اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ کسی فریق کو قانون کے مطابق نوٹس کی تعمیل اور موثر سماعت کا موقع دئیے بغیر اس کے خلاف یکطرفہ فیصلہ جاری نہیں کیا جا سکتا، عدالت نے جائیداد کی فروخت کے معاہدے پر عمل درآمد سے متعلق مقدمے میں لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے اور ماتحت عدالت کی یکطرفہ کارروائی کالعدم قرار دیتے ہوئے مقدمہ ازسرنو فیصلے کے لیے ٹرائل کورٹ کو بھجوا دیا۔جسٹس جمال خان مندوخیل اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے غلام مجتبی مرحوم کے قانونی ورثا کی درخواست اور متعلقہ سول اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔عدالت نے تفصیلی تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ متبادل طریقے سے نوٹس کی تعمیل کا حکم دینے سے پہلے معمول کے ذرائع سے نوٹس کی تعمیل کی قانونی کوششیں کرنا اور اس بات پر مطمئن ہونا ضروری ہے کہ فریق کو معمول کے طریقے سے نوٹس نہیں دیا جا سکتا یا وہ جان بوجھ کر نوٹس وصول کرنے سے گریز کر رہا ہے۔مقدمے کے مطابق غلام مجتبیٰ اور غلام مرتضیٰ کے درمیان 30نومبر 2004 کو جائیداد کی فروخت کا معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت مجموعی قیمت 73 لاکھ 12 ہزار 500 روپے طے پائی تھی۔ خریدار نے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے دعوی دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ وہ مجموعی طور پر 25 لاکھ روپے ادا کر چکا ہے تاہم فروخت کنندہ نے بیع نامہ نہیں کیا۔