مشرقی افریقا کے ملک ایتھوپیا میں حکومت مخالف مظاہروں کے بعد چھ ماہ کے لیے ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایتھوپیا میں حکومت مخالف احتجاجی مظاہرے گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری ہیں، جس کے دوران متعدد افراد ہلاک ہوچکے ہیں ، جبکہ کارخانوں اور پھولوں کے فارمز کے معمولات بھی شدید طور پر متاثر ہوئے ہیں ،جن میں سے بیشتر غیر ملکی اداروں اور افراد کی ملکیت ہیں۔
گزشتہ ہفتے مظاہرین نے درجنوں گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی تھی، جس کی وجہ سے ان مظاہروں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر مالی نقصان بھی ہوا تھا۔
ایتھوپیا کے صدر ہیل مریم دیسالین نے سرکاری ٹیلی وژن پر اپنے خطاب میں کہا کہ’’ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے کیونکہ صورتِ حال ملکی عوام کے لیے خطرہ بننے لگی ہے۔ ہنگامی حالت کا نفاذ بہت اہم ہے اور امن و استحکام کی بحالی کے لیے یہ اقدام ضروری ہو گیا تھا‘‘