• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

صارف سے ٹیکس وصول کرکے اپنی جیب میں ڈالنے والے کاروبار کسی رعایت کے مستحق نہیں، وزیراعظم

اسلام آ باد ( رانا غلام قادر/ نیوز رپورٹر) وزیراعظم شہباز شریف نے پیداواری سیکٹر کے تمام شعبوں میں سیلز ٹیکس کیلئے پیداوار کی نگرانی رواں برس کے اختتام تک مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ صارف سے ٹیکس وصول کرکے اپنی جیب میں ڈالنے والے کاروبار کسی رعایت کے مستحق نہیں،ٹیکس کی مکمل استعداد کے حصول کیلئے تمام تر ضروری اقدامات اٹھائیں گے۔شہباز شریف نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری افراد (ایس ایم ایز) کے لیے قرضوں کی مجموعی مالیت 2028تک 1.1ٹریلین روپے سے بڑھا کر 2.2 ٹریلین روپے کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو مختلف شعبوں میں کاروبار قائم کرنے کے مواقع فراہم کرنا ان علاقوں کی ترقی اور خوشحالی کے لیے مفید ثابت ہوگا۔وزیراعظم نے دانش آئی ٹی پارک اسلام آباد کو ٹیکنالوجی کا عالمی معیار کا مرکز بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی نوجوانوں کو آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور فن ٹیک کے شعبوں میں جدید مہارتوں کی فراہمی اور آئی ٹی انٹرپرینیورز کیلئے نئے مواقع پیدا کرنے کا سفر جاری رکھیں گے۔ تفصیلات کےمطابق پیر کو شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر کی اصلاحات پر جائزہ اجلاس ہوا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ چینی، سیمنٹ، تمباکو، ٹائلز اور کھاد کے شعبوں میں نظام مکمل طور پر نصب کیا جا چکا ہے۔ اجلاس کومزید بتایا گیا کہ ٹیکسٹائلز، پیکیجڈ پانی، پیکیجڈ جوس اور پیکیجڈ دودھ کے شعبے میں نگرانی کا نظام نصب کیا جا رہا ہے اور اس کے لئے آلات کی خریداری مکمل ہو چکی ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ سٹیل، پولٹری اور ٹائرز کے شعبے میں آلات کی خریداری 15 اکتوبر جبکہ چائے، گھریلو الیکٹرانکس، چمڑے، کاغذ و بورڈ اور تیل و گھی کیلئے 30 اکتوبر تک خریداری مکمل کر لی جائے گی۔ اس طرح ان تمام پیداواری شعبوں میں نگرانی کے نظام کو رواں برس 31 دسمبر تک مکمل فعال کر دیا جائے گا۔

اہم خبریں سے مزید