فیصل آباد (شہباز احمد) ٹیکسٹائل برآمدات میں مسلسل کمی کے خدشات اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کو درپیش سنگین مسائل کے حل کے لیے وزارت تجارت کا آج منگل کو ہونے والا ہنگامی انتہائی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ صنعتی حلقوں کا کہنا ہے اجلاس میں ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز کو بجلی اور گیس کے بھاری نرخوں، ایکسپورٹ فنانس اسکیم میں مبینہ بے ضابطگیوں، اربوں روپے کے زیرِ التوا ریفنڈز، برآمدی مال کی ترسیل اور ٹرانس شپمنٹ کے حوالے سے درپیش مسائل کا حل نہ نکالا گیا تو ملک کی معاشی صورتحال عدم استحکام کا شکار ہونے کا اندیشہ ہے۔ صنعتکاروں کے مطابق اجلاس میں اگر یقین دہانیوں کی بجائے ٹھوس فیصلے کرنے کی ضرورت ہے تاکہ برآمدات میں مزید کمی کے نتیجے میں ملکی معیشت کو درپیش سنگین خطرے سے نجات دلائی جا سکے۔ واضح رہے کہ اس حوالے سے پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے حکومت کو خط لکھ کر توجہ دلائی تھی۔ اس خطے کے جواب میں وزارتِ تجارت کے آج ہونے والے اجلاس میں وزارتِ خزانہ، وزارتِ توانائی، وزارتِ پیٹرولیم، وزارتِ بحری امور، اسٹیٹ بینک، ایف بی آر، پنجاب حکومت اور ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کی نمائندہ تنظیموں سمیت متعلقہ اداروں کے حکام شرکت کریں گے۔ اس حوالے سے صنعتی حلقوں کا کہنا ہے کہ مالی سال 2026-27 کی دوسری سہ ماہی کے دوران برآمدات میں نمایاں کمی کا خدشہ ہے جس سے پہلے ہی دباؤ کا شکار برآمدی صنعت کا بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے۔ انہوں نے توانائی کے نرخوں میں کراس سبسڈی کو برآمدی صنعت کے لیے بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بی ون اور بی ٹو کیٹیگری کے صارفین بی تھری اور بی فور صارفین کو سالانہ تقریباً 56 ارب روپے کی کراس سبسڈی دے رہے ہیں۔