• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عراقچی کا شہزادہ فیصل سے رابطہ، ایران کی سعودیہ، حوثی مذاکرات میں سہولت کاری کی پیشکش

تہران /ریاض(اے ایف پی /نیوزڈیسک ) آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازپر حملہ ‘ سعودی دارالحکومت ریاض میں متعدددھماکے ‘حوثی گروہ نے خمیس مشیط ایئربیس اور ریاض ایئرپورٹ کوپیر کے روزبھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے کہ جبکہ سعودی فوجی اتحاد کاکہناہے کہ یمن سے داغے گئے میزائلوں کوفضا میں تباہ کردیاگیاہے ‘حوثی جنگجوؤں نے یمنی شہرتعز کا محاصرہ مزید سخت کر دیا ہے‘ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران لڑائی میں 60 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں‘ سعودی عرب میں حالیہ واقعات کی ویڈیو بنانے پر امریکی شہریوں کو گرفتار کرلیا گیا‘ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان سے رابطہ ‘ تہران نے سعودی عرب اور حوثی گروہ کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کی پیشکش کردی جبکہ سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کہا ہے کہ ریاض ایئر پورٹ پر حملوں کا سخت ردعمل دیاجائے گا ‘ اقوام متحدہ نے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل سےکام لیں کیوں کہ مزید لڑائی صرف تباہی اور مصائب لائے گی ‘ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادکے مطابق تہران سفارت کاری اورجنگ دونوں کے لیے تیار ہے۔ سعودی حکام کے مطابق اتوارکو شاہ خالد ایئرپورٹ پر حملے میں ایک پاکستانی شہری شہیداور 11افراد زخمی ہوئے ‘حوثی گروہ انصاراللہ کے سیاسی بیورو کے رکن محمد البخیتی نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے یمن جنگ میں مداخلت کی تو اسے فوری اور دردناک جواب دیا جائے گا‘حملوں کے بعد سعودی عرب نے ریاض ہوائی اڈے کی بندش میں 17 اکتوبر تک توسیع کردی ہے جبکہ اتحاد ایئرویز اور گلف ایئر نے ریاض ایئرپورٹ کے لیے اپنی تمام پروازیں ہفتے تک منسوخ کردی ہیں‘ اتحاد ایئرویز نے اس ہفتے دمام اور جدہ کیلئے بھی پروازیں معطل کر دی ہیں‘ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے ‘جائزہ مکمل ہونے کے بعدتہران آبنائے ہرمز سے متعلق امریکی جواب پر ردعمل دے گا‘ ایران مذاکرات کے ذریعے یمن تنازع حل کرنے میں مدد دینے کیلئے تیار ہے۔ علاوہ ازیں برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے الزام عائدکیاکہ پاسداران انقلاب نے غالباً برطانیہ کےفوجی اڈے پر بڑے پیمانے پر خوف و ہراس پیدا کرنے کے واقعے کی ہدایت دی تھی جبکہ امریکا اور اس کے اتحادیوںبرطانیہ‘ آسٹریلیا‘ کینیڈا، فرانس اور جرمنی نے بھی اس حوالے سے تہران کو باز رہنے کی تنبیہ کی ہے۔

اہم خبریں سے مزید