چند برسوں میں دنیا میں جو کچھ ہوا ہے اُس کے تناظر میں اب دنیا بھر کے ماہرینِ عالمی سیاست یہ کہہ رہے ہیں کہ عالمی طاقت کا محور اب مغرب سے مشرق اور کثیرالجہتی (Multipolar) نظام کی طرف تیزی سے منتقل ہو رہا ہے۔ روایتی مغربی اجارہ داری کی جگہ نئی ابھرتی ہوئی اقتصادی اور عسکری قوتیں لے رہی ہیں، جس سے بین الاقوامی تعلقات اور عالمی سیاست کا نقشہ مکمل طور پر بدل رہا ہے۔
اس بدلتے ہوئے منظرنامے کے چند نمایاں ترین پہلو درج ذیل ہیں:
طاقت کی مغرب سے مشرق کی جانب منتقلی
امریکا اور مغربی یورپ کی عالمی سطح پر گرفت اب کم زور پڑ رہی ہے۔ چین ایک بڑی اقتصادی اور تیکنیکی طاقت کے طور پر ابھرا ہے، جو نہ صرف ایشیا بلکہ افریقا اور مشرق وسطیٰ میں بھی اپنے اثر و رسوخ کو وسعت دے رہا ہے۔اقتصادی ماہرین کے مطابق دنیا کا مرکزِ ثقل (Center of Gravity) ایشیا کی طرف منتقل ہو چکا ہے۔
جیو اکنامکس کا عروج
طاقت کا معیار اب صرف عسکری برتری تک محدود نہیں رہا، بلکہ جیو اکنامکس (Geo-economics) اس کا بنیادی محور بن چکی ہے۔
باہمی انحصار اور پابندیاں: ممالک اب جنگوں کے بجائے تجارتی راستوں، سپلائی چینز اور مالیاتی نظام کا بہ طور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔
نئے اتحاد: چین کا بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI) اور خِطّے کے ممالک کے درمیان مقامی کرنسی میں تجارت کا رجحان، امریکی ڈالر کی بالادستی کو چیلنج کر رہا ہے۔
کثیرالجہتی دنیا اور علاقائی طاقتوں کا کردار
دنیا اب کسی ایک بلاک (Unipolar) تک محدود نہیں رہی۔ روس عسکری محاذ پر اور چین اقتصادی میدان میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
مشرق وسطیٰ اور گلوبل ساؤتھ (Global South) کے ممالک، جیسے کہ سعودی عرب، ایران اور بھارت اب آزادانہ خارجہ پالیسیاں اپنا رہے ہیں اور کسی ایک عالمی طاقت کے تابع رہنے کے بجائے اپنے مفادات کے تحت فیصلے کر رہے ہیں۔
تیکنیکی بالادستی کی جنگ
مستقبل کی عالمی طاقت کا دارومدار جدید ٹیکنالوجی پرہے۔ مصنوعی ذہانت (AI)، سیمی کنڈکٹرز، خلائی ٹیکنالوجی، اور سائبر سکیورٹی کے میدان میں ہونے والی پیش رفت نے عالمی طاقت کے توازن کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس شعبے میں چین اور امریکا کے درمیان بہ راہِ راست مسابقت جاری ہے۔
ابھرتے ہوئے بلاکس (BRICS اور SCO)
برکس (BRICS): یہ تنظیم دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں کا ایک طاقت ور اتحاد بن چکی ہے، جو عالمی مالیاتی اداروں (جیسے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک) کے متوازی ایک نیا اقتصادی نظام تشکیل دینے کے لیے کوشاں ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم (SCO): یہ سکیورٹی اور اقتصادی تعاون کا ایک اہم علاقائی بلاک ہے، جس میں ایشیائی ممالک کا اثر و رسوخ نمایاں ہے۔
عالمی طاقت کے محور کی اس تبدیلی نے پاکستان جیسے ممالک کے لیے بھی نئی حکمتِ عملیوں کے دروازے کھولے ہیں، جہاں انہیں علاقائی رابطوں اور جیو اکنامک پوزیشن کا فائدہ اٹھانے کے مواقع میسر ہیں۔
علاقائی طاقت کے توازن میں تبدیلی عالمی نظام غیر یقینی مرحلے میں داخل
ایک حالیہ تجزیاتی رپورٹ کے مطابق دنیا کے مختلف خِطّوں میں طاقت کے توازن میں تیزی سے تبدیلی آ رہی ہے، جس کے باعث عالمی نظام ایک غیر یقینی اور مسابقتی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ دور میں جغرافیائی سیاست، معیشت اور سکیورٹی کے عوامل ایک دوسرے سے جُڑ کر نئے علاقائی اتحاد اور رقابتیں تشکیل دے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، عالمی نظام اب کسی ایک مستحکم ڈھانچے کی جانب منتقل نہیں ہو رہا، بلکہ اس میں بڑھتی ہوئی مسابقت، عدم استحکام اور علاقائی طاقتوں کے درمیان مقابلہ نمایاں ہو رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاستیں اب طویل مدتی استحکام کے بجائے قلیل مدتی حکمت عملی اور لچک پر زیادہ توجہ دے رہی ہیں۔
تجزیے میں بتایا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ، ایشیا اور دیگر خِطّوں میں بدلتے ہوئے اتحاد اس نئی حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں ممالک اپنے مفادات کے مطابق پوزیشن تبدیل کر رہے ہیں۔ توانائی، تجارتی راستے اور سکیورٹی کی شراکت داریاں اب طاقت کے تعیّن میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔
رپورٹ میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ عالمی تجارت اور انفراسٹرکچر اب محض اقتصادی عوامل نہیں رہے بلکہ انہیں اسٹریٹجک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ سپلائی چین، ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل صلاحیتیں بھی طاقت کے توازن میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق، اس بدلتی ہوئی صورت حال میں علاقائی طاقتیں زیادہ خودمختار کردار ادا کر رہی ہیں، جب کہ بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلہ بھی شدت اختیار کر رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر تعاون اور تنازع دونوں بہ یک وقت بڑھ رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی منظرنامہ ایک ایسے دور کی نشان دہی کرتا ہے جہاں واضح عالمی قیادت کے بجائے کثیر قطبی نظام ابھر رہا ہے، جس میں طاقت کا توازن مسلسل تبدیل ہو رہا ہے اور ممالک کو نئی حکمت عملیوں کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنا ہوگا۔
گلوبل ساؤتھ
ان حالات میں گلوبل ساؤتھ کے عروج کی باتیں کی جارہی ہیں۔
برکس ممالک کے اگست 2023میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں برازیل، روس، بھارت اور چین کی موجودگی میں اس تنظیم کے اس وقت کے سربراہ، جنوبی افریقا نے اعلان کیا تھا: اس اجلاس کا مقصدگلوبل ساؤتھ کے ایجنڈے کو آگے بڑھانا ہے۔
ہیروشیما میں سات دولت مندممالک کے گروپ یا جی سیون کے مئی2023میں ہونے والے سربراہی اجلاس سے پہلے جاپان کے وزیر اعظم فومیو کشیدا نے زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے جن مہمان ممالک کو مدعو کیا ہے وہ گلوبل ساؤتھ کی اہمیت کی عکاسی کرتے ہیں۔
اسی طرح اقوام متحدہ، ورلڈ بینک، سابق امریکی صدر ،جو بائیڈن سمیت ہر کوئی گلوبل ساؤتھ کے بارے میں بات کرتا رہا ہے۔ لیکن یہ اصل میں ہے کیا؟
اپنے نام یعنی گلوبل ساؤتھ کے برعکس یہ کوئی جغرافیائی اصطلاح نہیں ہے۔ گلوبل ساؤتھ میں شامل بہت سے ممالک شمالی نصف کرہ میں ہیں، جیسے کہ بھارت، چین اور وہ تمام ممالک جو شمالی افریقا کے نصف حصے میں موجود ہیں۔آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ دونوں ہی جنوبی نصف کرے میں آباد ہیں، لیکن یہ گلوبل ساؤتھ میں شامل نہیں۔
گلوبل ساؤتھ میں شامل زیادہ ترممالک کی شناخت نام نہاد 'برانٹ لائن سے ہوتی ہے۔ یہ دنیا کے نقشے پر ایک ایسی آڑھی ترچھی لکیر ہے، جو میکسیکو کے شمال سے افریقا اور مشرق وسطیٰ کے اوپری حصے سے ہوتی ہوئی بھارت اور چین کے گرد گھومتی ہوئی جاپان، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کو چھوڑ کر مشرقی ایشیا کے بیش تر حصوں کو اپنے حصار میں لیتی ہے۔
اس لائن کی تجویز سابق جرمن چانسلر ولی برانٹ نے 1980ء کی دہائی میں فی کس جی ڈی پی کی بنیاد پر شمال اور جنوب کی تقسیم کی بصری عکاسی کے طور پر کی تھی۔ ماہرین کے بہ قول 'گلوبل ساؤتھ چند مستثنیات کے ساتھ بہ یک وقت ایک جغرافیائی، جغرافیائی ۔سیاسی، تاریخی اور ترقیاتی تصور ہے۔
گلوبل ساؤتھ میں شامل ممالک
یہ ایک پےچیدہ معاملہ ہے اور اکثر اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ گلوبل ساؤتھ کی اصطلاح کون استعمال کر رہا ہے۔ عام طور پر اس اصطلاح سے مراد اقوام متحدہ میں گروپ آف 77 سے تعلق رکھنے والے ممالک ہیں، جو کہ آج 134 ممالک کا اتحاد بن چکا ہے۔
اقوام متحدہ کی گلوبل ساؤتھ کی تعبیر ایک سو اسی سے زائد ترقی پزیر ممالک ہیں۔
یہ بنیادی طور پر ترقی پزیر ممالک سمجھے جاتے ہیں لیکن ان میں چین اور کئی امیر خلیجی ریاستیں بھی شامل ہیں۔ البتہ چین کی اس میں شمولیت پر کچھ بحث و مباحثہ بھی موجود ہے۔
اگرچہG77اقوام متحدہ میں شامل ملکوں کا ایک گروپ ہے ،لیکن اقوام متحدہ کا ادارہ صرف ان ملکوں کے لیے گلوبل ساؤتھ کی اصطلاح استعمال نہیں کرتا۔ اقوام متحدہ کے تجارت اور ترقی کے دفتر سے منسلک رالف ٹریگر کے مطابق اقوام متحدہ کے لیے گلوبل ساؤتھ عام طور پر ترقی پذیر ممالک کی طرف اشارے کے لیے ایک مختصر حوالہ ہے۔ ان کے بہ قول اقوام متحدہ میں اس وقت 181 ممالک یا خِطّے ترقی پذیر اور67ترقی یافتہ کے طور پر درج ہیں۔
گلوبل ساؤتھ کی قیادت کا سوال
بعض مارینِ عالمی سیاست کے مطابق چین خود کو عالمی حکم رانی کے نظام میں اصلاحات اور ترقی پذیر ممالک، یاگلوبل ساؤتھ، کی آواز کو مضبوط بنانے والے ملک کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس کردار کے حوالے سے عالمی سطح پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں اور اس پر بحث جاری ہے کہ آیا چین واقعی ترقی پزیر دنیا کی نمائندگی کر رہا ہے یا اپنے اسٹریٹجک مفادات کو آگے بڑھا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق چین کی جانب سے جاری کی گئیں پالیسی دستاویزات میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ موجودہ عالمی ادارے بدلتے ہوئے عالمی حالات، جغرافیائی سیاسی کشیدگی، اقتصادی عدم توازن اور ترقی پزیر ممالک کی ضروریات کا مؤثر طور پر جواب دینے میں ناکام رہے ہیں۔ بیجنگ کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ، عالمی مالیاتی اداروں اور دیگر بین الاقوامی فورمز میں زیادہ نمائندہ اور شمولیتی اصلاحات کی ضرورت ہے۔
بعض ماہرین کے بہ قول چین چند برسوں میں بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو، برکس، شنگھائی تعاون تنظیم اور دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے ایشیا، افریقا اور لاطینی امریکا کے ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو وسعت دیتا رہا ہے۔ حالیہ عرصے میں مصنوعی ذہانت، ٹیکنالوجی اور عالمی ضابطہ سازی کے شعبوں میں بھی چین نے ترقی پزیر ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانے اور خود کو ایک متبادل عالمی شراکت دار کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔
دوسری جانب بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ چین گلوبل ساؤتھ کی نمائندگی کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن اس کی اقتصادی طاقت، قرضوں کی سفارت کاری، تجارتی مفادات اور جغرافیائی سیاسی اہداف کے باعث کئی ممالک اس کے کردار کو محتاط انداز میں دیکھتے ہیں۔ تجزیے کے مطابق یہی وجہ ہے کہ گلوبل ساؤتھ کی قیادت کے سوال پر مختلف خِطّوں میں متبادل نقطۂ ہائےنظر بھی سامنے آ رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق مستقبل کی عالمی حکم رانی کا نظام صرف بڑی طاقتوں کے درمیان مقابلے سے نہیں بلکہ اس بات سے بھی متعین ہوگا کہ ترقی پزیر ممالک اپنی ترجیحات اور مفادات کے تحفظ کے لیے کس حد تک مشترکہ مؤقف اختیار کرتے ہیں اور عالمی اداروں میں مؤثر اصلاحات کو آگے بڑھاتے ہیں۔
گلوبل ساؤتھ سے نیا عالمی نظام ابھرنے کا وقت آچکا ہے، مشاہد حسین
پاکستان کے ایوانِ بالا کےسابق رکن، سینیٹر مشاہد حسین سیّد،عالمی امور اور بین الاقوامی سیاست پر گہری نظر رکھنے والی شخصیت کے طورپرجانے جاتے ہیں۔ وہ گلوبل ساؤتھ کے عروج کو اب ناگزیر قرار دیتے ہیں ۔ گزشتہ دنوں انہوں نے چین کے دارالحکومت میں معروف سنگھوا یونیورسٹی کے زیر اہتمام ورلڈ پیس فورم (ڈبلیو پی ایف) سے اپنے کلیدی خطاب میں اسی نکتے کی جانب اشارہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ وقت آگیا ہے کہ گلوبل ساؤتھ سے ایک نیا عالمی نظام ابھرے، کیوں کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد مغرب کی قیادت میں دہرے معیار کو فروغ دیا گیا، جو آرڈر اور نہ ہی کسی اصول پر مبنی تھا۔ عالمی امن فورم کےافتتاحی سیشن میں سینیٹر مشاہد حسین نےتیس ممالک کے تقریباً سو مہمانوں سے کلیدی خطاب کیا۔
بیجنگ میں منعقد چودھویں ورلڈ پیس فورم پر عالمی منظرنامے کی تبدیلی کا ایک واضح جائزہ پیش کرتے ہوئے مشاہد حسین نے گلوبل ساؤتھ پر مبنی نئے عالمی نظام کا مطالبہ کیا۔ اپنے خطاب کے دوران ان کا کہناتھاکہ دوسری عالمی جنگ کے بعد مغرب کا بنایا ہوا نظام اب مکمل طور پر زوال پذیر ہوکر بکھر رہا ہے۔
یہ نظام ہمیشہ منافقت اور دہرے معیار پر مبنی رہا، جس نے دنیا کو امن دینے کے بجائے مزید بحرانوں میں دھکیلا۔ ایشیا، افریقا اور لاطینی امریکا کی ابھرتی ہوئی طاقتیں اب عالمی فیصلوں میں اپنا حقیقی اور منصفانہ کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ہم ایشیا، افریقہ، لاطینی امریکہ کی صورت میں گلوبل ساؤتھ کا عروج دیکھ رہے ہیں۔ یہ نظام وہ تھا جسے خود مغرب نے شروع کیا ، مگر نہ تو یہ قواعد پر مبنی تھا اور نہ یہ نظم و ضبط کو فروغ دے رہا تھا۔
بہت کچھ بدلنے کی ضرورت ہے
مئی 2025کی پاک بھارت عسکری جھڑپوں کے بعد سے دنیا بھر اور بالخصوص ہمارے خِطّے میں بہت کچھ بہت تیزی سے تبدیل ہوا۔اب بہت سے ماہرین ِ عالمی سیاست واضح لفظوں میں یہ کہہ رہے ہیں کہ مغرب سے مشرق کی طرف عالمی طاقت کی منتقلی واضح ہے، یہاں تک کہ صدر ٹرمپ کی قومی سلامتی کی حکمت عملی نے بھی اس نئی حقیقت کو تسلیم کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یوریشیا اب عروج پذیر گلوبل ساؤتھ کا مرکزِ ثقل ہے۔
اسرائیل کی فلسطین میں بہیمانہ کارروائیاں،وینزویلا کے صدر کا اغوا،ایران پر صہیونی ریاست اور امریکا کا مل کر شدید حملہ اور ان معاملات پر دنیا کی خاموشی نے گلوبل ساو تھ کے عروج کی راہیں تیزی سے ہم وار کی ہیں۔
گزشتہ دنوں چین کے اسٹیٹ کونسل انفارمیشن آفس کی جانب سے جاری کردہ 37صفحات پرمشتمل ایک دستاویز میں ان اصولوں، تجاویز اور اقدامات کو پیش کیا گیا ہے جن کی مدد سے گلوبل گورننس کے لیے زیادہ منصفانہ اور مساوی انداز عالمی برادری کے وسیع تر اتفاق سے اور زیادہ مؤثر انداز سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس دستاویز کے مطابق دنیا کو آج کہیں زیادہ سنگین اور پے چیدہ نوعیت کی آزمائشوں کا سامنا ہے اور گلوبل گورننس سے متعلق انیشی ایٹو دور جدید کے انہی چیلنجز سے نمٹنے کا حل پیش کرتا ہے۔
امریکا بالخصوص صدر ٹرمپ کےدور میں اٹھائے گئے اقدامات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے دستاویز میں کہا گیا ہے کہ موجودہ زمانے میں یک طرفہ اقدامات، تحفظ پسندی اور تسلط پسندی بلاروک ٹوک بڑھ رہی ہے جب کہ امن، ترقی، تحفظ اور اعتماد میں مسلسل کمی آرہی ہے۔
اس لیے انسانیت کے مستقبل کی خاطر گلوبل گورننس میں اصلاحات کے زریعے بہتری اور اقوام متحدہ کو مرکزی کردار دینا وقت کی ضرورت بن گیا ہے۔انسانیت کے مشترکہ مستقبل کے حوالے سے صدر شی جن پنگ کے دوہزار پچیس میں پیش کردہ گلوبل گورننس انیشی ایٹوکے تصور کا حوالہ دیتے ہوئے اس دستاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ کس قسم کا نظام قائم اورمثبت اصلاحات کیسے کی جانی چاہییں۔
اس وائٹ پیپر میں زوردیا گیا ہے کہ عالمی تعلقات میں زیادہ جمہوری انداز اپنانا چاہیے اورکثیرالجہتی سوچ کو فروغ دیا جائے۔ انٹرنیشنل آرڈر بین الاقوامی قانون کے تحت ہو اوراقوامِ متحدہ کے چارٹر کی پیروی کی جائے۔ دستاویز میںدنیا کو درپیش چیلنجز میں مختلف خطوں میں مسلح تنازعات اور جیوپولیٹیکل تناؤ بڑھنے کے واقعات خاص طور پر اجاگر کیے گئے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں پھیلتی دشمنیاں اور پانچویں برس میں داخل یوکرین جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 2025 میں مسلح تنازعات کی تعداد جنگ عظیم دوم کے بعد نئی بلند سطح تک جاپہنچی۔ اس سال50سے زائد ممالک تنازعات یا جنگ کا شکار تھے۔ عالمی سطح پراقتصادی تقسیم گہری ہونے سے ترقیاتی عمل پر پڑنے والے منفی اثرات واضح کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اقتصادی عالم گیریت کو بعض ممالک کی جانب سے کھڑی کی گئی رکاوٹوں سے مشکلات درپیش ہیں۔
صنعتی سپلائی چین کاٹی جارہی ہے اور یک طرفہ ٹیرف نافذ کرکے اقتصادی نظام تباہ کیا جارہا ہے۔ دستاویز میں خود غرضی کو دنیا میں830ملین افراد کے انتہائی غربت کا شکار ہونے اور ایک اعشاریہ تین ارب سے زائد افراد کو غذا نہ ملنے کے خدشات سے دوچار ہونے کا سبب قرار دیا گیا ہے۔
دستاویزکے مطابق تسلّط پسندی، چھوٹے اور کم زور ممالک کو دھمکانے اوران کے خلاف طاقت کا استعمال کرنے والے بعض ممالک نے یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ ان کی ترجیح صرف ان کے قومی مفادات ہیں جو سب سے بالاتر ہیں۔یہ ممالک دہرا معیار اپنائے ہوئے ہیں اور عالمی انصاف کو خود غرضی پر مبنی سوچ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
یہ ممالک گینگ بنا کرماضی کی طرح اکیسویں صدی میں بھی مخصوص گروپس اور بلاکس بنا رہے ہیں جس کے لیے تقسیم اور تضادات کو جنم دیا جارہا ہے اور اپنے اثرورسوخ کے دائرے قائم کیے جارہے ہیں، یہی اقدامات عالمی ہنگامہ خیزی کا سبب ہیں۔
گلوبل ساؤتھ یعنی ترقی پزیر، ابھرتی معیشتوں اور کم سے درمیانے درجے کی آمدنی والے ممالک کا ذکر کرتے ہوئے دستاویز میں بیان کیا گیا ہے کہ مساوی قوت خرید کے لحاظ سے گلوبل ساوتھ اب دنیا کی معیشت کا 60 فی صد ہے اور معاشی نمو میں اس کا حصہ 80فی صد ہے۔ اس لیے گلوبل ساوتھ کو زیادہ احترام، مواقع، حقوق اور فیصلہ ساز عالمی اداوں میں بہتر نمائندگی دی جانی چاہیے۔
چین نے بہ جا طور پر یہ کہا ہے کہ کثیرالقطبی دنیا میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا فرسودہ نظام ممکن نہیں۔ نئے حقائق کے دور میں یہ نہیں ہوسکتا کہ تسلط پسندی کے ذریعے چند ممالک کا غلبہ ہو اور باقی ماتحت رہیں، جو جیتے وہ سب لے اُڑے، دوسروں کی ترقی میں روڑے اٹکائے، غنڈہ گردی کرے یا بھتہ خوری کے زریعے جنگل کا قانون پھر سے نافذ کرنے کی کوشش کرے،کیوں کہ جو آگ سے کھیلےگا، وہ ہاتھ جلےگا۔ یہ بھی اچھی دنیا نہیں ہوگی کہ امیر ممالک امیر تر ہوں اور غریب ممالک غریب تر۔چین اسی لیے ایسے تعاون کا حامی ہے جس میں کام یابی سب کا مقدر ٹھہرے۔
حقیقت میں دنیا آج ایسے ہی نظام کی شدّت سے متقاضی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ عالمی طاقت کے توازن میں تبدیلی کا یہ سفر کتنی دیر میں اور کس قیمت پر مکمّل ہوگا اور کون اس کی قیادت کرے گا۔