ویسے توسالٹ رینج کی کہون وادی میں لگنے والے سیمنٹ کے تین دیوہیکل پلانٹس فضا کو زہر آلود کرنے کے لئے کم نہ تھے لیکن پنجاب حکومت نے دونئے پلانٹس کے اجازت نامے جاری کردئیے ہیں۔ ان میں سے ایک چوسیدان شاہ کے نزدیک ایک گائوں کھجولہ کے نزدیک اور دوسرا سطح مرتفع ونہار پر بچل کلاں کے نزدیک ہے۔ جب یہ دونوں پلانٹس بھی کام شروع کردیں گے تو خدا کی پناہ، فطرت کی صناعی کا شاہکاراس وادی کی جلد تباہی ناگزیر ہوگی۔
کھجولہ کے نزدیک پلانٹ لگانے کے اجازت نامے پر پھر کبھی بات ہوگی، میں اس اتوار کو بچل گیا اور وہاں بپا ہونے والی شیطانی تباہی(اور کوئی لفظ اس کو بیان نہیں کرسکتا) کو اپنی آنکھوںسے دیکھا۔ ترقی کے جنون کو ایک طرف رکھیں، تو بھی سیمنٹ ایک ضرورت ہے ، اس کے بغیر ہمارا گزارہ نہیں۔ سڑکوں، پلوں، ہائی ویز اور بلندوبالا عمارتوں کی تعمیر سیمنٹ کے بغیر ممکن نہیں، لیکن پاکستان اپنی ضرورت سے زیادہ سیمنٹ پیدا کررہا ہے۔ زائد از ضرورت سیمنٹ کو برآمد کیا جاتا ہے، اور اس کا زیادہ تر حصہ افغانستان کو جاتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ کابل میں ہونے والی تعمیر ات کے لئے چکوال کے پانی، چکنی مٹی اور چونے کے پتھر کو نقصان پہنچایا جارہا ہے۔ چلیں یہ بھی تسلیم کہ برآمدکرنا بھی لازمی تھا، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ہم پہلے ہی اپنی ضرورت سے زیادہ سیمنٹ پیدا کررہے ہیںاور یہ کراچی اسٹاک ایکسچینج کی بلند سطح کی اشیاء میں شمار ہوتا ہے، تو ہم مزید سیمنٹ سازی کے لئے اپنے ماحول کو آلودہ کرنے اور اپنی پہاڑیوں کو تباہ کرنے پر کیوں تلے ہوئے ہیں ؟اس میں کوئی معقولیت دکھائی نہیں دیتی۔ وجہ یہ ہے کہ فطرت کی تباہی سے بھاری نفع حاصل ہوتا ہے، چنانچہ سیمنٹ مافیا پھل پھول رہا ہے اور اس صنعت میں نفع کی ہوش ربا شرح دیکھ کر دیگر صنعتی گھرانوں کے منہ میںبھی پانی آنا لازمی تھا، اس لئے وہ بھی کیک میں سے اپنا حصہ چاہتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا سیمنٹ سازی قومی ضرورت کو مد ِ نظر رکھتے ہوئے کی جانی چاہئے یا صنعت کاروں کی لالچی فطرت کو تسکین پہنچانے کے لئے ؟اس سے ہونے والی تباہی کو بیان کرنے کے لئے اتناکہنا ہی کافی ہے کہ جہاں سے سیمنٹ بنانے کے لئے چونے کا پتھر نکالا جاتا ہے، وہ لینڈ اسکیپ ایسا ہوجاتا ہے جیسے وہاں ایٹم بم گرا ہو۔ تمام سبزہ ختم، زمین کٹ جاتی ہے اور لامتناہی وقت تک، شاید ہمیشہ کے لئے وہ زمین بنجر ہوجاتی ہے اور آنکھیں ترقی کے اس ثمر کو دیکھ کر شرمندگی سے آب آب رہتی ہیں۔ پہاڑی سلسلے کے اُس پار، انسانی آبادیوںسے دور ، چونے کا پتھر نکالا جاسکتا ہے، لیکن وہاںسے نہیں جہاں لوگوں نے رہنا ہو، گائوں آباد ہوں اور وہاں کے آبی ذخائر لوگ صدیوںسے استعمال کررہے ہوں۔ ایسے مقامات پر سیمنٹ کے پلانٹ لگانا تباہی سے بھی بڑھ کر، ظلم کے زمرے میں آتا ہے۔
کہون وادی کے تینوں دیوہیکل پلانٹس بیس سے تیس ہزار ٹن یومیہ سیمنٹ تیار کررہے ہیں۔یہ صرف فطرت کی تباہی نہیں، انسانیت کی تذلیل بھی ہے۔ بہت ہی بدقسمت دن تھا وہ جب یہ پلانٹ یہاں لگائے گئے تھے۔ یاد ہے کہ فطرت کو تاریک کردینے والے اس منصوبے کے پیچھے کون سی تاباں شخصیات تھیں؟ جنرل پرویز مشرف، وزیر ِاعظم شوکت عزیز ،وزیر ِاعلیٰ پنجاب، چوہدری پرویز الہٰی، جنھوں نے لینڈ ایکوزیشن ایکٹ پر عمل درآمد کرانے کے لئے پنجاب کانسٹیبلری بھجوائی تھی ، اور اُس وقت کے ضلع ناظم۔ کیا خادم ِاعلیٰ ان افراد کی قائم کردہ مثال کی پیروی کرنا چاہتے ہیں؟ سطح مرتفع ونہاروہ علاقہ ہے جہاں آپ موٹر وے چھوڑ کرکلر کہار میں داخل ہوتے ہیں۔ خوشاب جانے والی سڑک اس میں سے گزرتی ہے۔ اس علاقے کی خوبصورتی سے لطف اٹھانے کے لئے ایک مرتبہ یہاں خود آکر دیکھیں، موسم ِسرما میں شایدہی کوئی مقام اس سے بڑھ کر خوبصورت ہو۔ موسم ِگرمامیں یہ مری اور ہمالیہ کی ترائیوں کو چھوڑکر پنجاب کاسب سے خنک مقام ہوتا ہے۔ ونہار کی سب سے بڑی آبادی بچل کلاں ہے اور اس کے بالمقابل وہ عظیم الشان سیمنٹ پلانٹ لگایا جاناہے جس کی منظوری ایک گروپ نے حاصل کر لی ہے۔ یہاںسے ایک گہری وادی ہے جسے اگر میں سوئٹزرلینڈ یا کوہ الپس کی وادیوں سے تشبیہ دوں تو مبالغہ آرائی نہیں ہو گی۔ اس کے نیچے سارکلاں نامی گائوں ہے۔ وادی کے شمال میں مارتن اور مکھیل نامی گائوں ہیں۔ جنوب اورجنوب مغرب میں سیٹھی، نور پوراور کچھ دیگردیہات ہیں۔ جب سطح کے اوپری حصے پر یہ پلانٹ لگے گا تو نیچے کا تمام قدری منظر تباہ ہونا شروع ہوجائے گا۔ اس سے نکلنے والی خطرناک گیسیں ماحول کو زہر سے بھرنا شروع کردیں گی اور ترقی کے نام پر بیماریاں پھیلنے لگیں گی۔
سیمنٹ پلانٹ لگانے کے لئے ہمارے پاس جادوبھری دلیل موجود ہے۔ صنعتی گروپ کہتا ہے کہ وہ سرمایہ کاری لارہے ہیں۔ درست ، لیکن کن کے لئے ؟اس سرمایہ کاری سے مقامی افراد کا کیا بھلا ہوگا؟ کہا جاتا ہے کہ اُنہیں روزگار ملے گا، لیکن یہ درست نہیں ہے، کیونکہ لگائے جانے والے پلانٹ انتہائی جدید ہیں۔ ان میں کام کرنے والی مشینیں خود کارہیں، جن پر بہت کم عملے کی ضرورت ہوگی۔ ہوسکتا ہے کہ مقامی افراد میں چند ایک چوکیدار وںیا مالیوں یا ملازم لڑکوں کے طور پر کام کرتے دکھائی دیں۔ اس کے بعد ایک یا دوپٹرول پمپ ہوں گے اور ٹرکوں کی طویل قطاریں دکھائی دیںگی۔ چونکہ ٹرک ڈرائیوروں کا تعلق دیگر علاقوںسے ہوگا، اس لئے اُن کے ساتھ ایک نیا کلچر یہاں آئے گا، کچھ منشیات کی فروخت اور اسی قسم کی کچھ بیماریاںبھی سراٹھاتی دکھائی دیںگی۔ یہ ہے وہ ترقی جو یہاں ہونے جارہی ہے ،اور اس کے ساتھ ہی یہاں موجود جنت ہمیشہ کے لئے تباہ ہوجائے گی۔ ونہار کے سینے پر لگنے والا یہ زخم کبھی مندمل نہیں ہوپائے گا اور یہ وادی ، جس کے کڑیل جوان پاک فوج میں خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں، ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ترقی کے نئے حقائق تلے دب جائے گی۔میں اس کالم کے ذریعے کسی منصوبے پر حملہ آور ہونے یا پوائنٹ اسکور کرنے کی کوشش نہیں کررہا،لیکن جب کوئی غلط کام ہورہا ہو تو اس کا مداوہ کرنے کی تجویز پیش کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ اس وقت ہمارے وزیر ِاعظم کی نگاہ بہت سی اچھی چیزوں پر ہے۔ اُنہیں دیکھنا چاہئے کہ مشرف دور میں وادی کہون اجڑچکی ہے ، تو کیا اب وزیراعظم نواز شریف اپنی نظروںکے سامنے ونہار کی تباہی کی اجازت دیں گے۔ مریم نوازصاحبہ سوچ سمجھ رکھنے والی خاتون ہیں، وہ بہت سے امور سرانجام دینے کی کوشش میں رہتی ہیں، تو کیا بہتر نہیں کہ وہ ایک مرتبہ خود اس وادی میں آئیں اپنی آنکھوں سے ان تمام معاملات کا جائزہ لیں۔ اسلام آباد سے یہاں تک کی صرف دوگھنٹے کی مسافت ہے (میں اُنہیں یقین دلاتا ہوں کہ جب وہ یہاں تشریف لائیں گی تو میں یہاں نہیں ہوں گا)۔ تاہم سب سے بھاری ذمہ داری خادم ِاعلیٰ پر عائد ہوتی ہے۔
گورنر اور منصب دار آتے جاتے رہتے ہیں۔ گزشتہ دنوں، میں لاہور کی شاہ عالم مارکیٹ میں محمودغزنوی دور کے لاہور کے گورنر، ملک ایاز کی قبر پر گیا۔ ایاز ایک مشہور شخصیت تھے ، لیکن اب اُن کامقبرہ ایک تنگ جگہ پر واقع ہے۔ ہم اس دنیا میں مختصر وقت کے لئے آتے ہیں پھر یہاں سے ہمیشہ کے لئے چلے جاتے ہیں، لیکن ، جیسا کہ ایک شاعر کا کہنا ہے کہ ہماری برائیاں یہاں موجود رہ جاتی ہیں۔ اب جبکہ پرویز مشرف اور ان کے موقع پرست وزیرِاعظم اپنے اپنے اقتدار سے رخصت ہوچکے ، ان کی وادی ٔ کہون میں پھیلائی جانے والی بربادی اپنی جگہ پر موجود ہے، اور شاید ہمیشہ موجود رہے گی۔ کیا خادم ِاعلیٰ بھی چاہتے ہیں کہ اُن کا نام بھی ونہار کی تباہی کے ساتھ انمٹ ہوجائے۔ میں نے سالٹ رینج کے ایک کنارے پر غریب وال سیمنٹ کے نزدیک چونے کے پتھر کی پہاڑیاں دیکھی ہیں۔
اب ایسا لگتا ہے کہ جیسے وہاں اسٹاروار ہوئی تھی۔ کیا ونہار کی بھی یہی قسمت ہوگی؟پنجاب کے وزیر ِاعلیٰ ’’اسپیشل برانچ ‘‘کو انکوائری کا حکم دینے کے عادی ہیں، اُن سے التماس ہے اپنی اسپیشل برانچ سے ونہار میں مجوزہ سیمنٹ پلانٹ سے ہونے والی تباہی کا اندازہ لگانے کا کہیں۔ یہاں میں ایک اہم نکتہ بھول رہا ہوں، لیز پر لی گئی تمام زمین نجی ملکیت میں ہے ، صوبائی حکومت اسے کس طرح حاصل کرے گی؟ میں میڈیا میں تمام دوستوں، کامران خان، عارف نظامی، کامران شاہد، ارشاد عارف، رئوف کلاسرا، نسیم زہرہ، عاصمہ شیرازی ، طلعت حسین، مجاہد بریلوی، کاشف عباسی، مہربخاری، ڈاکٹر دانش اور دیگر تمام احباب سے گزارش کرتا ہوں کہ اس مسئلے کو قومی ذمہ داری سمجھتے ہوئے اجاگر کریں۔ جمہوریت کو درد ِجگر بنالینے والے مخلص دوستوںسے بھی التماس ہے کہ ایک نظر ادھر بھی۔اپنے دیرینہ دوست، محترم عرفان صدیقی سے توقع ہے کہ وہ اس مسئلے کو وزیر ِاعظم ہائوس تک پہنچائیں گے۔ اگر ونہار کے باشندے احتجاج کرنے لاہور پریس کلب آئیں تو صدر ارشد انصاری صاحب سے گزارش ہے کہ اُنہیں خوش آمدید کہتے ہوئے اُن کا احتجاج ریکارڈ کریں۔