• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بغیر وارنٹ شہری کے گھر چھاپہ، توڑ پھوڑ، سامان اٹھانے پر جسٹس خادم حسین سومرو برہم

اسلام آباد (عاصم جاوید) اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیب کی جانب سے بغیر وارنٹ شہری کے گھرچھاپے، توڑپھوڑ اور سامان اٹھانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نیب پراسیکیوٹر کو عدالت کی معاونت کی ہدایت کر دی۔نیب پراسیکیوٹر کے مطابق سرچ وارنٹ موجود تھے، شائد گرفتاری وارنٹ نہ لئے ہوں گے،عدالت نے کہا کہ  تیاری کیساتھ معاونت کریں،  جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دئیے کہ تفتیشی افسر نے بغیر وارنٹ چھاپے کا اقرار کیا، سامان اٹھایا، سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہے،  ایک تفتیشی بغیر وارنٹ گھر میں داخل ہوتاہے، سامان اٹھالے جاتاہے۔ جو چیز ہاتھ میں آئی لے گیا، سونا بھی اٹھا لیا، کیا یہ درست ہے؟ گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے شہری محمد وسیم ملک کی درخواست کی سماعت کی۔ درخواست گزار نے بتایا کہ تفتیشی افسر نے بغیر وارنٹ گھر پر چھاپہ مارا اور قیمتی سامان اٹھا لیا۔ میرے خلاف کوئی تفتیش، انکوائری یا ریفرنس نیب میں زیر التوا نہیں ہے۔ چیئرمین نیب اور ڈی جی نیب کو بھی درخواست دی لیکن شنوائی نہیں ہوئی۔ جسٹس سومرو نے کہا کہ تفتیشی افسر نے بغیر وارنٹ چھاپے کا اقرار کیا، سامان اٹھایا، سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہے،  ایک تفتیشی بغیر وارنٹ گھر میں داخل ہوتاہے، سامان اٹھالے جاتاہے۔ جو چیز ہاتھ میں آئی لے گیا،سونا بھی اٹھا لیا، کیا یہ درست ہے؟ تفتیشی نے اقرار کیا کہ وہ گئے تھے،وقت نہیں تھا کہ وارنٹ لیتے۔ نیب پراسیکیوٹر نے رافع مقصود نے کہا کہ سرچ وارنٹ موجود تھے، شائد گرفتاری وارنٹ نہ لئے ہوں گے۔ تفتیشی نے دھاوا بولا اور انہوں نے کچھ سامان لیا ہے تو اس حد تک عدالت کو مطمئن کروں گا۔ عدالت نے نیب پراسیکیوٹر کو آئندہ سماعت پر تیاری کے ساتھ پیش ہو کر معاونت کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔
اسلام آباد سے مزید