اسلام آباد( نیو زرپورٹر) وزیر مملکت و چیئرمین پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) بلال بن ثاقب نے گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی کابینہ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے 15ماہ میں ورچوئل اثاثوں کا جامع ریگولیٹری فریم ورک قائم کر لیا، اے آئی سے چلنے والے شکایات مینجمنٹ سسٹم کی بیٹا ٹیسٹنگ بھی جاری ہے،بریفنگ میں بتایا گیا کہ بلاک چین، اسٹیبل کوائنز اور ٹوکنائزیشن تیزی سے عالمی ادائیگیوں، سرمایہ کاری اور کیپیٹل مارکیٹس کا حصہ بن رہے ہیں، دنیا کے بڑے مالیاتی ادارے اور حکومتیں ان ٹیکنالوجیز پر مبنی نیا انفراسٹرکچر تشکیل دے رہی ہیں، انہوں نے کہا، "1944میں جب بریٹن ووڈز میں جدید عالمی مالیاتی نظام کی بنیاد رکھی گئی، اس وقت پاکستان ایک آزاد ملک کے طور پر وجود میں نہیں آیا تھا، آج جب پیسہ پروگرام ایبل ہو رہا ہے، پاکستان کے پاس عالمی مالیاتی نظام کی اگلی نسل کی تشکیل میں کردار ادا کرنے کا موقع ہے، ہمیں اپنا مالیاتی مستقبل کرائے پر نہیں لینا، بلکہ اس کی تعمیر میں خود شریک ہونا ہے جولائی 2025میں اپنے قیام کے بعد سے پی وی اے آر اے نے بڑے بین الاقوامی ایکسچینجز کے لیے ابتدائی ریگولیٹری گیٹ ویز متعارف کرائے ہیں۔ اتھارٹی نے ریگولیٹری سینڈ باکس قائم کر کے فعال کیا اور لائسنسنگ کا جامع فریم ورک تیار کیا۔ ورچوئل ایسٹس ایکٹ 2026 کی منظوری کے تقریباً پانچ ماہ بعد، 21 اگست 2026 کو لائسنسنگ ریگولیشنز کے دو سیٹ نوٹیفائی کیے گئے،یہ تمام اہداف اتھارٹی کے مجموعی بجٹ کے 8فیصد سے بھی کم میں حاصل کیے گئے۔