• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوت سے لڑی جائے گی، وزیر اطلاعات

اسلام آباد(طاہر خلیل)وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے خیبر پختونخوا میں خوش آئند تبدیلی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قوت سے لڑی جائے گی۔ پیر کو انسٹیٹیوٹ آف سٹریٹجک سٹڈیز (آئی ایس ایس آئی) کے زیر اہتمام ”پاکستان میں انسداد دہشت گردی کے بدلتے منظر نامے، ٹی ٹی پی، سرحد پار خطرات اور علاقائی سلامتی“ کے موضوع پر منعقدہ انٹرنیشنل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صفِ اول کا کردار ادا کر رہا ہے اور اس مقام پر رہنے کی ہمیں بھاری قیمت چکانا پڑی ہے۔ دنیا کی کوئی دوسری قوم یہ دعویٰ نہیں کر سکتی کہ اس نے دہشت گردی کی جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دینے کے ساتھ 100 ارب ڈالر سے زیادہ کے معاشی نقصانات برداشت کیے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف مزاحمت، امن کے فروغ اور علاقائی سلامتی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیاں صرف اپنے ملک کو محفوظ بنانے تک محدود نہیں بلکہ اس سے عالمی امن کو بھی تقویت ملتی ہے۔ پاکستان دہشت گردوں اور باقی دنیا کے درمیان ڈھال کا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کے عمل میں پاکستان کا کردار اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان امن پر یقین رکھتا ہے اور دنیا میں امن کے قیام کے لیے سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں ان کوششوں کو آگے بڑھایا گیا جبکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی ثالثی کے عمل میں اہم کردار ادا کیا جس کا عالمی سطح پر اعتراف کیا جا رہا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ خطے میں استحکام کا خواہاں رہا ہے۔ ایک پُرامن اور مستحکم افغانستان سے نہ صرف پورے خطے میں امن کو فروغ ملے گا بلکہ وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت، بیرونی سرمایہ کاری اور علاقائی ریاستوں کے درمیان تعاون اور روابط میں بھی اضافہ ہوگا۔ پاکستان نے مختلف خطوں میں مذاکراتی عمل میں شرکت کی اور افغان عبوری حکومت کو بھی یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ پاکستان خطے کے عوام، بالخصوص افغانستان کے عوام کے لیے امن اور خوشحالی چاہتا ہے، تاہم بدقسمتی سے یہ کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے چار دہائیوں سے زائد عرصے تک 40 لاکھ سے زیادہ افغان مہاجرین کی میزبانی کی تاہم اس فراخ دلی کی پاکستان کو بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔ بدقسمتی سے ہماری مہمان نوازی اور فراخدلی کا جواب کبھی اسی خیرسگالی سے نہیں دیا گیا۔

اہم خبریں سے مزید