کراچی( ثاقب صغیر )پروٹیکٹر کلیئرنس میں مبینہ رشوت ستانی اور بدعنوانی کا انکشاف،ایف آئی اے نے رشوت ستانی، غیر قانونی رقوم کی وصولی اور بے ضابطگیوں سے متعلق سنگین الزامات کی تحقیقات شروع کر دی۔تفصیلات کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے(FIA) نے بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ (BEOE) کراچی میں پروٹیکٹر کلیئرنس کے عمل میں مبینہ رشوت ستانی، غیر قانونی رقوم کی وصولی اور بے ضابطگیوں سے متعلق سنگین الزامات کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ چار شہریوں کی شکایت پر ایف آئی اے امیگریشن کی ٹاسک ٹیم نے ابتدائی جانچ پڑتال کی جس کے بعد معاملہ مزید کارروائی کے لیے ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل (ACC) کراچی کو بھجوا دیا گیا۔شکایت کنندگان احمد مختار، محمد نوید، اسد صابر اور احد حسین نے الزام عائد کیا کہ پروٹیکٹر کلیئرنس کے سلسلے میں ایجنٹ ندیم آرائیں نے ان سے مجموعی طور پر 76 ہزار 400 روپے وصول کیے۔ الزامات کی تصدیق کے لیے ایف آئی اے کی ٹیم نے مذکورہ شہریوں کے ہمراہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 6 کراچی میں واقع بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے دفتر کا دورہ کیا جہاں شہریوں کی نشاندہی پر بیورو کے سابق ملازم ندیم احمد سے پوچھ گچھ کی گئی۔ابتدائی پوچھ گچھ کے دوران ندیم احمد نے مبینہ طور پر پروٹیکٹر کلیئرنس کے لیے اضافی رقوم جمع کرنے اور تقسیم کرنے کے ایک نظام سے متعلق انکشافات کیے۔ اس کے بیان کے مطابق مکمل دستاویزات کے باوجود مقررہ فیس کے علاوہ مختلف ممالک کے لیے اضافی رقوم وصول کیے جانے کا الزام ہے۔افریقی ممالک کے لیے 20 ہزار روپے، کینیڈا اور یورپ کے لیے 10 ہزار روپے، جبکہ خلیجی ممالک کے لیے 4 ہزار روپے وصول کیے جاتے ہیں۔ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق اور متعلقہ ریکارڈ کی جانچ جاری ہے۔گرفتار چوکیدار کے مبینہ انکشاف کے مطابق اس منظم بدعنوانی کے نظام میں ملوث متعدد نجی و سرکاری اہلکار اعلیٰ حکام کو ہفتہ وار بنیادوں پر لاکھوں روپے کا حصہ فراہم کرتے ہیں جبکہ مبینہ طور پر ادائیگیاں ڈالرز میں بھی کی جاتی ہیں۔