرادی قوت ایران کے نو کروڑ عوام ہیں۔ سب سے بڑھ کر فتح کے جذبے سے سرشار خطے میں ایران سب سے بڑی قوت بن کے اُبھرے گا۔ اور وہ بھی بلا شرکت غیرے۔

خلیجی ممالک یا یوں کہئے کہ عربوں کو زیادہ نقصان نہیں پہنچا ہے،جو تیل کی دولت رکھتے ہیں وہ اس جنگ سے دو گنا امیر ہو کر باہر نکلیں گے مگر دو زخم کھا کر۔ اول ایران کی بالا دستی تسلیم، دوسرے امریکہ کی دوستی مشتبہ۔ امریکہ کی ساکھ اس جنگ کے بعد جتنی بھی خراب ہو، اس کی دولت میں کوئی کمی نہیں واقع ہو گی اور نہ ٹیکنالوجی کے بڑھتے قدم رُکیں گے۔ اب عرب ممالک کو صرف ٹرمپ کے جانے کا انتظار کرنا ہو گا۔

یورپ اس جنگ میں نہ فریق تھا نہ امریکہ کا حمایتی بلکہ ایران پر حملے کی قراداد کو روس اور چین کے ساتھ فرانس نے ویٹو کیا، مگر یورپ ہل کر رہ گیا۔ یوکرین میں چار سال سے جاری جنگ نے ا سے روسی گیس پائپ لائن کا متبادل تلاش کرنے پر پہلے ہی مجبور کیا ہوا تھا،اب جب ٹرمپ نے ان ممالک سے مدد مانگی جن پر نیٹو کی چھتری پچھتر برس سے سایہ کیے ہوئے تھی تو یوروپی ملکوں کی چولیں ڈھیلی ہوگئیں۔

نیٹو کا حفاظتی حصار تو ان کے سروں پر تھا مگر اس کا چندہ یہ ادا نہ کرتے تھے،برسا برس سے ان کے حصے کا خرچہ بھی امریکہ پورا کر رہا تھا، اب اس کے غضب کا نشانہ تو انہوں نے بننا تھا۔ سوائے اسپین کےجس نے کھل کر امریکی حملے کو غیر قانونی کہا۔ تمام یوروپی ممالک نے نہ کھل کر حمایت کی نہ حملے کی مذمت۔ حمایت یوں نہ کرتے تھے کہ یہ غیر قانونی اور غیر اخلاقی عمل تھا اور مذمت کی ہمت ٹرمپ کے خوف سے نہ ہوتی تھی۔

بزدلی اسی کو کہتے ہیں ۔ جنگ ختم ہونے پر یورپی ممالک کو انفرادی طور پر اور اکٹھے ہو کر اپنی خود محتاری یا عزت کے بارے میں سوچنا ہو گا ۔ ٹرمپ کی مدت صدارت ختم ہونے سے یورپی ملکوں کی عزت بحال ہو گی اور نہ ہی محفوظ ہونگے،جب تک وہ اس کے لئے اقدامات نہ اُٹھائیں گے۔

جنگ کے بعد سب سے کٹھن وقت ایشیائی اور افریقی ملکوں پر ہو گا جن کا اس جنگ سے کچھ لینا دینا نہیں، مگر ان کے پاس اپنی ضرورت کا تیل نہیں۔ پاکستان، فلپائن، تھائی لینڈ، ویت نام، سری لنکا، بنگلہ دیش اور انڈیا۔ مہنگا تیل ان سب کی معیشت کو کچل کر رکھ دے گا۔ افریقی ملکوں کا کیا نام لوں جن کے پاس تیل نہیں وہ تو ایشیائی سے بھی زیادہ فاقوں کا سامنا کریں گے، مگر جن کے پاس تیل ہے جیسے نائجریا ، لیبا اور سوڈان وہ توایسی بدامنی اور خانہ جنگی میں مبتلا ہیں کہ اچھے دن ان سے بہت دور ہیں۔

جنوبی امریکہ کے ملکوں میں برازیل، یا ایک دو کو چھوڑ کر سب مصائب کا سامنا کریں گے، جن میں کیوبا سب سے پہلے، جس کا مقدر غربت تو بن چکی، اب کیا وینزویلا کی طرح اس ملک پر اصل حاکمیت امریکہ کی ہو گی؟ کمیونسٹ معاشی نظام سے دنیا کا ہر ملک باہر نکل گیا،چین اور روس بھی مگر کیوبا ابھی تک گلے لگائے ہوئے ہے،جب تک وہ اس کمبل کو نہیں چھوڑتا بدقسمتی اس کا پیچھا نہیں چھوڑنے والی۔

چین تیل کا بہت بڑا امپورٹر ہے،اسے بدلتی دنیا کا ادراک تھا بھی اور ہے بھی ،مگر تیل کی یہ مشکل ہے کہ وہ جوتوں کی فیکٹری نہیں کہ پیداوار بڑھا دی جائے۔ اس کے زیر زمین ذخیرے لاکھوں بلکہ کروڑوں سال میں بنتے ہیں۔ اس لیے چین نے دو سمت میں قدم اٹھایا۔ اول اس نے تیل کے بڑے بڑے اسٹوریج بنائے جس میں نوے دن کا تیل ہر وقت محفوظ رہے۔

دوسرے الیکٹرک گاڑیوں میں اضافہ کیا۔ تیسرا کام یہ بھی کیا کہ بجلی کوئلے سے بنائی جائے اور تیل پر انحصار کم کر دیا جائےلیکن کیا ان اقدامات سے چین کی مشکل حل ہوئی؟ مطلق نہیں!جنگیں برسہا برس چلتی ہیں، تین مہینے کا ریزوو تیل ایک شعلے کی طرح بھڑک کر ختم ہو جائے گا۔ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی تعداد تھوڑی دیر کا ساتھ ہیں۔ چین کو تیل پیدا کرنے والے ممالک سے اپنے معاملات بہتر کرنا ہوں گے۔

روس تیل فروخت کرنے والا بہت بڑا ملک ہے اور ترسیل میں کوئی تنگنائے آب حائل نہیں۔ صرف مائو اور اسٹالین کے وقت کی تلخیاں بھلانی ہوں گی۔ ویسے بھی روس اور چین کا ہاتھ ملانا ایک نیک فال ہوگا جو امریکہ کی من مانی کا مقابلہ کر سکے۔

اس بدلتی، چٹختی، شعلوں اور دھوئیں میں لپٹی دنیا میں بھارت کہاں کھڑا ہے؟سچ پوچھیں تو وہ دم سادھے ہوئے ہے۔ ٹرمپ کی ساری خوشامد اور جنگ سے ایک دن کے لئے اسرائیل کا دورہ اس کے گلے پڑ گیا۔ پاکستان کا بڑھ بڑھ کر معاہدے کی باتیں کرنا، اس کے لئے سوہان روح،مگر اس کا بھی اصل مسئلہ چین کے جیسا ہی ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی آبادی والا ملک صنعتی ترقی کا ڈول ڈالے بیٹھا ہے مگر ضرورت کا پچاس فیصد تیل کا خریدار ہے۔ اس کی اُمیدیں بھی روس سے وابستہ ہیں، جس سے دیرینہ تعلقات کی بنا پر ضرورت پوری ہو سکتی ہے مگر اس کے بیچ بھی امریکہ بہادر کی ٹیرف کی دھمکیاں ہیں۔

کینیڈا، جسےپانچ ملین بیرل تیل کی پیداوار کی وجہ سے نصف سعودیہ کہہ سکتے ہیں اور یہ بھی کہ اس کے ذخائر سعودیہ سے زیادہ ہیں۔ ہاں وینزویلا کی طرح اس کے ذخائر کا بڑا حصہ بھاری تیل بلکہ ریت کے ذرات میں پھنسا تیل ہے،جس کا نکالنا مہنگا اور ماحول کے لئے مضر اثرات کا حامل ہے،مگر حالت جنگ میں سب ممکن ہوتا ہے۔کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی اپنے ملک کو مڈل پاور کہتے ہیں۔ یعنی وہ امریکہ، چین اور روس سے اپنا مقابلہ نہیں کرتے۔

وہ فرانس اور برطانیہ کو بھی بڑی طاقت مانتے ہیں۔ لیکن ان پانچ ویٹو والے ممالک کے بعد ان کا نمبر ہے۔ وہ رقبے میں روس کے بعد دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔ اور قدرتی وسائل سے مالا مال،دیگر وسائل کے علاوہ، وہ تیل کی دنیا کا اہم کھلاڑی ہے،اس حد تک کہ وہ تیل بھی امریکہ کی ضروریات پوری کرنے بعد کسی کو بیچتا ہے۔ مگر ایران، یوکرین اور حماس نے دنیا کا نقشہ بدل دیا ہے۔

مارک کارنی نے پہلی دفعہ یہ کام کیا کہ انہوں نے جتنا تیل امریکہ کو کم قیمت پر بیچا ،اس سے زیادہ تیل چین کو مارکیٹ پرائس پر بحرالکاہل سے گزر کر بیچا،ساتھ بھارت پر بھی انکی نظر کرم ہے۔ آنے والے دنوں میں کارنی کا کینیڈا اہم رول ادا کرے گا۔ وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں اب دوستیاں نہ تو پائیدار ہوں گی نہ ہی بلاک بنانے کی سیاست کی کوئی جگہ ہوگی۔

کوئی دو ملک جہاں مشترکہ فائدہ دیکھیں، تجارت کریں، معاہدے کریں ۔ مگر دیگر ملکوں سے معاملات کرنے میں وہ آزاد ہوں تو کینیڈا بھارت کو بھی تیل بیچے گا اور چین کو بھی۔ اور بھارت چین مخاصمت ہے اس کا کوئی واسطہ نہ ہوگا۔

اس وقت جب دنیا کے بیشتر ملک تارکین وطن کیلئے سخت قوانین بنارہے ہیں اور بعضے کھلے عام تعصب برت رہے ہیں وہاں کینیڈا پڑھے لکھے اور اپنےماہرین کو خوش آمدید کہہ رہا ہے۔ ہائی ٹیک میں وہ پہلے ہی بہت آگے ہیں ۔ اے آئی کے خالق مسٹر ہنٹن (Hunton) کینیڈا کے شہری ہیں اور کینیڈا کی یونیورسٹیاں عالمی رینکنگ میں کسی سے پیچھے نہیں۔

ریاضی کا ذہن رسا رکھنے والا ہندوستانی جوان دو لاکھ ڈالر ویزا فیس دینے کے بجائے کینیڈا کا رخ کرے گا ۔ کینیڈا diversity یعنی تنوع کو اپنی طاقت قرار دیتا ہے۔ وہ تارکین وطن کو اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنے کلچر، اپنے کھانوں، اپنے لباس اور اپنے مذہب پر قائم ہیں لیکن کینیڈا کی جو خدمت ان پر واجب ہے اس میں کوتاہی نہ کریں تو وہ برابر کے شہری ہیں۔

آنے والے وقت میں کینیڈا عالمی سیاست میں اہم رول اختیار کرے گا۔ تیل، اسٹیل، المونیم اور ٹمبر کی دولت سے مالامال اور جغرافیائی طور پر الگ تھلگ، مگر دنیا کے اہم ملکوں سے اچھے تعلقات اسے بین الاقوامی سیاست کا اہم کھلاڑی بنا دیں گے۔ یہ آنے والے وقت کی دھندلی اور نامکمل تصویر ہے۔ ہر دن کے بدلتے دعوے اور تیزی سے تبدیل ہوتی صورت حال کے باعث ہمیں ہمہ وقت چوکنا رہنا ہو گا اور مقابلے کے لئے تیار۔

عالمی منظر نامہ سے مزید