ایران نے آبنائے ہرمز کی بندش کو بہت کام یابی سے استعمال کیا ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے تحت آبنائے ہرمز کا چوڑا راستہ سب کے لئے ہے لیکن اس کا تنگ حصہ جو صرف 26 کلو میٹر چوڑا ہے وہ ایران اور عمان کی مشترکہ ملکیت ہے اور انہیں اختیار ہے کہ وہ کسے وہاں سے گزرنے دیں اور کسے روک دیں۔ یہ دورانِ جنگ دشمنوں کے جہازوں کے لیے بند اور دوستوں کے جہازوں کے لیے کُھلی تھی۔
وزیر اعظم پاکستان، شہباز شریف،چیف آف آرمی اسٹاف اورچیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم مینر کی جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں کام یاب ہو گئیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی کہ ایران پر حملے کے بعد پہلے روز سے پاکستان نے پوری کوشش کی کہ اس آگ پر پانی ڈالا جاسکے، جو پورے خطے کو لپیٹ میں لے رہی ہے اور اس کے اثرات پوری دنیا پر پڑ رہے ہیں۔
جنگ کی وجہ سے تیل اور گیس کی قلت کے باعث عالمی معیشت کو بریک لگنے لگے، آئی ایم ایف سمیت عالمی ادارے اور معاشی ماہرین نےخبردار کیاکہ جنگ رُکنے کے بعد بھی اس کے اثرات کئی برسوں تک محسوس کیے جائیں گے، پاکستان نے جنگ رکوانے کے لیے پورے خلوص کے ساتھ کوششیں کیں۔
امریکا اور ایران میں دو ہفتوں کی جنگ بندی کےاعلان کےبعد ،آبنائے ہرمز کُھلی اور پھر بند ہوئی۔ کیاکوئی یقین کرے گاکہ جنگ بندی سے قبل تین ہزار بحری جہاز آبنائے ہرمز میں راستہ کُھلنے کے انتظار میں کھڑے تھے، جن پر کروڑوں بیرل تیل تھا۔ جنگ بندی سے پہلے مسٹر ٹرمپ نے 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیا تھا کہ یہ راستہ کھول دو ورنہ ہم خارگ جزیرے کے تیل کے ذخائر کو تباہ کردیں گے اورایران کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کو بھی۔
پھر انہوں نے سوچا کہ خارگ جزیرے کی تنصیبات کی تباہی کو دوبارہ قابل استعمال بنانے میں کچھ نہیں تو پانچ سال لگیں گے اور اس عرصے میں ایران چارملین بیرل تیل روزانہ کنوؤں سے نکالے گا، مگر برآمد نہیں کرسکے گا تو آمدن سے محروم ہوجائے گا، مگر تیل کی قلت دنیا کو لپیٹ میں لے لے گی۔
اس لیےٹرمپ نے دس دن ایران کو مذاکرات کے لئے اور دے دیئے، ساتھ ہی اپنے پندرہ مطالبات۔ خیال تھا اگر مذاکرات ہوئے تو ایران جوہری توانائی سے دستبردار ہونے پر لچک دکھائے گا مگر باقی نکات مسترد کردے گا اور پھر ٹرمپ صاحب کو ’’زندگی یا موت‘‘ والا فیصلہ کرنا پڑے گا۔
اگر حملہ کرتے تو برس ہا برس مہنگا پیٹرول امریکہ کے ’’گیس اسٹیشنوں‘‘پر اور ہمارے پیٹرول پمپوں پر بھی، اگر نہیں کرتے تو کیا وہ وائٹ ہاؤس کے صدارتی کمرے میں میز پر سرجھکائے بیٹھے رہیں گے۔ یہ دونوں کام وہ نہیں کرنے والے تھے، بلکہ انہیں پینترا بدل کر کوئی نیا منظر نامہ بنانا تھا۔
آخر رجیم چینج کو انہوں نے بھلادیانا اور نہ بھی بھولے ہوں تو ہضم کرگئے۔ یہ ایران کی بہت بڑی کام یابی ہے، بلکہ عوامی اتحاد کا عظیم مظاہرہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ پہلے جنگ بندی پھر مذاکرات ہوتے نظر تو آرہے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ معاہدہ ہوگیا تو وہ کتنے دن چلے گا؟ افغانستان میں جنگ کے دوران کتنے مذاکرات اور کتنے معاہدے ہوئے، نتیجہ سب کے سامنے ہے۔
آج بیس برس بعد بھی ہم باقاعدہ جنگ کی حالت میں ہیں، لیکن ایک بڑی جنگ نے اس چھوٹی جنگ کو اور اس جنگ کو جو روس اور یوکرین کے درمیان ہورہی ہے، نظروں سے اوجھل کردیا، مگر گولہ بارود بھی استعمال ہو رہا ہے، ڈرون، میزائل بھی داغے جا رہے ہیں، لوگ مررہے ہیں اور زخمی بھی ہو رہے ہیں۔ پاکستان کے لئے بڑا اعزاز ہے کہ مذاکرات کے لیے اسلام آباد کا نام ہرجگہ لیا جارہا ہے۔
امریکی دھمکیوں کی گونج میں اسلام آباد امن فارمولا پیش تو کردیا گیا ہے، مگر حتمی نتیجہ کیا ہوگا کیا، یہ وقت بتائے گا۔ اس وقت1943کی تہران کانفرنس یاد آرہی ہے جہاں روز ویلٹ، چرچل اور اسٹالن میز کے گرد بیٹھے اور طے کیا کہ سب سے پہلے مل کرفرانس کو ہٹلرکے قبضے سے چھڑائیں گے، ساتھ ہی اسٹالن نے جرمنی کے مشرق میں محاذ کُھولنے کا عندیہ دیا اور یہ کہ ایران کی خود مختاری کو ہماری ضمانت حاصل ہوگی۔
مذاکرات وہ ہڈی ہے جو عموماً گلے میں پھنس جاتی ہے، نہ اُگلی جاتی ہے نہ نگلی۔ مذاکرات سے اُمیدیں ضرور لگائی جائیں، لیکن مسٹر ٹرمپ کی بے چین طبیعت اور انکی Mega سوچ جس کے ہجے وہ MAGAکرتے ہیں، ہم نظر انداز نہیں کرسکتے۔
آئیے، دیکھیں وینزویلا اور ایران کےلیےان کے عزائم کیا ہیں یایوں کہیں کہ ایران کی مہم جوئی کی خفت مٹانے کے لئے وہ کون سی نئی مہموں پر نکل سکتے ہیں۔ کینیڈا ایک بہت بڑا ملک ہے، روس کے بعد رقبے میں سب سے بڑا اور اپنے پڑوسی امریکا، جسے وہ ہمیشہ بڑا بھائی کہتا آیا ہے، اس سے بھی بڑا، البتہ آبادی کم ہے اور بہت بڑا رقبہ برف سے ڈھکا ہوا ہے۔
بڑا بھائی ہونے پر پیٹرٹروڈو (Pietre Trudeau) یعنی نوجوان ٹروڈو کے والد، جنہوں نے دنیا کے سامنے کینیڈا کو ایک اہم ملک کی حیثیت سے متعارف کرایا، کہتے ہیں کہ اگر آپ ایک کمرے میں ہاتھی کے ساتھ لیٹے ہوں، وہ کروٹ بھی لے تو آپ پِس جائیں گے۔ یہ واقعہ ٹرمپ کے دوسری مرتبہ منتخب ہونے پر پیش آہی گیا۔
مسٹر ٹرمپ نے باکسنگ کا ایک نسخہ آزمایا کہ اپنی بڑائی اور عظمت کے گن خود ہی گاتے رہو، مد مقابل دباؤ میں آجائے گا۔ انہوں نے زیرِ لب کہنا شروع کیا کہ کینڈا اگر امریکہ کا ایک صوبہ بن جائے تو ہم عظیم ملک بن جائیں گے۔ مگر کینیڈین عوام کو جب اس کی بھنک ملی تو وہ متحد ہوگئے۔ الیکشن سامنے تھے ٹرمپ سے متاثر کنزر ویٹو پارٹی بہت آگے تھی۔
ووٹروں نے الیکشن کے نتائج کو سرکے بل الٹا کھڑا کردیا یعنی کنزرویٹو پارٹی بھی ہاری اور انکا لیڈر اپنی سیٹ بھی۔ لبرل پارٹی جو ٹرمپ کے اثرسے آزاد تھی، حکومت میں آگئی۔ وزیراعظم مارک کارنی جب ٹرمپ سے پہلی دفعہ ملنے گئے تو انکی کیفیت بھیگی بلی کی سی تھی۔ ایک ہفتہ پہلے وہ یوکرین کے صدر زیلنسکی کو وائٹ ہاؤس میں بے عزت ہوتے دیکھ چکے تھے کہ تم ہوکیا؟، ’’تمہارے ہاتھ میں کوئی کارڈ نہیں‘‘۔
وزیراعظم کینیڈا ٹرمپ کے سامنے تو چپ رہے مگر ملاقات سے واپس آکر دو بڑے فیصلے خاموشی سے کیے۔ دفاعی اخراجات کا بجٹ دگنا کردیا اور معاشی خوشحالی کے کئی پروجیکٹ ایک ساتھ شروع کر دیے۔ ایک سال بعد انہیں بدلہ لینے کا موقع ملا۔
سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں اکنامک فورم ہو رہا تھا، جس میں مارک کارنی نے وہ تقریر کی کہ صدر ٹرمپ اس فورم میں مزید ٹھہر نہ سکے اور کوئی بہانہ کرکے وائٹ ہاؤس واپس چلے گئے۔ اب وہ کینیڈا اور گرین لینڈ کے معاملے پر کچھ بول نہیں رہے۔ وینز ویلا پر قابو پانے کے بعد ایران کی مہم پر بھی کام یابی اور ناکامی دونوں صورتوں میں انہیں پھر سے یاد آئے گا کہ ان دونوں کی خبر لینا باقی ہے۔
گرین لینڈ پر ٹرمپ کے دعوے نے ڈنمارک کی سوچ بدل دی۔ مستنصرحسین تارڑ ڈنمارک کو ڈاک کے ٹکٹ برابر ملک کہتے ہیں۔ نقشے پر دیکھیں تو یہ جرمنی کی شمالی سرحد پر ایک انگوٹھے کی طرح بحیرہ بالٹک میں ایستادہ ہے۔ لمبائی بہت ہوئی تو دوسو میل، یعنی کراچی سے نواب شاہ اور چوڑائی اس سے بھی کم ۔ فی کس سالانہ آمدنی 68 ہزار ڈالر جبکہ ہماری آمدن پندرہ سو ڈالر فی کس، پورے سال میں۔
یہ تو ہوا ڈنمارک کا تعارف۔ مزید یہ کہ تین چوتھائی رقبہ برف سے ڈھکا ہے، لیکن اس کے نیچے معدنیات دفن ہیں، بشمول ریئر ارتھ منرلز کے، یعنی سترہ نایاب دھاتیں جو طاقت ور برق مقناطیسی خصوصیات رکھتی ہیں اور آج کی ٹیکنالوجی کالازمی جزو ہیں۔ ان دھاتوں کے ذخیرے پر ابھی چین کی اجارہ داری ہے، جسے ختم کرنے کے لیے ٹرمپ کو دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ گرین لینڈ چاہیے۔
فی الوقت وہ اپنے مطالبے سے پیچھے ہٹ گئے ہیں، مگر ڈنمارک کو خدشہ ہے کہ ایران کی جنگ سے نکلنے کے بعد ان کی توجہ پھر گرین لینڈ پر ہوگی۔ امریکی دائرہ اثر کو وسیع کرنے کے لئے بھی اور ایران سے ناکامی کی خفت مٹانے کے لیے بھی۔
ڈنمارک کی وزیراعظم ایک خاتون، فریڈرکس ہیں، جو آٹھ برس سے حکومت کررہی ہیں۔ ان کی پارٹی مقبولیت کھورہی تھی، مگر ٹرمپ کے سامنے ڈٹ جانے کی وجہ سے امکان ہے کہ وہ تیسری مرتبہ بھی وزیرِ اعظم منتخب ہوجائیں گی۔ ڈنمارک کے لوگ خوشحال بھی ہیں اور خوش بھی۔ خوشحالی اور خوشی دو علیٰحدہ چیزیں ہیں ۔ بہت سے خوشحال لوگوں کو فکر و پریشانیوں میں مبتلا دیکھاہے۔ خوشی کا منہ وہ کبھی کبھی ہی دیکھتے ہیں۔
ہمارے عوام اپنی بدحالی میں بھی خوش دکھائی دیتے ہیں۔ گرین لینڈ پر ٹرمپ کی للچاتی نظروں سے ڈنمارک والوں کی سوچ بدل گئی ہے۔ اب وہ امریکا کے قابل اعتماد دوست کے درجے سے نکل کر محتاط ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ دفاعی اخراجات دُگنے ہوچکے ہیں، قومی تہواروں کی چھٹیوں میں کمی، اُمراء پر ٹیکسوں میں اضافہ۔ وہ مقابلے کے لئے تیار ہیں۔
کیوبا دنیا کا آخری کمیونسٹ ملک ہے جہاں سوویت یونین کے زمانے سے اور اس کے دیے گئے ماڈل کے مطابق ایک پارٹی کی حکومت ہے اور سوشلسٹ مرکزی معیشت۔ کہنے کو چین، کوریا، لاؤس اور ویت نام میں بھی کمیونسٹ ہیں، کیونکہ ان چار ملکوں میں بھی ایک ہی پارٹی یعنی کمیونسٹوں کی حکومت ہے، مگر ان کے ہاں معیشت پر ریاست کا کنٹرول ختم ہوچکا ہے اور پرائیویٹ بزنس رواں دواں ہے خصوصاً چین میں۔ وینزویلا اس کا اُلٹ ہے، یعنی وہاں دو پارٹیاں ضرور ہیں ،مگر حکومت صرف کمیونسٹوں کےہاتھ میں ہے۔
ملک کی بدحالی کا سبب دوسرا عنصر ہے، یعنی جب پانچوں کمیونسٹ ملکوں نے پرائیویٹ بزنس کی اجازت دے دی، وینزویلاکی معاشی سرگرمیاں حکومتی اہل کاروں کے ہاتھ میں ہے، جیسے نیشنلایزیشن کی پالیسی نے وطن عزیز کی ترقی کو روک دیا اور مہنگائی، بدحالی، آئی ایم ایف کے قرضوں میں جکڑ ڈالا۔ یہی حال وینزویلا اور کیوبا کا ہے۔
مسٹر ٹرمپ عظیم امریکا کے نعرے کے ساتھ وینزو یلا پر اپنے پنجے گاڑ چکے اور جس ملک میں دنیا کا سب سے بڑا تیل کا ذخیرہ ہےوہ ان کا تابع ہوگیا۔ امریکا کو اس تیل کی ضرورت نہیں، مگر وہ اس تیل کو نہ کیوبا پہنچنے دے گا، نہ چین، یعنی ایک تیر سے تین شکار۔ وینزویلا آپ کی ملکیت میں آگیا، کیوبا تیل کے فاقے میں مبتلا ہوگیا اور چین کے کان کھڑے ہوگئے کہ اس کے پانچ میں سے دو سپلائر ہاتھ سے نکل گئے ،یعنی وینزویلا اور ایران۔
کیوبا حالت نزع میں ہے۔ ٹرمپ نے دو مہینے پہلے کہا تھا،’’میں اسے لے لوں گا‘‘۔ لیکن انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ وہ اسے کیسے لے لیں گے۔ کیا کیوبا کا صدر بھی اٹھوالیا جائے گا یا اس کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی۔ بھوک اور افلاس کا مارا کیوبا خود پکے ہوئے آم کی طرح ٹرمپ کی جھولی میں آگرے گا۔
آپ کیوبا کو شاید بھول گئے ہوں گے، مگر گوانتا ناموبے تو نہیں بھولے ہوں گے۔ یہ جگہ کیوبا کا حصہ ہے، مگر امریکا نے اسے مستقل لیز پر لے رکھا ہے۔ یہاں امریکن نیوی کا اڈہ ہے اور ایک کیمپ جہاں کئی نامور پاکستانی قید رہے۔
دنیا نے ٹرمپ کی وسعت پسندی کی ہوس دیکھ لی ہے۔وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ میکسیکو ان کا جنوبی پڑوسی ملک ہے، اس پر بھی وہ الزام تراشی کرچکے ہیں۔ بھاری تعداد میں غیر ملکی میکسیکو کے شہری، امریکی ریاست ٹیکساس میں داخل ہوتے ہیں۔ منشیات کی اسمگلنگ بھی امریکا کے تعلیمی اداروں کا ناسور ہے۔اتنے بہانے کافی ہیں، اس لیے بہت ممکن ہے کہ میکسیکو ان کا اگلا شکار ہو۔
چلیں ہم یہاں رک جاتے ہیں، حالانکہ مسٹر ٹرمپ نہیں رُکیں گے، لیکن ہوگا یہ کہ ان کی موجودہ صدارت کی ٹرم ختم ہوجائے گی، مگر وہ خاموش تب بھی نہیں رہیں گے۔ اپنے جرائم دوسروں کے سر تھوپنے میں مسٹر ٹرمپ کو مہارت حاصل ہے۔ اپنی پہلی ٹرم میں پارلیمنٹ نے انہیں دو مرتبہ مواخذے کی گرفت میں لیا اور وہ بچ نکلے۔
مگر جب جو بائیڈن سے الیکشن ہارے اور صدارتی محل کا گھیراؤ ہوا تو ایسا عمل امریکا کی تاریخ میں دیکھنے میں نہیں آیا۔ 2024 میں انہیں طوائفوں کو خاموش رہنے کی قیمت ادا کرنے پر عدالت نے مجرم قرار دیا، اس کے باجود دوسری دفعہ الیکشن جیت کر برسراقتدار آگئے۔ کیا ٹرمپ کی بد اعمالیوں سے ہم ان کے ووٹر کو بری الزمہ قرار دے سکتے ہیں؟
آبنائے ہرمزکے معاملے میں ان کی پُھرتیاں دیکھیے۔ بندش ختم کرنےسے قبل ایران نے اسے دوستوں کے لیےکُھلی اور دشمنوں کے لئے بند رکھی تھی۔ ٹرمپ نے برطانیہ کو مدد کے لیے بلایا، نیٹو کو پکارا۔ اسپین نے کھلے عام ان کے اقدامات کی مذمت کی۔ جرمنی نے کہا کہ جنگ ہم سے پوچھ کر نہیں شروع کی۔
سارے یورپی ممالک منہ میں گھونگنیاں ڈالے بیٹھے رہے تو ٹرمپ صاحب نےقوم سے خطاب میں کہا کہ مجھے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں، میں آبنائے ہرمز اکیلے کھلواؤں گا۔
مگر جب محسوس کیا کہ اس میں بڑے خطرات ہیں تو پیچھے ہٹ گئے اور کہا کہ امریکا کا تیل یہاں سے گزرنا نہیں تو میں کیوں کھلواؤں، جن کا تیل گزرتا ہے، وہ خود کھلوائیں۔
پاکستان نے اسے کھلوانے کے لیے مخلصانہ کوشش کی۔ لیکن ٹرمپ سے کوئی پوچھے کہ یہ بند کس کے کرتوتوں سے ہوئی؟ ٹرمپ صاحب کی یہ تقریرکہ ’’خود جاؤ اور حاصل کرو ‘‘، ایک شکست خوردہ حکم راں کی تقریر تھی، جس پرپوری دنیا تھو تھو کرتی رہی، لیکن ٹرمپ کی موٹی کھال پر کوئی اثر ہی نہیں ہوا۔
پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کی کوشش ایک بروقت اور دوراندیش سفارتی اقدام ہے جو دونوں ممالک کے ساتھ اس کے بااعتماد تعلق کا اظہار ہے۔ یہ اقدام پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک اور اہم کام یابی ہے اور اس سے پاکستان کے عالمی کردار اور اہمیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کی جانب سے مشرقِ وسطی کی کشیدہ صورت حال میں اس مثبت پیش رفت سے نتیجہ خیز اور قابلِ عمل مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی ہے۔
تاہم اس کوشش کو کامیاب بنانےکےلیے تنازعے کے تمام فریقین کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ خطے اور دنیا کے وسیع تر مفاد میں سیاسی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر قیام امن کی کوششوں کو آگے بڑھائیں۔پاکستان کا متوازن اور فعال سفارتی کردار عالمی امن، مکالمے اور تعمیری روابط کے فروغ کے عزم کا عکاس ہے۔
اس تنازعےکا فوری خاتمہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ مشرقِ وسطی میں کشیدگی کے اثرات صرف اس خطے تک محدود نہیں ہیں بلکہ اس کی وجہ سے عالمی استحکام، توانائی کی فراہمی اور معاشی ترقی بھی دائو پر لگی ہوئی ہے۔پاکستان کی جانب سے شروع ہونے والی ثالثی کی کوششوں کو پوری دنیا میں سراہا جا رہا ہے۔
پاکستان ماضی میں بھی مختلف علاقائی تنازعات میں مفاہمتی کردار ادا کرتا رہا ہے۔ افغانستان میں امن کا عمل ہو یا سعودی عرب اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی یا پھر سرد جنگ کے زمانے میں چین اور امریکا میں اعتماد سازی کے حوالے سے رابطہ سازی۔
پاکستان نے قیام امن کے لیے ہمیشہ ایک پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران اور امریکا جیسے متحارب فریقین کے درمیان مذاکرات کےلیے پاکستان ایک قابلِ اعتماد ثالث بن کر سامنے آیا ہے۔
ایک ملک جسے ہم بھولے بیٹھے ہیں، وہ ہے کینیڈا۔ پانچ ملین بیرل تیل کی پیداوار کی وجہ سے اسےآپ نصف سعودیہ کہہ سکتے ہیں۔ اس کے ذخائر سعودی عرب سے زیادہ ہیں۔ البتہ وینزویلا کی طرح اس کے ذخائر کا بڑا حصہ بھاری تیل، بلکہ ریت کے ذرّات میں پھنسا تیل ہے، جسے نکالنا مہنگا اور ماحول کےلیے مضر اثرات کا حامل ہے۔ مگر حالت جنگ میں سب ممکن ہے۔
کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی اپنے ملک کو مڈل پاور کہتے ہیں، یعنی وہ امریکا، چین اور روس سے اپنا مقابلہ نہیں کرتے۔ انہوں نے فرانس اور برطانیہ سے آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیےجہاز مانگے، برطانیہ نے جہاز بھیجنے پر آمادگی ظاہر بھی کی، مگر یہ کہہ کر کہ ہم جنگ کا حصہ نہیں۔ جرمنی کے چانسلر نے کہہ دیا کہ اس جنگ کے لیے ہم سے مشورہ نہیں ہوا تو ہم اس میں شامل نہیں ہوسکتے۔
ٹرمپ صاحب نے نیٹو کو آوازدی،کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ یعنی جواب نہ ملا تو کہاکہ ہمیں کسی کی مدد کی ضرورت نہیں، ہم اکیلے بھاری ہیں۔ پھر جب انہیں اس میں خطرات اور ہزیمت کے آثار نظر آئے تو بیان بدلا کہ ہمارا پیڑول اس راستے سے نہیں آتا جن کا آتا ہے، وہ خود جائیں اور اسے کھلوائیں۔ اب ان سے کون کہے کہ یہ آبی گزرگاہ بند تو آپ کی حرکتوں سے ہوئی، ورنہ تو ہر ایک کے لیے کھلی تھی۔
ترکی کی خلافت عثمانیہ نے پہلی جنگ عظیم ( 1915 )میں ایک تنگ آبی راستہ ڈارڈانیلس (Dardanelles) بند کردیا تھا، جو دو سمندروں کو ملاتا تھا۔ ونسٹن چرچل ابھی برطانوی نیوی کے چیف کمانڈر تھے۔
طاقت کے زور پر اس راستے کو کھلوانے نکلے۔ ایک لاکھ تیس ہزار اموات کے بعد چرچل صاحب کو استعفیٰ دینا پڑا اور ناکام و بے آبرو ہوکر نکلے۔ اسے گیل یپولی(Gallipoli)کا محاذ بھی کہتے ہیں۔
طاقت ور جب چاہے جس پر چاہے حملہ آور ہوجائے، صرف اس لیے کہ اس کے پاس طاقت ہے۔ ایران پر حملے کی اس کے علاوہ کوئی توضیح نہیں ہوسکتی۔
یہودی لابی اور نیتن یاہو نے ضرور ٹرمپ میں ہوا بھری ہوگی اور جس کا جی چاہے وہ ایپٹسن فائل کو وجہ سمجھ لے، مگر ٹرمپ کی اپنی سوچ، اپنی شخصیت اور اپنی تخلیق کی ہوئی خیالی دنیا، جہاں اسی کے وضح کردہ اُصول اور اس کی اخلاقیات چلیں گی۔ جب بڑی طاقت اپنے سے کم زور پر بلاجواز حملہ کرنے لگے تو پھر اس طاقت کا کسی کے لیے قابل تعریف رہنایا اس کاحامی رہنا مشکل ہوجاتا ہے۔