• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
شادیوں کے موسم میں مرگ پر کالم لکھنا ایسے ہی ہے جیسے کسی’’ کن ٹُٹےینگ ڈاکٹر ‘ ‘ کو کہا جائے کہ وہ اخلاقیات پر مضمون لکھے۔ضرورت اس لئے پیش آئی کہ گزشتہ دنوں ایک جنازے پر جانا پڑ گیا ، میت والے گھرکے باہر شامیانے کے نیچے چند کرسیاں رکھی تھیں، تعزیت کی غرض سے آنے والے وہاں جنازے کا انتظار کر رہے تھے،کچھ دیر بعد کسی کونے سے آواز بلند ہوئی کہ جنازے کا وقت ہو گیا ہے ، ساتھ ہی عورتوں نے بلند آواز میں بین ڈالنا شروع کر دیا ، مردوں نے جنازہ کندھوں پر اٹھایا اور کلمہ پڑھتے ہوئے قریبی مسجد کی طرف چل پڑے جہاں نماز جنازہ پڑھائی جانی تھی ۔ وہاں پہنچنے پر کسی نے کہا کہ میت مسجد کے اندر لے جا کر جنازہ پڑھنا چاہئے مگر فوراً ہی کچھ لوگوں نے اختلافی نوٹ رجسٹر کروایا کہ ایسا کرنا جائز نہیں ، کچھ دیر ’’دوستانہ ‘ ‘ بحث ہوتی رہی، بالآخر یہ طے پایا کہ میت باہر ہی رکھی جائے گی ، پہلے نماز عصر ادا کی جائے گی ، اس کے بعد نماز جنازہ پڑھائی جائے گی ۔جنازہ پڑھنے والوں کی تعداد اب نصف رہ گئی تھی۔ وہاں سے قبرستان کچھ دور تھا اس لئے میت گاڑی کا انتظام کیا گیا تھا، چند قریبی رشتہ دار اپنی اپنی سواری میں ساتھ ہولئے ، قبرستان پہنچتے پہنچتے یہ تعدا د گھٹ کر ایک چوتھائی سے بھی کم رہ گئی۔گورکن ابھی قبر کھود رہا تھا، روشنی کم ہو چکی تھی مگر ایک بلب کا انتظام تھا، کچھ دیر میں قبر تیار ہو گئی اور میت کو دفن کرنے کا مرحلہ درپیش ہوا ، جو لوگ وہاں موجود تھے انہوں نے اپنے علم اور تجربے کے مطابق مشورے دینے شروع کئے لب لباب جن کا یہ تھا کہ میت کو عین شرعی طریقے کے مطابق دفنایا جائے ، طرح طرح کی آوازیں اوورلیپ ہونی شروع ہوئیں ،کسی نے اپنے موبائل فون سے اس تمام عمل کی فلم بھی بنانی شروع کر دی، آخر کار میت کو قبر میں اتارا گیا ، مٹی ڈالی گئی ، پھول رکھے گئے ، اگر بتی جلائی گئی ، دعا کی گئی اور پھر یہ لوگ واپس ہو لئے ۔مرگ والے گھر واپس آنے والے لوگ اب چار پانچ سے زیادہ نہیں تھے،کچھ دیر بعد وہ بھی یہ کہہ کر رخصت ہو گئے کہ ’ ’ گھبرانا نہیں ، ہم آپ کے ساتھ ہیں ، کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتایئے گا ‘ ‘ ۔ اب گھر میں صرف مرنے والے کی بیوہ تھی اور اس کی جوان بیٹی۔ماں بیٹی نے چند لمحوں تک ایک دوسرے کو خالی خالی نظروں سے دیکھا اور اچانک ایک دوسرے کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا۔ مرنے والا تو جا چکا تھا مگر ان ماں بیٹی کی موت کا سفر ابھی شروع ہوا تھا۔
’’موت کا منظر، مرنے کے بعد کیا ہوگا؟ ‘ ‘ ٹائپ کتابیں بتاتی ہیں کہ مرنے کے بعد فوت ہونے والے شخص سے کیسا سلوک کیا جائے گا مگر کوئی ایسی کتا ب میری نظر سے نہیں گزری جو یہ بتاتی ہو کہ ایک مڈل کلاس شخص کے مرنے کے بعداس کے لواحقین پر کیا گزرتی ہے !سرکاری ملازم کی بیوہ کو تو پنشن کی مد میں چار پیسے مل ہی جاتے ہیں جس سے بہرحال وہ پیاز کے ساتھ روٹی کھانے کی عیاشی کرسکتی ہے مگر جو غریب روزانہ کی بنیاد پر اپنا گھر چلاتا تھا یا جو سفید پوش کسی نجی کمپنی میں ملازم تھا جس کے سیٹھ نے بیوہ کے نام تعزیتی خط کے ہمراہ ایک ماہ کی تنخواہ کا چیک بھیج کر اپنے تئیں جنت میں گھر پکا کروا لیا، اس کے لواحقین اب باقی ماندہ زندگی کیسے گزاریں گے ! یہ سوال اگر کسی آزاد خیال دانشور سے پوچھیں تو وہ کہے گا کہ جب تک اس ملک میں شراب سے پابندی نہیں ہٹائی جائے گی تب تک کچھ نہیں ہو سکتا، یہ سوال اگر کسی مذہبی دانشور سے پوچھیں تو وہ کہے گا گہ جب تک ملک سے فحاشی کا خاتمہ نہیں ہو گا تب تک کچھ نہیں ہو سکتا، یہ سوال اگر کسی ماہر معیشت سے پوچھیں تو وہ کہے گا کہ ہماری اصلاحات سے عام آدمی کو فائدہ ہوا ہے اگر یہ بیوہ بھی عام آدمی ہے تو اسے بھی فائدہ ہو گا، یہ سوال اگر متعلقہ سرکاری افسر سے پوچھیں تو اس کا جواب ہو گا کہ میں نے تو نوٹ پُٹ اپ کر دیا تھا ، منظوری نہیں ہوئی، یہ سوال اگر کسی عالم دین سے پوچھیں تو وہ کہے گا کہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے اور اگر یہی سوال کسی حکومتی عہدے دار سے پوچھا جائے تو وہ مسکرا کر اسے آؤٹ آف کورس قرار دے کر آگے بڑھ جائے گا۔اور اگر مجھ ایسے بندے سے کوئی یہ سوال پوچھے تو میرا جواب ہوگا میاں تم کون سا سوال لے کر آ گئے ،ہمارے ذمے اس سے کہیں زیادہ اہم سوالوں کے جواب تلاش کرنا ہیں ،مثلاً ہم نے قوم کو یہ بتانا ہے کہ امریکی اشیر باد سے بننے والا نیا اتحاد داعش کے خلاف ہے یا مسلم امہ کو لڑانے کی سازش، شام میں عالمی طاقتوں سے کہاں کہاں بھول چوک ہو رہی ہے اور کالموں میں دیئے گئے میرے سنہری مشوروں پر عمل نہ کرنے کی صورت میں یہ احمق عالمی لیڈران کس قدر بھاری نقصان اٹھائیں گے !
اس ملک کی آبادی اٹھارہ کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے ، یہ وہ ٹائم بم ہے جس کی پن نکالنے کا کسی کو ہوش ہے نہ اس اژدھے پر قابو پانے کی حکمت علمی کسی حکومتی ریڈار پر ہے، نصف سے زیادہ آبادی عورتوں پر مشتمل ہے اور ان میں سے بھی اکثریت ہنر مند یا تعلیم یافتہ نہیں (ویسے تو مردوں کا بھی یہی حال ہے ) ، یہ خواتین اپنی زندگی گزارنے کے لئے کسی نہ کسی شکل میں مردوں کی محتاج ہیں چاہے وہ ان کے والد ہوں ، بھائی ، شوہر یا اولاد۔اور جب ان میں سے کوئی کمانے والا چلا جاتا ہے تو یہ خواتین اس سفاک معاشرے کے رحم و کرم پر ہوتی ہیں ، ذرا ایک لمحے کے لئے تصور کریں کہ جس معاشرے میں اچھی خاصی پڑھی لکھی باشعور اور ملازمت پیشہ خواتین کو ہراساں کیا جاتا ہو ، انہیں قدم قدم پر ایسے مردوں سے واسطہ پڑتا ہو جو بھری میٹنگ میں معنی خیز جملے ان پر اچھالتے ہوں اور ان کے پاس سوائے سر جھکا کر سننے کے کوئی آپشن نہ ہو ، وہاں ایک ان پڑھ اور غیر ہنر مند عورت کا کیا حال ہوتا ہوگا یہ جاننے کے لئے کسی آزاد خیال لکھاری ، مذہبی دانشور ، عالم دین، ماہر معاشیات، سرکاری افسر یا حکومتی وزیر سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں ۔بے شک ایک بیوہ نادار عورت کا نان نفقہ ریاست کی ذمہ داری ہے مگر کوئی بھی ریاست خاص طور پر اٹھارہ کروڑ لوگوں کا ملک یہ ذمہ داری نہیں نبھا سکتا جب تک اس کام کے لئے اس کے پاس پیسے نہ ہوں ، اور یہ پیسے عوام نے ریاست کو دینے ہوتے ہیں جس سے ریاست کا نظم و نسق چلتا ہے ۔ لیکن یہ اس مسئلے کا ایک پہلو ہے ، دوسرا پہلو سماجی ہے ، ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کی تعلیم اور ملازمت کے حق کو با امر مجبوری قبول تو کر لیا گیا ہے مگر یہ حق مردوں کی مرضی کے ساتھ مشروط ہے ۔اگر شوہر کہہ دے کہ ملازمت کی ضرورت نہیں ، تم بچے پالو تو عورت کو یہی کرنا پڑے گا۔ شہروں سے باہر تو صورتحال مزید ابتر ہے ، لڑکیاں اگر رو پیٹ کر دس بارہ جماعتیں پڑھ بھی لیں تو بالآخر گھر میں روٹیاں ہی پکائیں گی، ایسا ایسا ٹیلنٹ ہم اس نصف آبادی کا ضائع کر رہے ہیں جس سے الٹا معاشرے کے بوجھ میں اضافہ ہورہا ہے ، اگر اس نصف آبادی کا نصف بھی تعلیم یافتہ ہو کر ملازمت یا کاروبار میں اپنا حصہ ڈالنا شروع کر دے تو صرف اس ایک کام سے یہ ملک سرپٹ دوڑ سکتا ہے ۔اور اگر ہم یہ نہیں کر سکتے تو پھر چاہے مرد کی نماز جنازہ میں کوئی بھی دعا مانگ لیں ، اس بیوہ کے درد کا درماں نہیں ہو سکے گا جس کے گھر سے وہ جنازہ اٹھا تھا۔
تازہ ترین