ریاض(اے ایف پی /نیوزڈیسک )آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرپر حملہ‘آگ بھڑک اٹھی ‘سعودی فوجی اتحاد کا مدینہ کی طرف داغے گئے میزائل کو مار گرانے کا دعویٰ‘حوثی گروہ کی تردید‘سعودی الزام کو جھوٹ قرار دیدیا۔انصاراللہ کا عدن میں صدارتی محل پر میزائل حملہ ‘5افرادہلاک ‘16زخمی ‘وزیراعظم اورکابینہ ارکان محفوظ رہے‘حوثیوں کےمطابق محل میں واقع فوجی ہیڈکوارٹرزکو نشانہ بنایاگیاہے یہ سعودی اتحادی افواج کا کمان سینٹر تھا‘گروہ نے مارب شہر پر بھی میزائل داغ دیئے ‘فرانس نے سعودی تیل تنصیبات کے تحفظ کیلئےفوجی وسائل کی تعیناتی شروع کر دی‘سعودی وزارت خارجہ کے ایک عہدیدار نے الزام عائد کیا ہے کہ تہران نہ صرف حوثیوں کی سعودی عرب کے خلاف حالیہ شدت پسند کارروائیوں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے بلکہ اس گروہ کو اسلحہ اور تربیت بھی فراہم کر رہا ہے‘ کشیدگی میں کمی کیلئے مسقط میں ملاقات کی درخواست حوثیوں نے مسترد کر دی ہے‘ریاض کا ایران کے ساتھ رابطہ اب بھی برقرار ہے تاہم تہران حل تک پہنچنے کیلئے بظاہر کسی رعایت پر آمادہ نظر نہیں آتا۔سعودی عسکری اتحاد کے مطابق حوثیوں نے رواں ماہ ریاض ایئرپورٹ پر 20 حملے کیے جن کے نتیجے میں 17 افرادشہید اور 333 زخمی ہوئے علاقائی عناصر نے حوثیوں کو جدیدٹیکنالوجی حاصل کرنے میں مدد دی جبکہ حوثی گروہ نے ایک بار پھر فضائی کمپنیوں کو خبردار کیا کہ سعودی عرب کی فضائی حدود اور ہوائی اڈے غیر محفوظ ہیں‘حوثی ترجمان کےمطابق شاہ خالد ایئرپورٹ کو ایک بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا گیا ‘انہوںنے یہ بھی اعلان کیا کہ صوبہ صعدہ کی فضائی حدود میں ایک سعودی ٹائفون جنگی طیارے کو زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل سے نشانہ بنایا گیا۔ ادھر ایران کی پارلیمان کے اسپیکرمحمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا کو وعدہ خلافی پر سزا ملنی چاہیے۔