دنیا بھر میں ایک جانب یہ بحث ہورہی ہے کہ ایران پر امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی جارحیت کا اختتام کیسے ہوگا، جنگ بندی مستقل ہوگی یا عارضی، شرائط کیا ہوں گی،ایرا ن اور امریکا میں سے کس کا موقف کیا ہوگا؟وغیرہ وغیرہ۔ لیکن دوسری جانب یہ جائزہ بھی لیا جارہا ہے کہ اس سارے تنازعے میں کس فریق نے کیا کھویا اور کیا پایا۔
یہ جائزہ لینے والے کوئی عام افراد نہیں ہیں، بلکہ دنیا بھر کے مشہور ومعروف ماہرینِ سیاسیات و عالمی امور اور بعض ممالک کے ممتاز راہ نما بھی اس ضمن میں کُھل کر اپنی رائے کا اظہار کررہے ہیں۔ وہ اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران پر جارحیت کے دوران اس کی حربی اور سفارتی حکمتِ عملیوں اور اپنا پیغام موثر انداز میں دنیا تک پہنچانے کے لیے جدید ذرائع ابلاغ کے موثر استعمال تک کا جائزہ لے رہے ہیں۔
یہ بھی دیکھا جارہا ہے کہ جس ملک میں اس جارحیت سے چند ہفتے قبل تک عوام کی جانب سے حکومت کے خلاف پُر تشدّد مظاہرے کرنے اور حکومت کی جانب سے سختی سے انہیں کچلنے کی خبریں بہت بڑھا چڑھا کر پیش کی جارہی تھیں اس کے عوام نے جارحیت کا آغاز ہوتے ہی سڑکوں پر نکل کرملک اور حکومت کی حمایت اور جارحیت کے خلاف بہت بڑے بڑے مظاہرے کرنا شروع کردیے۔
ایسے میں امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ بیان بہت معنی خیز لگا کہ ہم نے کچھ بندوقیں بھجوائی تھیں، مگر کُرووں نے انہیں رکھ لیا، یعنی آگے ایران نہیں بھیجیں۔
ایران کی جانب سے جارحیت کے دوران سامنے آنے والی مزاحمت اور اس کی استقامت کے بارے میں سیاست، عالمی، دفاعی و حربی اُمور کے ماہرین مختلف پہلووں کا جائزہ لے رہے ہیں اور دنیا کو یہ بتارہے ہیں دراصل اس سارے قضیے میں کِسے کیا، کیسے اور کتنا فائدہ ہوا اور آگے چل کر اس کے خِطّے اور دنیا بھر پر کیا اثرات مرتّب ہوں گے۔
اس ضمن میں اُنتیس اپریل کو جزمنی کے چانسلر، فریڈرک مرزکے اس بیان کو بہت اہمیت دی جارہی ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع میں امریکا کو سبکی کا سامنا ہے اور ایرانی توقع سے زیادہ مضبوط ثابت ہوئے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ایران کی جنگ کے ساتھ جو کچھ ہونا شروع ہوا اس کا شبہ مجھے پہلے دن سے تھا، امریکیوں کے پاس مذاکرات کی کوئی واضح حکمتِ عملی نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ کے ساتھ تعلقات اب بھی اچھے ہیں، مشرقِ وسطیٰ کی جنگ ختم ہوتی نظر نہیں آرہی۔
آج دنیا بھر میں سوالات ہورہے ہیں کہ ایران نے اپنے اوپر ہونے والی جارحیت سے کیا حاصل کیا؟ اس جارحیت اور ایران کی استقامت، حربی اور سفارتی حکمت عملی سے دنیا میں کیا تبدیلی آئی؟ امریکا، روس اور چین کوکیا ملا؟ یورپی یونین نے کیا کھویا اور کیا پایا؟ آئندہ عالمی سیاست، معیشت،وار انڈسٹری، حربی حکمت عملیوں اور تیاریوں پر اس کے کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ ٹیکنالوجی کے استعمال نے کیا سکھایا اور کیاکچھ بدلا؟
کیا بھاری بھرکم ہتھیاروں اور تیاری کا دور چلا گیا؟ یہ سارے سوالات شاید کئی برس تک ماہرین کے زیرِ بحث رہیں، کیوں کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب بہت اہمیت کے حامل سوالات ہیں، مگر ان کے جواب جاننے کے لیے ماضی سے حال تک کے ادوار کے کئی پہلووں کا جائزہ لینا پڑے گا۔
ماضی سے حال کی طرف
ماہرین ایران کی حکمتِ عملی سمجھنے کے لیے ماضی کی طرف جانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایران اس وقت کے لیے کم از کم دو دہائیوں سے تیاری کررہا تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ ایران نے ویتنام کی جنگ، پاکستان میں ضیاء الحق کی جانب سے مارشل لاکے نفاذ، عراق کے ساتھ آٹھ برس تک جنگ لڑنے، عراق کے کویت پر حملے، پھر امریکا کی قیادت میں عراق پر حملے، وہاں مغربی فوجوں کے طویل عرصے تک قیام اور خلیجی ممالک میں امریکا سمیت مغربی طاقتوں کے فوجی اڈّوں کے قیام اور ان میں توسیع اور ایران پر عائد کی جانے والی شدید پابندیوں سے بہت کچھ سیکھا اور اس کی روشنی میں آئندہ کے لیے اپنی راہِ عمل کا انتخاب کیا۔
اس نے بہت سوچ بچار کے بعد حکومت اور فوج میں مرکزیت کو خود ہی ختم کردیا۔ ایران میں ریاست منظم حصوں ارتش، پاس دارانِ انقلاب، بسیج اور قدس پر تقسیم ہے۔ ارتش ایران کی روایتی فوج ہے جس کا کام سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے۔ یہ غیر سیاسی ہے۔ اس پاس دفاعی میزائل سسٹم، جاسوس ڈرونز، طیارے اور بحریہ کے جنگی جہاز اورآب دوزیں ہوتی ہیں۔ یہ تعداد میں کم و بیش 4لاکھ ہیں۔
پاکستان میں1977میں جنرل ضیاء الحق نے منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لگایا تو اس سے ایرانیوں نے یہ سبق حاصل کیا کہ ان کے ملک میں بھی ایسا ہوسکتا ہے۔ چناں چہ 1979میں تہران میں سپاہِ پاس دارانِ انقلابِ اسلامی کی بنیاد رکھی گئی۔
یہ ایک نظریاتی فوج ہے جس کا مقصد اسلامی نظام کا تحفظ کرنا ہے۔ ایران کا مکمل بیلسٹک میزائل پروگرام اسی کے کنٹرول میں ہے۔ بحری فوج میں شامل تمام چھوٹی کشتیاں جو گوریلا جنگ کے لیے استعمال ہوتی ہے اس کے پاس ہیں۔
شاہد ڈرونز سمیت خودکش ڈرونز کی نگرانی اس کا کام ہے۔ یہ کم و بیش تعداد میں 2 لاکھ ہیں۔ اس کا کام نظام کو تحفظ دینا ہے۔ اگر کسی دن ملک کی مسلح افواج بغاوت کرکے یا دشمن کی آلہ کار بن کر مارشل لاء لگاتی ہیں تو یہ فورس یہ تمام منصوبے ناکام بنائے گی۔
عراق کی جنگ سے ایران نے یہ سبق حاصل کیا کہ خطے میں امریکی سہولت کار، آلہ کار تنظیمیں ہیں ان کا مقابلہ کیے بنا ایران مستحکم نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے قُدس فورس بنانے کا کام 1980کی عراق، ایران جنگ کے دوران شروع ہوچکا تھا، لیکن اس کی باقاعدہ بنیاد 1988 میں جنگ کے خاتمے کے بعد رکھی گئی۔
یہ ایک انٹیلی جینس ادارہ ہے، لیکن اس کا کام اپنے عوام اور سیاست پر نظر رکھنا نہیں ہے، بلکہ یہ ملک سے باہر جاسوسی کے نیٹ ورکس قائم کرتی ہے اور ایران کے مخالفین پر نظر رکھتی ہے۔
یہ عراق، شام، یمن اور لبنان میں اسرائیل مخالف تنظیموں کی تربیت کرتی اور انہیں امریکی، القاعدہ و داعش کے خلاف جنگ کے لیے تیار رکھتی ہے۔ اس کے تحت تمام تنظیمیں گریٹر اسرائیل کے خلاف ہر وقت جدوجہد کرتی رہتی ہیں۔ ان کی تعداد 5سے15ہزار کے درمیان ہوتی ہے۔
انقلاب کے بعدامام خمینی نے ویتنام کی جنگ سے سبق حاصل کیا تھا کہ امر یکا کو گوریلا جنگ، عوام کی حمایت اور ریزرو فوجیوں سے شکت دی جاسکتی ہے۔ چناں چہ 1979 میں ایک رضاکار فورس، بسیج، کی بنیاد رکھی گئی۔ یہ تنظیم داخلی سلامتی اور جنگ کے وقت افرادی قوت فراہم کرتی ہے۔
یہ ریزرو فوجی ہوتے ہیں۔ ان کی تعداد 6 سے 10 لاکھ تک ہو سکتی ہے، جن میں ایک لاکھ تک ہر وقت فعال رہتے ہیں۔ یہ تنظیم بنانے کا ایران کو فائدہ یہ ہوا کہ تمام امریکی اتحادی، یورپ، اسرائیل اور عرب ممالک صدام حسین کے ہاتھوں ایران کو کم زور نہ کرسکے اورافرادی قوت کی کمی یہ پورا کرتے رہے۔ اس کے علاوہ ملک میں ہر قسم کے فسادات کا خاتمہ سب سے پہلے یہ کرتے ہیں۔
ایرانیوں نے سیکھا کہ 2003میں امریکا نے عراق پر حملہ کرکے صدام حسین کی فوج کو اس لیے جلد ختم کر دیا تھاکہ اس کا کمانڈ سسٹم مرکزی تھا۔ چناں چہ ایران نے اپنی فوج کو ٹکڑوں کی طرح بکھیر دیا تاکہ اسے ایک جھٹکے میں ختم نہ کیا جا سکے۔
پاس دارانِ انقلاب کےجنرل، محمد علی جعفری نے 2005 میں موزیک ڈیفنس کا تصور پیش کیا۔ دو سال بعد اسے پورے ملک میں نافذ کردیا گیا ۔ہر ٹکڑے کے زیر زمین میزائل کا شہر موجود ہے۔ فوجی اڈّے، ڈرونز، تمام لاجسٹک سپورٹ ہر صوبے میں ایک جیسی مہیا کی گئی۔
ایرانیوں نے فوج کو توڑ کر 31 صوبوں میں تقسیم کیا۔ یعنی اگر حالت جنگ میں جی ایچ کیو نہیں رہے یا اعلی قیادت نہ رہے توہر صوبے میں ایک فوجی یونٹ بااختیار ہوگا کہ کہاں اور کیسے حملہ کرنا ہے۔
ایران نے موجودہ جنگ میں فوج کو خود ہی توڑ دیا اور ایسا نظام بنایا کہ ہر صوبے میں ارتش ، پاس دارانِ انقلاب، اور بسیج پر مشتمل فوج با اختیار ہوگی۔ اس فیصلے کے بعد بعض ممالک میں فو جی تنصیبات سمیت ایسے ہوٹلز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جہاں سی آئی اےیا مو ساد کے ایجنٹ موجود ہونے کی اطلاعات تھیں۔
عمارت کی اسی منزل کو نشانہ بنایا گیا جس میں وہ رہائش پذیر تھے۔ پہلے صرف فوجی تنصیبات پر حملے کیے گئے۔ فوج کو توڑنےکے بعد اسے اتناطاقت ور کیا گیا کہ امریکی اوراسرائیلی جہازوں اور ڈرونز کو مار گرایا گیا۔
ایران نے اس کا ماڈل پورے مشرقِ وسطیٰ میں پھیلا دیا جسے وہ Forward Defense کہتا ہے۔ جس طرح ایرانیوں نے ملک میں ہر صوبے میں میزائل کے شہر، ڈرونز اور میزائل بنانے، انٹیلی جینس اور فوج پر کام کیا گیا اسی طرح شام، عراق، لبنان اور یمن میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ کیا، انہیں راکٹ، میزائل اور ڈرونز بنانے کا ہنر سکھایا گیا۔ وہاں زیرِ زمین میزائل سٹی اور کارخانے بنائےگئے تاکہ حالت جنگ میں وہ محفوظ رہیں اور پیداوار بھی جاری رہے اور جب ایران پر حملہ ہو تو وہ دشمن پر حملے جاری رکھیں۔
ایران نے ویتنامیوں سے گوریلاجنگ بھی سیکھی۔
آج ایران میں مارشل لگ سکتا ہے، فسادات ہوسکتے ہیں جو ریاست کا تختہ الٹ دے اور نہ ہی فوج کی کمی ہوسکتی ہے۔ یہی وہ تیاری ہے جس کے بارے میں مشہور ہے کہ ایران چالیس سال سے اس جنگ کی تیاری کررہا تھا۔
جدید ٹیکنالوجی کا استعمال
مغربی ذرائع ابلاغ نے اسرائیل اور امریکا کی ایران پر جارحیت کے دوران یہ خبر دی تھی کہ ایران نے ایسے جدید ترین ریڈار سسٹم حاصل کر لیے ہیں جو 200 کلومیٹر کے فاصلے سے امریکی طیاروں کے سگنل جام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ امریکی فوج عام طور پر ایسے آپٹیکل ٹارگٹنگ سسٹمز پر انحصار کرتی ہے جو ہدف کو مکمل طور پر مفلوج کر سکتے ہیں۔
جیسا کہ ڈیلٹا فورسز نے وینزویلا کے صدر مادورو کی گرفتاری کے وقت بڑی آسانی سے کیا تھا۔ تاہم، نئی روسی ٹیکنالوجی کی آمد کے ساتھ صورت حال میں 180 درجے کی تبدیلی کی توقع پیدا ہوئی اور اس کے بعض مظاہ سامنے بھی آئے۔
موسکوا-1ریڈار (1L265):یہ روس کا ایک جدید، متحرک الیکٹرانک وارفیئر اور غیر فعال (passive) ریڈار انٹیلی جینس سسٹم ہے۔ یہ اپنا مقام ظاہر کیے بغیر 400کلومیٹر کے فاصلے سے کروز میزائلوں اور اسٹیلتھ طیاروں سمیت تمام فضائی اہداف کا سراغ لگانے اور ان کا پیچھا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ دشمن کے ریڈیو سگنلز کا تجزیہ کر کے ڈیٹا کو فضائی دفاعی نظام تک پہنچا سکتا ہے۔
کراسوکھا-4 سسٹم: یہ روس کا ایک بہت پے چیدہ اور کثیر المقاصد الیکٹرانک وارفیئر پلیٹ فارم ہے، جسے300کلومیٹر تک کے فاصلے پر AWACS طیاروں، جاسوس ریڈار، ڈرونز اور نچلے مدار میں موجود جاسوس سیٹلائٹس کو جام کرنے اور ناکارہ بنانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ چار ایکسل والے ٹرک پر نصب ہوتا ہے۔
ایرانی میزائل: یہ میزائل جامنگ کی صورت حال میں بھی خطے کے بیش تر اڈوں تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ہم سب نے دیکھا ہے کہ تھاڈ (THAAD)، پیٹریاٹ اور آئرن ڈوم جیسے دفاعی نظاموں کے باوجود تل ابیب پر میزائلوں کی بارش ہوئی۔ خیبر-4ایک مائع ایندھن والا بیلسٹک میزائل ہے جو فضا سے باہر 16 میک (آواز سے 16گنا تیز) کی رفتار سے سفر کرتا ہے، 1500 کلوگرام وزنی وار ہیڈ لے جاتا ہے اور آپٹیکل گائیڈنس کا حامل ہے۔
یہ اس میزائل سے مشابہت رکھتا ہے جو چند ماہ قبل یمن سے 2,000کلومیٹر کے فاصلے پر داغا گیا تھاجسے امریکا، اسرائیل اور ان کے اتحادی روکنے میں ناکام رہے تھے۔ اس نے امریکیوں کو حیران کر دیا، جنہوں نے اس ٹیکنالوجی کو سمجھنے کے لیے کمیٹیاں بنائیں لیکن وہ اسے سمجھنے سے قاصر رہے۔
کہا جاتا ہے کہ روس کے علاوہ چینی ٹیکنالوجی کے بھی بعض حیرت انگیز شاہ کار ایران کے پاس ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ سب کچھ ایک روز میں نہیں ہوا ہوگا، اس کے لیے کم از کم مہینوں کی تیاری اور تربیت کی ضرورت ہوتی۔
امریکا کے اندر اثرات
امریکی صحافی ٹکر کارلسن کے بہ قول اسرائیل کے پاس آخری موقع ہےکہ وہ امریکا کو ایران کے خلاف جنگ میں دھکیل دے، کیوں کہ اب نئی امریکی نسل اسرائیل کی حمایت نہیں کرتی۔ اگلے پانچ برسوں میں اسرائیل کے خلاف امریکی نسل کی پوری فوج آرہی ہے۔ چاہے امریکا میں گرفتاریاں ہو انٹرنیٹ بند ہو، مگر نئی نسل کبھی اسرائیل کی حمایت نہیں کرے گی۔
اس کے علاوہ ملک میں صدر ٹرمپ کی روز بہ روز کم ہوتی ہوئی مقبولیت بھی حکم راں جماعت کے لیے دردِ سر بنی ہوئی ہے، کیوں کہ ایک انتخابی معرکہ ان کے سر پر ہے۔
مشہور جریدے، فارن پالیسی نے چند یوم قبل اپنے تجزیے میں کہا کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان دوبارہ تصادم شروع ہوتا ہے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کرنے کی جانب بڑھے گا۔
ایسی صورت حال میں تیل کی قیمتیں باآسانی 150 سے 200 ڈالر کی حد عبور کر سکتی ہیں۔ اس کا نتیجہ کمر توڑ عالمی منہگائی اور نیویارک اور لندن کی مالیاتی منڈیوں کے تباہ ہونے کی صورت میں نکلے گا۔
سیاسی طور پرجنگ بندی کا خاتمہ کانگریس کے انتخابات میں ٹرمپ کی شکست کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ کو اس وقت پہلے ہی اندرونی طور پر سخت عوامی ناراضی کا سامنا ہے۔ ایک ہمہ گیر جنگ کا آغاز امریکا کی لرزتی ہوئی معیشت اور ٹرمپ کی داخلی سیاسی پوزیشن کے لیے ’’آخری کیل‘‘ ثابت ہو گا۔
سفارتی کوششیں
ایران کا وفد جب پہلی مرتبہ مذاکرات میں حصہ لینے پاکستان آیا تو طیارے میں میناب اسکول کے بچوں کے بستوں، تصاویر وغیرہ اور خیالی گفتگو نے پوری دنیا کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ اس موقعے پر سفارتی امور کے ماہرین نے ایرانیوں کو یہ کہہ کر داد دی کہ ایسی قوم جس کی صفِ اوّل کی سیاسی اور عسکری قیادت جارحیت کرکے ختم کردی گئی ہو، جو امریکا اور اسرائیل جیسے ممالک سے نبر د آزما ہو اور جو شدید حملوں کی زد میں ہو، وہ ایسے موقعے کو بھی اتنی ہوش مندی سے استعمال کرلے تو اس کے صبر، تحمل، دانش مندی اور تدبر کو ضرور سلام کرنا چاہیے۔
دوسری جانب مشرقِ وسطیٰ میں نئی تاریخ رقم ہوتی نظر آرہی ہے۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان 'فون ڈپلومیسی، پاکستان کا مرکزی کردار اور اسرائیل کی بے چینی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں ایک ایسی زبردست تبدیلی آئی ہے جس کا چند سال پہلے تصور بھی ناممکن تھا۔
تین ہفتوں کے دوران ایران اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کے درمیان دس سے زائد مرتبہ ٹیلیفونک رابطے ہوئے، جو اس بات کی علامت ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان جمی ہوئی برف اب تیزی سے پگھل رہی ہے۔
تہران اور ریاض کے درمیان بڑھتی ہوئی یہ ہم آہنگی محض رسمی نہیں بلکہ ایک بڑے علاقائی اتحاد کا پیش خیمہ لگتی ہے۔21دِنوں میں10سے زیادہ کالز اس بات کا ثبوت ہیں کہ دونوں ممالک اب ہر اہم معاملے پر ایک دوسرے کو اعتماد میں لے رہے ہیں۔
سفارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں اتنی تیزی سے بہتری تاریخ میں پہلی بار دیکھی جا رہی ہے، جس کا بنیادی مقصد خطے میں جاری جنگی صورت حال کو کنٹرول کرنا ہے۔ اس قربت کا ایک بڑا مقصد آبنائے ہرمز کی بندش اور توانائی کی منڈیوں میں پیدا ہونے والے بحران کا مشترکہ حل تلاش کرنا بھی ہو سکتا ہے۔ اس پورے منظر نامے میں پاکستان ایک پُل (Bridge) کے طور پر ابھرا ہے۔ پاکستان نے اپنی متوازن خارجہ پالیسی کے ذریعے دونوں ممالک کو ایک میز پر لانے میں کلیدی کردار ادا کیاہے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کا بار بار پاکستان آنا اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ آرمی چیف اور وزیراعظم پاکستان کی سطح پر ہونے والی ملاقاتوں نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کرنے میں مدد دی ہے۔
ایران اور سعودی عرب کے درمیان اس نئی دوستی نے تل ابیب میں خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ اگر یہ دونوں بڑے ممالک سلامی متحد ہوگئے تو اس کا ابراہم اکارڈ اور ایران کے خلاف عرب ممالک کو ساتھ ملانے کا منصوبہ مکمل طور پر ناکام ہو جائے گا۔
ایران نے اس قضیے کے ہر موڑ پر اور ہر متعلقہ شعبے میں پیش رفت پر یہ ثابت کیا ہے کہ ایرانی قوم متحد ہے اور اس کی قیادت اپنے کارڈز بہت احتیاط اور دانش مندی سے کھیل رہی ہے۔