اسلام آباد (اسرار خان) ایندھن کے وافر ذخائر کے باوجود پٹرول کی قیمتوں میں معمولی کمی پر سوالات، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کی جانب سے ملازمین کی برطرفیوں اور گیس منصوبوں میں تاخیر پر بھی تشویش۔ تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے پیر کے روز اس بات پر سوال اٹھایا کہ ایندھن کے وافر ذخائر اور تازہ پیٹرولیم کنسائنمنٹس کے باوجود پیٹرول کی قیمتوں میں صرف چند پیسوں کی کمی کیوں کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کمیٹی نے ایندھن کی قیمتوں کے تعین، ملازمین کی برطرفیوں اور گیس کے منصوبوں میں تاخیر پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم نے جامشورو جوائنٹ وینچر لمیٹڈ کی ملکیتی ساخت کا جائزہ لینے کا معاملہ بھی زیرِ غور لایا، تاہم اس پر تفصیلی غور و خوض آئندہ اجلاس تک ملتوی کر دیا۔ یہ دوسری مرتبہ ہے کہ کمیٹی نے اس معاملے پر غور و خوض مؤخر کیا ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم نے اس سے قبل سرکاری شعبے کے بجلی گھروں میں گیس کی قلت کے باوجود جامشورو جوائنٹ وینچر لمیٹڈ کو مقامی گیس کی مسلسل فراہمی پر سوالات اٹھائے تھے۔ سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے مبینہ طور پر امتیازی سلوک کیے جانے کا الزام لگاتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ جے جے وی ایل کو دوبارہ فعال کرنے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے بجلی گھروں کو بند کیا گیا۔ کمیٹی نے کمپنی کو گیس کی مختص مقدار، معاہدے، پیداوار اور واجب الادا رقوم کی تفصیلات بھی طلب کی تھیں۔ سینیٹر منظور احمد کی زیرِ صدارت کمیٹی کو پیٹرولیم ڈویژن اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پیٹرولیم مصنوعات کی روزانہ قیمتوں کے تعین، ذخائر کے جائزے اور متعلقہ اداروں کے کردار کے بارے میں بریفنگ دی۔