• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پوری دنیا اِن دنوں غیر معمولی واقعات کی زد میں ہے۔ عقل عیار اُن کے اسباب کا سراغ لگانے کے بجائے نت نئے اقدامات اور حل تجویز کرتی ہے۔ ہمارے ہاں 16دسمبر کو سانحۂ پشاور ظہور پذیر ہوا ، تو بیس نکاتی قومی ایکشن پلان سامنے آ گیا جسے تمام سیاسی جماعتوں کی تائید حاصل تھی۔ اِس نازک مرحلے میں عقل بھیس بدل کے آ گئی اور حکمرانوں اور نام نہاد دانش وروں نے کانا پھوسی کی کہ یہ سارا بگاڑ مدرسوں کا پیدا کردہ ہے اور اشتعال انگیز فرقہ وارانہ تحریریں اور تقریریں تشدد کے شعلوں کو ہوا دے رہی ہیں۔ بس پھر کیا تھا، پوری حکومتی مشینری کے علاوہ دین و مذہب سے بیزار لوگ حرکت میں آ گئے اور ایک ہنگامہ داروگیر بپا ہو گیا۔اخباری اطلاع کے مطابق دینی کتب شائع کرنے والے اشاعت گھروں اور دوکانداروں کے خلاف مقدمے قائم کر دیے گئے ہیں اور دینی مدارس کی اندھا دھند چھان بین شروع ہو چکی ہے۔ بلاشبہ نفرت پھیلانے والے مواد پر پابندی ہونی چاہیے ، مگر ہمیں جو اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، اِن میں یہ شکایت عام ہے کہ معیاری اسلامی کتب شائع اور فروخت کرنے والے ادارے قانون کی گرفت میں لائے جا رہے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کو اِس تاریخی حقیقت کا پورا شعور ہونا چاہیے کہ دینی مدرسے تقسیم ہند سے پہلے بھی قائم تھے جنہوں نے اسلامی تشخص کی حفاظت اور انگریزوں کی غلامی کے خلاف جذبۂ حریت کے فروغ میں زبردست کردار ادا کیا۔ مسلمانوں پر ایک صدی بہت بھاری گزری تھی۔ ایک طرف انگریز اسلامی تہذیب و تمدن کا نقش مٹانے پر تُلے ہوئے تھے ، جبکہ دوسری طرف اعلیٰ طبقے کے ہندو اُنہیں اچھوت بنانے کے درپے تھے۔تب علمائے حق نے کالا پانی کی اذیت ناک سزائیں برداشت کرتے ہوئے فرنگی تہذیب کا مردانہ وار مقابلہ کیا اور پورے ہندوستان میں قال اﷲ و قال الرسول کا ایک حیرت انگیز نظام قائم رکھا۔
ہم دہشت گردی کے جس خطرے سے دوچار ہیں ، اِس کے اسباب ہمیں اپنے سماجی تضادات اور ناہموار اسلوبِ زندگی میں بھی تلاش کرنا ہوں گے۔ وزیراعلیٰ پنجاب جناب شہبازشریف نے علماء و مشائخ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اُنہیں دہشت گردوں کے خلاف نظریاتی اور فکری جنگ لڑنا ہو گی۔ اُن کی بات درست ہے کہ صرف طاقت کے ذریعے اِس خطرناک سرطان کا خاتمہ ناممکن ہے ، مگر ہماری حکومتیں دینی مدارس اور دینی کتب کے معاملات جس بے ڈھنگے پن اور عاقبت نااندیشی سے اُلجھا رہی ہیں ، اِس کے باعث دہشت گردی کے خلاف قوم کے اندر جو اتفاقِ رائے پیدا ہوا تھا ، اِس میں دراڑیں پڑ گئی ہیں اور دینی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے ۔ تمام علماء دہشت گردی کی مذمت کرتے اور پورے ملک میں امن دیکھنا چاہتے ہیں۔دراصل یہی لوگ دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلے کر سکتے اور مائنڈ سیٹ میں تبدیلی لا سکتے ہیں۔ اب ہمارے حکمران اُن کو اعتماد میں لینے اور اُن کا تعاون حاصل کرنے کے بجائے محاذ آرائی کی راہ پر چل نکلے ہیں اور اﷲ اور اُس کے رسولؐ سے غافل طبقے کے ہاتھوں میں غیر شعوری طور پر کھیل رہے ہیں جن کا تقاضا ہے کہ دینی کتب سے ’قتال‘ اور ’جہاد‘ کے الفاظ نکال دیئے جائیں۔اسلامی مفکر سید ابوالاعلیٰ مودودی نے قیامِ پاکستان کے فوراً بعد یہ واضح کر دیا تھا کہ ’قتال‘ کا حکم صرف حکومت دے سکتی ہے۔ اُنہوں نے نجی مسلح جتھوں کا راستہ روک دیا تھا۔ اِسی طرح علمائے حق یہ بھی صراحت کرتے آئے ہیں کہ جہاد کی اصطلاح وسیع معانی رکھتی ہے اور جہالت، غربت، ناانصافی اور عدم مساوات کے خلاف جدوجہد سے عبارت ہے۔ اقبال کے شعر سے بھی اِس کی وسعت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے
یقیں محکم ، عمل پیہم ، محبت فاتحِ عالم
جہادِ زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
ہمارے اسکولوں اور کالجوں کی درسی کتابوں میں تحریکِ پاکستان کی جو تاریخ پڑھائی جاتی ہے ، وہ اِس قدر تشنہ ، غیر منظم اور ادھوری ہے کہ یہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ پاکستان کیوں ناگزیر ہو گیا تھا، چنانچہ ہماری نئی نسل سوال کرتی ہے کہ جب سرحد کے دونوں پار ایک ہی شکل و صورت کے لوگ بستے ہیں ، تو ہم نے ہندوستان کا بٹوارا کیوں کرایا تھا۔اپنی اِس نسل کو ہمیں آٹھ سو سال کی تاریخ پڑھانا اور اُن تہذیبی ، سیاسی اور تاریخی عوامل کی نشان دہی کرنا ہو گی جو قیامِ پاکستان پر منتج ہوئے تھے۔اِس عہد کی تاریخ کے مطالعے سے بھارت دشمنی کے بجائے ہندوؤں کی نفسیات اور سماجی رجحانات کا صحیح ادراک حاصل ہو گا جو مستقبل کی بہتر صورت گری میں یقیناً سودمند ثابت ہوگا۔ بھارت کے ساتھ متوازن تعلقات کے لیے برہمنی ذہنیت کا گہرا مطالعہ ضروری ہے۔ اِسی گہرے مطالعے اور مشاہدے کی بنیاد پر حضرت قائداعظم نے 23مارچ 1940ء کو منٹو پارک میں ایک لاکھ کے لگ بھگ مندوبین سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں اور تہذیبیں ہیں۔ ہمارے عقائد، ہمارے اخلاقی ضابطے، ہمارے سماجی رویے اور ہماری تاریخی روایات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ہمارے ہیروز اُن کے ولن ہیں۔ ہم گائے کو ذبح کرتے ہیں ،جبکہ وہ اِسے پوجتے ہیں۔ اِس تناظر میں پاکستان کی نظریاتی اور فکری بنیادوں کی حفاظت ہم تاریخی شعور ہی کے ذریعے کر سکتے ہیں۔ وہ ہندو ذہنیت جس نے مسلمانوں کا ناطقہ بند کر دیا تھا اور اُنہیں ایک جداگانہ وطن کے حصول پر مجبور کیا تھا ، وہی ذہنیت آج پاکستان سے برسرِپیکار ہے۔ ہمیں یقیناً مشرقی محاذ پر ایک جنونی عفریت کا سامنا ہے جو ہمہ جہت منصوبہ بندی اورمستعدی کا تقاضا کرتا ہے۔دینی مدرسوں کا ماحول بدلنا اور اِس میں کشادگی لانا بہت ضروری ہے۔ہمارامشورہ یہ ہے کہ مدارس اور علماء کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کے بجائے ماہرینِ تعلیم ، اہلِ دانش اور علمائے کرام پر مشتمل ایک قومی کمیشن قائم کیا جائے جو تمام پہلوؤں کا جائزہ لے کر جامع سفارشات مرتب کرے۔
اب حکومتوں کو تعلیم پر جی ڈی پی کا دس فی صد سے زائد خرچ کرنا اور اُن میں دینی مدرسوں کو بھی شامل کرنا ہو گا۔ مذہبی دہشت گردی کے ضمن میں یہ پہلو غیر معمولی توجہ کا مستحق ہے کہ سرورِ کائنات حضرت محمدؐ کی توہین اور شعائرِ اسلام سے کھلی بغاوت بھی انتہا پسندی کو جنم دے رہی ہے اور مغرب اِن اشتعال انگیز رویوں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے پیرس کے ایک ہفتہ وار کامیڈی میگزین پر ہونے والے دہشت گردی کے حملے میں سترہ افراد ہلاک ہوئے جن میں دو کارٹونسٹ بھی شامل ہیں جو رحمۃ للعالمین حضرت محمدﷺ کے خاکے بناتے اور اِسے آزادیٔ اظہار کی علامت سمجھتے تھے۔ فرانس کی کچی آبادیوں میں بڑی تعداد میں مسلمان رہتے ہیں۔ اِن میں سے تین نوجوانوں کا گستاخانہ خاکوں پر خون کھولنے لگا۔وہ ابوغریب اور گوانتاموبے کے اندوہناک قصے بھی سنتے رہے تھے۔وہ پیارے نبیؐ کی ناموس پر قربان ہو گئے اور اُن کے جوشِ ایمانی نے فرانس کا ناقابلِ تسخیر سیکورٹی کا حصار توڑ ڈالا۔ اِس پر پورے یورپ میں ایک زلزلہ آگیا۔ چالیس ملکوں کے سربراہ ملین مارچ میں شریک ہوئے۔ اِن میں ترکی ، اُردن اور فلسطین کے سربراہ بھی شامل تھے۔ کسی نے بھی اِس عظیم حقیقت کے بارے میں نہیں سوچا کہ مسلمان اپنے پیغمبرﷺکی ناموس کے بارے میں حددرجہ حساس ہیں اور جان پر کھیل جانے کی روایت رکھتے ہیں۔ فرانس کے عظیم دانش ور سارتر نے کہا تھا کہ آزادی کے ساتھ ذمے داری بہت ضروری ہے ، لیکن عیار عقل حیلے تراشتی اور جذبات میں آگ لگاتی رہتی ہے۔کچھ یوں نظر آتا ہے کہ جب تک مغرب میں سرورِ کونین حضرت محمدﷺکے گستاخانہ خاکے اور کارٹون چھپتے رہیں گے، فلسطین اور کشمیر میں خون بہتا رہے گا اور شعائرِ اسلام سے بغاوت ہوتی رہے گی، اُس وقت تک مذہبی انتہا پسندی پر قابو نہیں پایا جا سکے گا، کیونکہ عقل عیار آزادیٔ اظہار کی حمایت میں دلائل کے انبار لگاتی رہے گی۔ اِس حساس مسئلے پر او آئی سی کو مغرب اور بھارت کے ساتھ نہایت سنجیدگی اور دانش مندی سے مکالمہ کرنا اور ایک مناسب لائحہ عمل ترتیب دینا ہو گا جس کے ذریعے گہرے گھاؤ مندمل ہو سکیں اور طاقت کے زور پر مسلم اُمہ کو تاراج کرنے کا سلسلہ بند ہو جائے۔
تازہ ترین