پوری دنیا ایک نئے معاشی اور مالیاتی بحران سے گزررہی ہے۔ پہلی بار ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے ہیں۔ ان حالات میں پاکستان ایسے ممالک کو مختلف قسم کے اندرونی اور بیرونی چیلنجوں کا سامنا ہے جو سیاسی بھی ہیں اور معاشی و اقتصادی بھی ، امن عامہ کی بگڑتی اور پریشان کن صورتحال اس پر مستزاد ہے۔ ہماری موجودہ حکومت کے آنے سے پہلے ملک میں جو اقتصادی حالات تھے وہ کوئی زیادہ تسلی بخش نہیں تھے لیکن عوام کو توقع تھی کہ شاید اب ان کے دن پھر جائیں۔ اس کے باوجود بعض حلقوں کی طرف سے اس خدشے کااظہار کیا جارہا تھا کہ پاکستان کے اقتصادی حالات فوری طور پر ٹھیک ہونے کی توقع نہیں ہے مگر، ہماری بیورو کریسی اور حکمران دونوں یہ بات ماننے کے لئے تیار نہیں تھے۔ ایک طرف وہ یہی اصرار کررہے تھے کہ ہمارے اقتصادی حالات ٹھیک ہیں۔ ہم آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے۔ ملک کے کئی دوسرے حلقوں کی طرف سے بھی یہی کچھ کہا جارہا تھا۔ خود ہم نے انہی کالموں میں ماہ مئی میں لکھا تھا کہ پاکستان میں جس تیزی سے افراط زر کی شرح بڑھ رہی ہے اور روپے کی قیمت کم ہورہی ہے اس کے علاوہ توانائی کے بحران اور دیگر اسباب کے باعث یوں نظر آرہا ہے کہ رواں سال کے آخری ہفتوں میں پاکستان کوآئی ایم ایف سے ضرور رجوع کرنا پڑے گا، مگر اسلام آباد والوں کو یہ بات اچھی نہیں لگی اور وہ اصرار کرتے رہے کہ ہم قطعی طور پر آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے۔ راقم الحروف نے ماہ رمضان میں سابق وزیر خزانہ نوید قمر کا انٹرویو کیا تو انہوں نے بھی یہی موٴقف اختیار کیا جس سے یہ بات سمجھ آگئی کہ اسلام آباد جس چیز کو برسرعام تسلیم نہیں کررہا ہوتا ہے اصل میں اندر سے وہ کررہا ہوتا ہے۔ اب یہ بات واضع ہوگئی ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف کے پاس جارہا ہے جس کے لئے ماہ نومبر کے وسط کے بعد سب حقائق سامنے آجائیں گے۔ تاریخی اعتبار سے پاکستان آئی ایم ایف کے تعلقات جولائی 1950 ء سے قائم ہیں، جب پاکستان آئی ایم ایف کا باقاعدہ ممبر بنا ۔اس وقت امریکہ سمیت پوری دنیا کے188 سے زائد ممالک اس کے ممبر ہیں۔ ہر ملک کی طرف سے آئی ایم ایف کے فنڈز میں اس کے کوٹہ کے تناسب سے ایک رقم جمع کرائی جاتی ہے۔ اس کے تحت پاکستان کا آئی ایم ایف میں کوٹہ10.33 ملین ایس ڈی آر ہے جو کہ ڈالر میں1.477 ملین ڈالر(1.4ارب ڈالر) بنتا ہے۔ اس طرح امریکہ کا کوٹہ 18 ارب ڈالر ہے۔ کوئی بھی ملک اپنے اقتصادی حالات خراب ہونے کی صورت میں آئی ایم ایف سے اس کوٹہ کے مطابق یا اس سے زیادہ قرضہ بھی لے سکتا ہے۔ پاکستان صدر ایوب خان کے دور سے لے کر صدر مشرف کے دور تک آئی ایم ایف سے قرضے حاصل کرتا چلا آرہاہے ۔ مجموعی طور پر پاکستان آئی ایم ایف سے اپنے اقتصادی حالات کی بہتری کے لئے اکیس بار رجوع کر چکا ہے جس میں اکثر پاکستان آئی ایم ایف کو ایک قسط کی ادائیگی کے بعد ڈیفالٹ کرتا رہا ہے۔ اس پس منظر میں پاکستان کو آئی ایم ایف کے حلقوں میں ایک قسط والا ملک کہا جاتا ہے۔ سابق دور میں پاکستان نے پہلی بار مقررہ مدت سے تین ماہ قبل آئی ایم ایف کے قرضہ کا پروگرام مکمل کرکے عالمی مالیاتی اداروں کو حیران کردیا ،تاہم اس کے ساتھ ساتھ پاکستان نے آئی ایم ایف کی تمام32 شرائط بھی پوری کیں۔ اس کے نتیجہ میں پاکستان کے اقتصادی حالات کا جو نقشہ بنا اس کی قیمت ہماری قوم ابھی تک ادا کررہی ہے۔ اب موجودہ حکومت آئی ایم ایف کے پاس جانے کا ارادہ کررہی ہے۔ اس کے ساتھ ہمارے صدر آصف زرداری ،وزیر اعظم گیلانی، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، امریکہ، یورپ ،سعودی عرب، چین، دوبئی، متحدہ عرب امارات کہاں کہاں نہیں گئے ہر جگہ مثبت جواب کی بجائے وعدوں پر کام چلایا جارہا ہے۔
انہی حالات کو دیکھتے ہوئے سینئربنکار شوکت ترین کو وزیر اعظم کااقتصادی امور کا مشیر مقرر کیا گیا اور معیشت کی بحالی کے حوالے سے ساری امیدیں ان سے وابستہ کی گئیں۔ مشیر کا عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد وہ امریکہ گئے جہاں انہوں نے عالمی بنک آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاس میں شرکت کی۔ مسٹر شوکت ترین اور ان کی ٹیم نے عملاً اس وقت آئی ایم ایف کے حکام سے ابتدائی امور پر بات چیت کاآغاز کرلیا تھا لیکن اس کے لئے فنڈ کے حکام کو آگاہ کردیا تھا کہ اس کے لئے پاکستان اپنا اقتصادی پروگرام بنا کر آئی ایم ایف کو بھجوائے گا۔ بعد میں پاکستان نے آئی ایم ایف کے حکام کو اپنا 9نکاتی اقتصادی پروگرام بھی بھجوادیا ۔ آج کل دوبئی میںآ ئی ایم ایف اور پاکستان کے حکام سرکاری لیکن رسمی طور پر نئے قرضے کی بنیادی ترجیحات اور ضروریات پر بات کررہے ہیں جس کے حتمی نتائج اگلے دو ہفتوں میں عملاً سامنے آجائیں گے۔ اس کے بعد پاکستان آئی ایم ایف کے پروگرام میں25ویں بار شامل ہوجائیگا۔ آئی ایم ایف ابتدائی طور پر دو ارب ڈالر دو فیصد سے اڑھائی فیصد شرح سود سے دے گا لیکن اس کے لئے ان کی شرائط کیا ہوتی ہیں اسے پاکستان کیسے مانتا ہے، یہی صدر آصف زرداری اور وزیر اعظم گیلانی کا سب سے بڑا امتحان ہوگا۔ ان کے اقتصادی امور کے مشیر شوکت ترین شاید کڑی شرائط نہ مانیں مگراوپر والے مان سکتے ہیں۔ شوکت ترین کو اگلے سال مارچ میں سینئر اور پھر مکمل وزیر خزانہ بنانے کا فیصلہ بھی ہوچکا ہے لیکن اس کے باوجود اپنے روایتی بیک گراؤنڈ کے پس منظر میں وہ تمام کام اور فیصلے اپنی مرضی ہی سے کریں گے۔
بہرحال پاکستان اپنے اقتصادی بحران کے فوری اور عارضی حل کے لئے آئی ایم ایف سے ضرور رجوع کرے لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ مسلم امہ اور مسلم اتحاد نے پاکستان کی سرپرستی یا اسے مالی بحران سے نکالنے کے لئے کچھ نہیں کیا حالانکہ امریکہ نے کئی بڑے مسلم ممالک پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے انہیں فرینڈز آف پاکستان کا حصہ بنایا لیکن ساتھ ہی انہیں اشارہ دے دیا کہ پاکستان کو براہ راست کوئی پیسہ یا چیک نہیں دینا۔ اس وقت پاکستان کے جوپریشان کن اقتصادی حالات ہیں اس کے پس منظر میں ایک مطالبہ تو ہمارے سیاسی حلقوں کی طرف سے کیا یہ جارہا ہے کہ صدر آصف زرداری اپنے فیملی اثاثے یہاں منتقل کردیں ۔ ہمارے خیال میں اس میں تمام سابق صدور اور وزرائے اعظم بشمول صدر مشرف اور میاں نواز شریف ،شوکت عزیز سب یہ کام کردیں تو ہمیں عالمی سطح پر کشکول لے کر ملک ملک نہ جانا پڑے۔ مسلم ممالک پاکستان کی مدد کب کریں گے۔ کیا پاکستان برادر مسلم ممالک کی صف میں شامل نہیں؟کیا پاکستان دہشت گردی کے خلاف امریکہ کا اتحادی نہیں ہے؟کیاپاکستان نے امریکہ کی خواہش پر اپنے لوگ ”دہشت گرد “کے نام امریکہ کے حوالے نہیں کئے؟کیا پاکستان نے اپنی سلامتی کے تحفظ کے فیصلے امریکہ کی مرضی اور پالیسی کے پس منظر میں نہیں کئے؟کیا پاکستان نے فلسطین اور کشمیر کے مسئلہ میں ہمیشہ ا مریکی موٴقف اختیار نہیں کیا؟کیا پاکستان نے کبھی امریکہ کے اکنامک آرمز عالمی بنک، آئی ایم ایف اور دوسرے عالمی اداروں کی تمام شرائط کو ماننے سے عملاً انکار کیا؟کیا پاکستان نے ہمیشہ عالم اسلام کے اتحاد کے معاملات میں ہمیشہ وہی موٴقف اختیار نہیں کیا جو امریکہ چاہتا ہے، اگر یہ سب کچھ صحیح ہے تو پھر ہمارے دیگربرادر اسلامی ممالک جو کہ امریکہ کے حامی، دوست اور اس کے زیر اثر ہیں تو پھر ان کی طرف سے پاکستان کو موجودہ اقتصادی بحران سے نکالنے میں وہ اپنا کردار ادا کیوں نہیں کرتے۔ اسلامی ترقیاتی بنک پاکستان کو ٹریڈ سپورٹ کے لئے پہلے300 ملین ڈالر دیتا تھا۔ اب اسے 500 ملین ڈالر کردیا گیاہے۔ اس کے علاوہ سعودی عرب میاں نواز شریف کے دور میں پاکستان کو ادھار پر تیل فراہم کرچکا ہے۔ اب کی بار اس حوالے سے بھی مکمل خاموشی ہے ۔ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ ہم اپنے پاؤں پر خود کیسے کھڑے ہوسکتے ہیں اس سے ہماری قومی اور اقتصادی خود مختاری اور سلامتی کو درپیش خطرات خودبخود ختم ہوسکتے ہیں۔