اسلام آباد (عاصم جاوید) اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیب کی جانب سے بغیر وارنٹ شہری کے گھرچھاپے، توڑپھوڑ اور سامان اٹھانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نیب پراسیکیوٹر کو عدالت کی معاونت کی ہدایت کر دی۔نیب پراسیکیوٹر کے مطابق سرچ وارنٹ موجود تھے، شائد گرفتاری وارنٹ نہ لئے ہوں گے،عدالت نے کہا کہ تیاری کیساتھ معاونت کریں، جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دئیے کہ تفتیشی افسر نے بغیر وارنٹ چھاپے کا اقرار کیا، سامان اٹھایا، سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہے، ایک تفتیشی بغیر وارنٹ گھر میں داخل ہوتاہے، سامان اٹھالے جاتاہے۔ جو چیز ہاتھ میں آئی لے گیا، سونا بھی اٹھا لیا، کیا یہ درست ہے؟ گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے شہری محمد وسیم ملک کی درخواست کی سماعت کی۔ درخواست گزار نے بتایا کہ تفتیشی افسر نے بغیر وارنٹ گھر پر چھاپہ مارا اور قیمتی سامان اٹھا لیا۔