• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کے طور پر سہیل آفریدی کی عہدے پر واپسی کا امکان ختم

اسلام آباد :(انصار عباسی)…وفاقی حکومت کے ایک اعلیٰ سطحی ذریعے نے کہا ہے کہ معطل وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی عہدے پر واپسی کا امکان تقریباً ختم ہو چکا ہے، خواہ صوبے میں نافذ ایمرجنسی اور گورنر راج عارضی ہی کیوں نہ ہوں۔ 

ذریعے نے اس نمائندے کو بتایا کہ سہیل آفریدی کی بطور وزیراعلیٰ واپسی کا کوئی امکان نہیں۔ اس طرح ذریعے نے ایمرجنسی کا انتظام ختم ہونے کے بعد آفریدی کے دوبارہ عہدہ سنبھالنے کے امکان کو مسترد کر دیا۔ 

یہ جائزہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کی قیادت میں قائم صوبائی حکومت معطل کر دی ہے اور آفریدی سمیت کابینہ کے بعض ارکان کو احتیاطی حراست میں لے لیا ہے۔

احتیاطی حراست اور زیرِ التوا قانونی کارروائیوں کے امتزاج نے ان کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے خاصی غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے  ، وفاق نے 11؍ اکتوبر کو ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کا موثر انداز سے مقابلہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ 

پی ٹی آئی نے اس اقدام کو مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی محرکات پر مبنی اقدام قرار دیا ہے۔ ذریعے کے مطابق، سہیل آفریدی کے محاذ آرائی پر مبنی سیاسی موقف بالخصوص دہشت گردی اور ریاستی اداروں سے متعلق بیانات، نے وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ان کے تعلقات کو مزید نقصان پہنچایا۔ 

ذریعے نے اشارتاً کہا کہ وفاقی سطح پر اب ان کی وزیراعلیٰ کے منصب پر واپسی کے امکان کو قابلِ عمل نہیں سمجھا جا رہا۔ سہیل آفریدی کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال میں متعدد قانونی چیلنجز نے بھی اضافہ کیا ہے، جن میں 9؍ مئی 2023ء کے تشدد، احتجاجی مظاہروں اور ان کی بطور وزیراعلیٰ تقرری سے متعلق مقدمات شامل ہیں۔ 

وفاقی آئینی عدالت نے سہیل آفریدی کی تقرری کو چیلنج کرنے والی درخواست کی سماعت کیلئے 15؍ اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔ 

پی ٹی آئی کے منحرف رہنما شیر افضل مروت کی جانب سے دائر درخواست میں سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے استعفے اور اس کے بعد سہیل آفریدی کے انتخاب کے حالات پر سوال اٹھایا گیا ہے۔ 

درخواست میں اس عمل کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہے جس کے ذریعے انہوں نے عہدہ سنبھالا تھا۔ دریں اثنا، پشاور ہائیکورٹ سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنمائوں کی جانب سے اپنے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات اور حفاظتی ضمانت کیلئے دائر درخواستوں کی سماعت کر رہی ہے۔

 10؍ اکتوبر کو عدالت نے ان کے وکلا کو درخواستوں پر دلائل دینے کا آخری موقع دیا اور اگلی سماعت کیلئے 20؍ اکتوبر کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے خبردار کیا کہ مزید مہلت نہیں دی جائے گی۔ مئی 2023ء کی بدامنی کے دوران ریڈیو پاکستان پشاور کی عمارت میں توڑ پھوڑ اور اسے جلانے کے واقعے سے متعلق مقدمے میں بھی سہیل آفریدی کو نامزد کیا گیا ہے۔ 

انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے تفتیشی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد تفتیشی افسر کو ضمنی چالان جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔ ایک الگ معاملے میں پشاور ہائیکورٹ نے ہری پور کے ضمنی انتخاب کی مہم کے دوران ضابطۂ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر الیکشن کمیشن کی کارروائی کو چیلنج کرنے والی سہیل آفریدی کی درخواست مسترد کر دی۔ 

اس کارروائی کے مزید سیاسی نتائج سامنے آ سکتے ہیں، تاہم درخواست مسترد ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ بنیادی الزامات کے بارے میں حتمی فیصلہ سنا دیا گیا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے صوبے کا اقتدار سنبھالنے، سہیل آفریدی کی احتیاطی حراست اور زیرِ التوا قانونی کارروائیوں کے امتزاج نے ان کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے خاصی غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ 

اگرچہ ایمرجنسی کے نفاذ اور صوبائی اختیارات گورنر کو منتقل کرنے کا طریقۂ کار آئینی دفعات کے تحت طے ہوتا ہے، تاہم وفاقی ذریعے کے جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ انتظام مستقل نہ ہونے کی صورت میں بھی سہیل آفریدی کی واپسی کا امکان کم ہی رہے گا۔

اہم خبریں سے مزید