اسلام آباد ( ایوب ناصر خصوصی نامہ نگار) "مصنوعی ذہانت" اسلامی یونیورسٹی کی طالبہ لائبہ اعجاز کی خودکشی کا موجب بنی ،ملزم نعمان نے امریکی یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے کی خواہاں طالبہ کو دھوکا دینے کیلئے چیٹ جی پی ٹی کااستعمال کا انکشاف کیا ۔ ذرائع کے مطابق لائبہ نے اپنے والد سے 21لاکھ روپےکاپلاٹ بیچ کا رقم لینےکے ساتھ سوتیلی ماں کا زیور بھی نعمان کو دیا تھا،ڈاکومنٹس چیک کیے تو جعلی نکلے،، لائبہ پر اپنی سوتیلی ماں کا زیور واپس لوٹانے کا پریشر تھا، لائبہ نے نعمان سےکہاکہ باقی پیسے بعد میں دیکھیں گے، اس کی سوتیلی ماں کا زیور واپس کردے٫ وعدے کے بعد نعمان نے لائبہ کو نظرانداز کرنا شروع کیا اور اس سے رابطہ منقطع کردیا، جب لائبہ کو کوئی حل سمجھ نہ آیا تو اس نے زندگی کے خاتمے کو ترجیح دیتے ہوئے خودکشی کرلی ،ملزم نعمان 2022 تک15 سال اینٹی کرپشن کا ملازم تھا ، غیرحاضری پرنکالا گیا پھر ایک انشورنس کمپنی جوائن کی۔