کراچی (نیوز ڈیسک) خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی پر عوام تقسیم، 80 فیصد پاکستانی مذاکرات کے حق میں، صوبے میں 42 فیصد شہری ایمرجنسی مخالف، 40 فیصد حامی، اکثریت کو سیکورٹی صورت حال بہتر ہونے کی توقع، 47 فیصد پاکستانی ایمرجنسی حامی، 35 فیصد مخالف، 68 فیصد احتجاج میں شرکت نہیں کرینگے، پختونخوا میں یہ شرح 72 فیصد، گیلپ سروے میں پختونخوا کے 52 فیصد شہری صوبائی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن، 34 فیصد نے خراب قرار دیا۔ گیلپ پاکستان کے ایک تازہ عوامی سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ ملک بھر میں خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت کے نفاذ کی حمایت کرنے والے افراد کی تعداد اس کی مخالفت کرنے والوں سے زیادہ ہے، تاہم صوبے کے اندر عوامی رائے تقریباً برابر تقسیم ہے۔ سروے کے مطابق ملک بھر میں 47 فیصد پاکستانی ہنگامی حالت کے نفاذ کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ 35 فیصد اس کے مخالف ہیں۔ دوسری جانب خیبر پختونخوا میں 42 فیصد شہری اس اقدام کی مخالفت اور 40 فیصد حمایت کرتے ہیں۔ سروے میں 41 فیصد پاکستانیوں نے صدر کے فیصلے کو آئین کے تحت جائز قرار دیا، جبکہ 35 فیصد نے اسے ناجائز سمجھا اور 24 فیصد نے کوئی رائے نہیں دی۔ صوبے میں 38 فیصد افراد نے صدر کے فیصلے کو آئینی طور پر جائز اور 40 فیصد نے ناجائز قرار دیا۔ دہشت گردی کے خلاف تعاون نہ کرنے سے متعلق وفاقی حکومت کے پی ٹی آئی حکومت پر عائد کردہ الزام کو بھی زیادہ عوامی حمایت حاصل نہیں ہوئی۔ ملک بھر میں 36 فیصد افراد نے اس دعوے کو درست تسلیم نہیں کیا، جبکہ 29 فیصد نے اسے درست قرار دیا۔