• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایمرجنسی اور گورنر راج قبول نہیں، اپوزیشن قائدین، آج چیلنج کریں گے، بیرسٹر گوہر

اسلام آباد (عاصم جاوید) قومی اسمبلی اور سینیٹ میں قائدین حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اور سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے حکومتی اقدام کو آئین اور جمہوریت پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر معاملہ امن و امان اور دہشت گردی کا ہے تو سب سے پہلے بلوچستان میں ایمرجنسی نافذ کی جانی چاہئے تھی،ایمرجنسی اور گورنر راج قبول نہیں،اپوزیشن اب بھی حکومت کیساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہے، موجودہ نظام کیخلاف جدوجہد جاری رکھی جائے گی،دہشتگردی اور امن کا مسئلہ ہے تو سب سے پہلے بلوچستان میں ایمرجنسی لگائیں۔دوسری جانب چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے کے پی میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو آج پشاور ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا۔  گزشتہ روز تحریک تحفظ آئین پاکستان کا اجلاس زیر صدارت محمود خان اچکزئی منعقد ہوا جس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمود اچکزئی نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی صورتحال کا موازنہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ پی ٹی آئی کی حکومت والے صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنے کا جواز کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے نصف حصے میں ریاست کی رٹ موجود نہیں، لیکن وہاں ایمرجنسی نافذ نہیں کی جاتی کیونکہ وہاں کا وزیراعلیٰ حکومت کا پسندیدہ ہے۔ محمود اچکزئی نے واضح کیا کہ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ پاکستان اور جمہوریت سے محبت کرنے والے ہر شخص کی ذمہ داری ہے کہ اس اقدام کے خلاف متحد ہو۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں سے کہا جائے گا کہ وہ منگل سے اپنے اپنے علاقوں میں اس اقدام کے خلاف جمہوری جدوجہد کا اعلان کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم کسی کو گالیاں دیں گے  نہ گولیاں چلائیں گے، کیونکہ ہمارے پاس گولیاں ہیں ہی نہیں، اور نہ ہی کسی پر پتھر پھینکیں گے۔ محمود اچکزئی نے کہا کہ یہ اقدام پاکستان کے آئین اور جمہوریت پر حملہ ہے، اس لئے ہر پاکستانی، خواہ وہ جج ہو، جنرل ہو یا حکومت میں ہو یا حکومت سے باہر، اس کی مزاحمت کرنا اس کا فرض ہے۔

اہم خبریں سے مزید