دنیا کا سب سے بڑا قدرتی گیس کا ذخیرہ خلیجِ فارس میں واقع ہے۔ اس گیس فیلڈ کا ایک سرا ایران کے اور دوسرا قطر کے ساحل سے ملتا ہے۔ قطر والے اسے ’’نارتھ ڈوم ‘‘ اور ایرانی اپنے حصے کے گیس کے ذخیرے کو ’’ساؤتھ پارس‘‘ کہتے ہیں۔ امریکا نے اسی ایرانی گیس فیلڈ پر میزائل گرایا، آگ بھڑک اٹھی اور امریکیوں نے کامیابی کا اعلان کردیا۔
جیسے ہی یہ اعلان ہوا، تیل کی قیمت سو ڈالرز سے ایک سو نو ڈالرز ہوگئی۔ یہ ہے تیل اور گیس کا کرشمہ۔ اس جنگ میں تیل کے کنوؤں یا تنصیبات پر جب جی حملے ہوں گے، تیل کی قیمت بڑھ جائے گی اور یہ امریکی صدر ٹرمپ کے لیے سب سے بڑی مصیبت ہے۔
ذرا ہم اس گیس فیلڈ کے سائز کا جائزہ تو لیں اپنے سوئی گیس کے ذخیرے سے موازانہ کرکے۔ سوئی گیس کا ذخیرہ دریافت کے وقت12ٹریلین کیوبک فٹ تھا، جو ستّر سال کے استعمال کے بعد اب صرف دو ٹریلین فٹ رہ گیا ہے۔ لیکن قطر اور ایران کا مشترکہ ذخیرہ 1800 ٹریلین یعنی سوئی سے ڈیڑھ سو گنا بڑا۔
اتنا بڑا کہ یہ دنیا کے تمام ممالک کی گیس کی ضروریات تن تنہا تیرہ برس تک پوری کرسکتا ہے۔ جب امریکہ اس پر بم گراتا ہے تو ایک طرف تیل کی قیمت بڑھتی ہے اور دوسری طرف اس میں امریکی کمپنیوں کا لگا ہوا سرمایہ ڈوبنے لگتا ہے۔
امریکہ میں پیٹرول پمپس پر پیٹرول کی قیمت پچھلے مہینے تین ڈالر فی گیلن تھی۔ جنگ شروع ہوتے ہی پونے چار ڈالر ہوگئی۔ اب چاہے امریکہ، ایران کی تیل کی تنصیبات یا ذخائرپر حملہ کرے، چاہے ایران، خلیجی ممالک کی تیل کی تنصیبات یا ذخائرپر ، قیمت بڑھنا لازم ہے۔ جب ٹیکساس میں پیٹرول چار سے پانچ ڈالرکا ہوگا تو ٹرمپ کا ووٹر بھی لڑکھڑانے لگے گا اور یورپ بھی اس دھچکے پر مسٹر ٹرمپ کو گھور رہا ہوگا۔ بس یہیں سے جنگ بندی کے امکانات کا آغاز ہوگا، جس کے آثار نظر آنے لگے ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ، ایران پر حملے کی تین وجوہات بتاتے ہیں۔ اول، جوہری ہتھیار سے ایران کو محروم کرنا، دوم، قیادت کی تبدیلی اور تیسری وجہ جو انہوں نے بتائی وہ تھا ایران کے تیل پر کنٹرول۔ ذرا سوچیے، دو مہینے قبل جب انہوں نے وینز ویلا کے صدر کو منشیات کی اسمگلنگ کے الزام میں اغوا کیا تھا تو کیا وہ منشیات کی روک تھام کرنے نکلے تھے؟
صدر مادورو کی بدقسمتی تھی کہ وہ دنیا کے سب سے زیادہ تیل کے ذخائر رکھنے والے ملک کے صدر تھے اور قصوران کا یہ تھا کہ جتنا تیل وہ کنوؤں سے نکالتے اس کا نوّے فیصد چین کو بیچ دیتے، تو وہ کیوں نہ ٹرمپ کے عتاب کا نشانہ بنتے۔ اب وینز ویلا میں نائب صدر کی حکومت ہے، جو مسٹر ٹرمپ کے احکامات پر چلتی ہے اور وہ ایک لیٹر تیل بھی چین کو نہیں فروخت کرسکتے۔
چین کو تیل سپلائی کرنے والے دونوں ملکوں، وینز ویلا اور ایران کو انہوں نے دبوچنا چاہا۔ وینز ویلا میں کامیاب رہے اور اسی کامیابی کے نشے میں ایران پر حملہ کر بیٹھے۔ لیکن ایران لوہے کے چنے ثابت ہوا۔ پہلے حملے میں آیت اللہ شہید، دوسرے حملے میں لڑکیوں کا اسکول زد میں آگیا اور ٹوماہاک میزائل کے ٹکڑے جمع کیے جاتے رہے کہ یہ امریکی میزائل تھا یا ٹرمپ کے مطابق ’’یہ ہم نے نہیں گرایا‘‘۔
تیسرے حملے میں پارس گیس فیلڈ، گویا ان کو کامیابی صرف پہلے حملے میں ملی۔ دوسرے دونوں حملے ان کے گلے پڑ گئے۔ اسکول کی ڈیڑھ سو بچیوں کے جاں بحق ہونے پر وہ آنا کانی کرتے رہیں گے، لیکن تیل کی بڑھتی ہوئی قیمت ان کے گلے کا پھندا بن رہی ہے۔ وہ اس سے نکلنے کا راستہ ہر صورت میں ڈھونڈیں گے۔
ٹرمپ، چو مکھی لڑ رہے ہیں۔ ایران کی جنگ تو بہت بعد میں آئی۔ روس چار سال پہلے یوکرین میں داخل ہوچکا تھا، مگر اس وقت جو بائیڈن صدر تھے۔ جوں ہی مسٹر ٹرمپ نے صدارت کی کرسی سنبھالی، روس کے تیل پر پابندی لگانا شروع کردی۔
یورپی یونین سے کہا کہ روس سے جو پائپ لائن جرمنی اور دوسرے ممالک کو قدرتی گیس فراہم کرتی ہے اس کا متبادل تلاش کرو اور جو ٹینکر روس کا تیل پہنچاتے تھے، ان شپنگ کمپنیوں کو دھمکی دی کہ ہرگز روس کا تیل نہ اٹھاؤ۔ بھارت پر ڈھیروں ٹیرف عائد کر دیے، کیونکہ وہ روس سے تیل خریدتا تھا۔
گویا روس کو تیل کی آمدن سے محروم کرنے کی انہوں نے ہر کوشش کر ڈالی، مگر ایران پر حملہ کرنے سے جو تیل ساٹھ ڈالر کا تھا وہ سو ڈالرکا ہوگیا۔ جان لیجیے کہ روس اتنا ہی تیل روزانہ نکالتا ہے جتنا سعودی عرب یا امریکا۔ یعنی ساڑھے دس ملین بیرل روزانہ۔ ادھر تیل کی قیمت بڑھی، ادہر روس کے وارے نیارے ہوگئے۔
ڈیڑھ گنا قیمت تو حالیہ جنگ کے پہلے دن ہی ہوگئی تھی۔ ہفتے بعد سو ڈالر کا اور پارس گیس فیلڈ پر میزائل گرانے کے بعد ایک سو نو ڈالر کا۔ مسٹر ٹرمپ نے، جو روسی تیل پر پابندیاں لگاکر روس کو کنگال کررہے تھے، توانائی کی تنصیبات پرحملے کرکے اسے نہال کردیا۔
حالیہ جنگ میں ایک کردار تیل کا ہے اور دوسرا ڈرون کا۔ ایران کے شاہدڈرون کی دھوم ہے۔ امریکی اور اسرائیلی حملے سے پہلے ایران نے یہ ڈرون روس کو بیچے، کیونکہ یوکرین نے ڈرونز کے حملوں سے روس کو تنگ کر رکھا تھا۔ یہ خودکار حملہ آور اتنا سستا ہے کہ چار ہزار ڈالر میں بھی مل جاتا ہے، جو یوکرین اپنی سرحد سے روس کے سرحدی علاقوں میں اور فوجیوں کی جانب بھاری تعداد میں بھیج رہا تھا اور جب روس انہیں گرانا چاہتا تو اس کے لیے وہ ٹیکنالوجی استعمال ہوتی جو میزائل گرانے کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
اب ڈرون چار ہزار کا اور میزائل چار لاکھ کا، دشمن کا ڈرون گرا بھی لیاتو خرچ تب بھی بہت بھاری۔ یوں سمجھیے کہ ڈرون نے یوکرین کو نمرود کی ناک میں مچھر کا مقام عطا کردیا تھا۔ تب روس کو ایران سے ڈرون مانگنے پڑے تاکہ برابری کا مقابلہ ہو۔
اب یوکرین نے ڈرون روکنے کی ٹیکنالوجی میں ترقی کرنا شروع کی اور اس میں وہ اتفاقاً اتنا آگے بڑھ گیا ہے کہ امریکہ یہ ٹیکنالوجی حاصل کرنے کے لیے یوکرین سے مذاکرات کررہا ہے۔ یوکرین اسے یہ دے تو دے گامگر وہ اس کے بدلے میں یہ چاہے گا کہ یہ سودا اِس ہاتھ سے اُس ہاتھ دے والانہ ہو، بلکہ ایک دفاعی معاہدے کے تحت ہو۔
ایک وقت تھا کہ وائٹ ہاؤس میں صدر زیلنسکی بے عزت ہوئے تھے کہ ’’تم ہو کیا؟‘‘ ،’’تمہارے ہاتھ میں کوئی کارڈ نہیں‘‘۔ اب یوکرین کے ہاتھ میں ڈرون گرانے کا نسخہ ہے اور وہ امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کررہا ہے۔
ایران گوریلا جنگ لڑ رہا ہے، کوئی فوج آمنے سامنے نہیں۔ میزائل اسرائیل سے آئیں یا اردن سے، کمپیوٹر گیم کی طرح جنگ لڑی جارہی ہے۔ یاد رکھیے، جنیوا کنونشن کی دھجیاں اڑ چکی ہیں۔ اب دانت کے بدلے دانت اور آنکھ کے بدلے آنکھ۔ یہ ہے جنگ کا اب تک کا نقشہ، جو شروع ہوئی اس مفروضے پر کہ ایرانی آیت اللہ کو اڑا دیا جائے تو عوام اپنے حقوق کے لیے اٹھ کھڑے ہوں گے، حکومت ختم ہو جائے گی اور امریکا کے حامی لبرل ایرانی اقتدار حاصل کرلیں گے۔
پہلے دن کی کامیابی پر نازاں ٹرمپ کو برطانیہ کی مدد چاہیے، وزیراعظم اسٹارمر نے بڑی جھکائیاں دیں، مگر ٹرمپ کے تیور دیکھتے ہوئے بحری جہاز آبنائے ہرمز میں بھیجنے پر آمادہ ہوئے، ساتھ ہی یہ کہہ دیا کہ یہ جہاز ہم ایک تجارتی راستہ کھولنے کے لیے دے رہے ہیں، مگر ہم ایران کے خلاف جنگ میں شامل نہیں۔
بعد ازاں ٹرمپ اپنے یورپی اتحادیوں پر برس پڑے۔ یورپی یونین بڑے اضطراب میں ہے۔ مشرقِ وسطی کا تیل ان کے لیے اہم ہے، وہ نہ ملے تو انہیں روس سے خریدنا پڑےگا، جس کا ناطقہ چار سال سے انہوں نے خود بند کیا ہوا تھا، اب اپنا تھوکا چاٹنا پڑے گا کہ اسی روس سے تیل خریدو، پھر وہ ٹرمپ سے کون سی ہمدردی رکھتے ہیں۔ وہ گرین لینڈ کی خریدو فروخت پر اتنے نالاں تھے کہ ڈنمارک اپنے فوجی دستے حرکت میں لے آیا تاکہ ٹرمپ کی چیرہ دستیوں کا جواب دیا جاسکے۔
اب ٹرمپ دھمکیوں پر اتر آئے ہیں، کہتے ہیں تم نے اس جنگ میں ہمارا ساتھ نہیں دیا تو میں نیٹو کا حشر نشر کردوں گا۔ وہ صرف نیٹو کا نہیں، بلکہ یورپ اور ایشیا کا حشر نشر کرنے والے ہیں۔ سب کو نظر آرہا ہے کہ جنگ طول پکڑ سکتی ہے، ساتھ ہی تیل کی قیمت بڑھتی جائے گی اور ہر دن بڑھے گی۔ جن قوموں کی زندگی میں فی آدمی تیل کا جتنا زیادہ استعمال ہے، اتنی زیادہ چیخیں نکلیں گی۔
غریب ممالک کا فی کس تیل کا استعمال کم ہے اور غریب بس یا رکشا کے بجائے پیدل چل لے گا۔ بجلی نہ ملے تو اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مار لے گا۔ غذائی اجناس میں کمی ہوئی تو ایک ہی وقت کھائے گا، مگر پرتعیش زندگی کا انحصار تیل پر ہے۔ راشننگ یورپ والے بھی کریں گے، مگر تیل کی خریداری ضروری، بلکہ فرض رہے گا۔ تو یہ یورپ اور ایشیا کے وہ ممالک جن کے پاس تیل کم ہے ان کا حشر نشر ہوا یا نہیں؟ البتہ جنوبی امریکا اور آسٹریلیا بچ نکلیں گے۔
ان کے پاس اپنا تیل ہے۔ شمالی امریکا، یعنی امریکا، کینیڈا اور میکسیکو، ان تینوں کے پاس بھی تیل کے ذخیرے ہیں، عوام کو منہگا تو پڑے گا مگر دست یاب ہوگا۔ رہ گیا افریقا، وہاں پہلے ہی جنگیں چل رہی ہیں یا خانہ جنگی ہے۔ وہ اِدہر کی چوٹ کھائے یا اُدہر کی۔
تو یہ جنگ خواہ امریکا فرسٹ کی ہویا امریکا گریٹ اگین کی ہو، تباہی دنیا کے بہت سے ملکوں میں ہوگی جو اس جنگ میں شریک بھی نہیں۔ اِک ُطرفہ تماشا دیکھیے کہ جن شپنگ کمپنیوں کو امریکا بہادر نے اس لیے بلیک لسٹ کر رکھا تھاکہ وہ روسی تیل لانے، لے جانے کا کام کررہی ہیں، اب انہی جہازوں کو کھلی چھوٹ دی جارہی ہے کہ وہ اپنا کاروبار جاری ر کھیں تاکہ بجلی دستیاب ہو اور معاملات قابو سے باہر نہ ہوں۔ غرض یہ کہ امریکی صدر صبح حملے کے بارے میں سوچتے ہیں اور شام ہوتے ہوتے اس حملے کے باعث تیل کی قیمت بڑھ جاتی ہے، پھر اس جن کو بوتل میں بند کرنے کی فکر پڑ جاتی ہے۔
یہ بھی طے ہے کہ ایران میں حکومت تبدیل نہیں ہونے والی۔ یہ خواب پریشان ہوچکا، ایک آیت اللہ کے بعد دوسرا آیت اللہ، کریں تو کیا کریں۔ اب ٹرمپ کے سامنے دو راستے ہیں، ایک یہ کہ فتح کا اعلان کریں اور یک طرفہ جنگ بندی کرلیں، کیونکہ ایک امکان یہ بھی ہے کہ ایران جنگ بند کرنے کی پیشکش ٹھکرا دے گا اور گوریلا جنگ جاری رکھے گا، چاہے لہو گرم رکھنے کا ایک بہانہ ہی کیوں نہ ہو۔ یاد رکھیے کہ عوام کو دبائے رکھنے کے لیے اس سے بہتر نسخہ کوئی نہیں۔
امریکہ کے لیے دوسرا راستہ یہ ہے کہ وہ جنگ جاری رکھے، خواہ وہ کوئی بھی رخ اختیار کرے۔ قباحت اس میں یہ ہے کہ امریکی سپاہی بھیجنے پڑیں گے اور تیل کی قیمت وہاں پہنچ جائے گی کہ یورپ تو یورپ امریکی بھی چیخ اٹھیں گے۔
دوسری جانب نکل بھاگنے میں مشکل یہ ہے کہ ملاؤں کی حکومت قائم و دائم، یورینیم کے ذخائر محفوظ اور امریکہ کے اتحادی، جو ایران کے پڑوسی ہیں، آنے والے وقتوں کے لیے غیر محفوظ۔ ٹرمپ صاحب بس ایک کامیابی لے کر جائیں گے کہ انہوں نے علی خامنہ ای کو ختم کردیا۔
مسٹر ٹرمپ کو جنگ جاری رکھنے یا راہِ فرار اختیار کرنے کا فیصلہ جلد کرنا پڑے گا۔ امریکہ کے سکیورٹی کے چیف، جو کینٹ نے یہ کہہ کر استعفا دے دیا کہ میں ایسی جنگ کی حمایت نہیں کرسکتا جس میں امریکیوں کا کوئی فائدہ نہ ہو،ان کی جانیں بھی جائیں اور وہ جنگ کی بھاری قیمت بھی چکائیں۔
ابھی ایسے کئی واقعات پیش آئیں گے۔ ٹرمپ، کتنی بھی ڈھٹائی کا مظاہرہ کرلیں، مگر امریکہ میں جمہوریت ابھی دفن نہیں ہوئی۔ مڈٹرم الیکشن سرپر ہیں اور ری پبلکن امیدواروں سےان کے ووٹرجنگ کا حساب مانگیں گے۔ سو باتوں کی ایک بات، جنگ ختم ہو یا جاری رہے، تیل اس قیمت پر نہیں ملے گا جس پرپہلے تھا۔
اس کا ادارک کرتے ہوئے ٹرمپ نے پینترا بدلا اور ان کا بیان آیا کہ ہم جنگی کارروائیوں کو سمیٹنے پر غور کررہے ہیں۔ ایسا انہوں نے کیوں کہا؟ کیونکہ حد یہ ہے کہ وہ ایران پر سے جزوی پابندی اٹھا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ایک سو چالیس ملین پر تیل ایران اوپن مارکیٹ میں لاسکتا ہے۔ یہ اجازت کیوں؟ تاکہ تیل کی قیمتیں ایک حد سے آگے نہ بڑھیں۔